پاکستانی عوام کیلئے 5G سروسز کب سے دستیاب ہوں گی؟

 

 

 

چھوٹی عید پر بڑی خوشخبری، عوام کیلئے 5جی سروسز کی صورت میں تیز ترین انٹرنیٹ کی راہ ہموار ہو گئی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے عید سے قبل 5G سروس کے آغاز کا فیصلہ کرتے ہوئے تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں جیز، زونگ اور یوفون کو لائسنسز کے اجراء کا عمل تیز کر دیا ہے۔ اس اقدام کے بعد رواں ہفتے ہی صارفین کو تیز رفتار اور جدید انٹرنیٹ کی سہولت ملنا یقینی ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب یہ ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب طویل عرصے کی تیاری اور تاخیر کے بعد حکومت نے فائیو جی سپیکٹرم کی بڑی نیلامی کامیابی سے مکمل کی۔ اس نیلامی میں ملک کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں جیز، یوفون اور زونگ نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم حاصل کیا۔ ماہرین کے مطابق اس نیلامی کے ذریعے جہاں حکومت کو تقریباً 510 ملین ڈالر کا ریونیو حاصل ہوا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ مستقبل میں تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل معیشت، فری لانسنگ اور ای کامرس کے شعبوں میں بھی نئے مواقع پیدا ہونے کی راہ بھی ہموار ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے 5G سپیکٹرم کی تاریخی نیلامی مکمل کرنے کے بعد لائسنس جاری کرنے کا عمل بھی تیز کر دیا ہے تاکہ عید سے قبل 5 جی سروسز کی عوام کیلئے دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔ لائسنس کے اجراء سے قبل ٹیلی کام کمپنیوں کو 15 ملین ڈالر کی بینک گارنٹی جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک کمپنی نے یہ گارنٹی پہلے ہی جمع کروا دی ہے، جبکہ باقی دو کمپنیوں کی گارنٹیز جلد موصول ہونے کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی اے کی جانب سے تینوں کمپنیوں کو بیک وقت لائسنس جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ سروس کا فوری آغاز ممکن ہو سکے۔ پی ٹی اے حکام کے مطابق جیسے ہی تمام گارنٹیز موصول ہوں گی، پی ٹی اے تمام قانونی تقاضوں کی توثیق کرے گا اور اگلے ہی دن لائسنس جاری کر دیے جائیں گے۔

 

پی ٹی اے حکام نے تصدیق کی ہے کہ جیز، یوفون اور زونگ تینوں بڑے آپریٹرز 5G سروسز کے فوری آغاز کے لیے تیار ہیں۔ لائسنس ملنے کے بعد تینوں کمپنیاں پائلٹ پروجیکٹس کے طور پر اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں اپنی 5 جی سروسز کا آغاز کر دیں گی۔ ابتدائی طور پر ڈاؤن لوڈ سپیڈ 50 سے 100 ایم بی پی ایس ہوگی، جو آہستہ آہستہ بڑھائی جائے گی۔ مکمل کمرشل رول آؤٹ اگلے 4 سے 6 ماہ میں ممکن ہوگا، یعنی جولائی تا ستمبر 2026 تک ملک کے بیشتر علاقوں میں 5G سروس دستیاب ہو جائے گی۔ پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ تینوں کمپنیوں کو 5G سروس کے فوری آغاز کے لیے تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی ہدایت دی جا چکی ہے اور کسی بھی کمپنی کی تاخیر یا منصوبے میں کمی کی صورت میں بینک گارنٹی کا متعلقہ حصہ ضبط کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق 5G کی آمد سے انٹرنیٹ کی رفتار میں 4G کے مقابلے میں 5 سے 25 گنا اضافہ متوقع ہے، جس سے کاروبار، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، مصنوعی ذہانت پر مبنی ایپلیکیشنز اور صنعتی آٹومیشن میں نئی ترقی کے مواقع پیدا ہوں گے۔ بہتر اور تیز رفتار انٹرنیٹ پاکستان میں فری لانسنگ، ای کامرس اور دیگر آن لائن کاروباروں میں بھی انقلاب برپا کرے گی۔تیز رفتار انٹرنیٹ کے ذریعے آئی ٹی ایکسپورٹس میں اضافہ، آن لائن کاروباروں کی ترقی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے سپیکٹرم کے اضافے سے ملک میں انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار میں واضح بہتری آئے گی،ماہرین کے مطابق نیلامی کے نتائج کو دیکھا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کی تین بڑی ٹیلی کام کمپنیوں نے مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز سپیکٹرم خریدا ہے۔ اس میں جیز نے 190 میگا ہرٹز، یوفون نے 180 میگا ہرٹز جبکہ زونگ نے 110 میگا ہرٹز سپیکٹرم حاصل کیا۔ ان اعدادوشمار سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ سپیکٹرم جیز کے پاس ہے تو لامحالہ اس کے انٹرنیٹ کی سپیڈ باقی دونوں کمپنیوں سے زیادہ ہو گی۔ تاہم حکام کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کی یہ ایک بڑی سپیکٹرم نیلامی ہے جس سے موبائل نیٹ ورک کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔

حکومت سے علیحدگی کی دھمکیاں دینے والی MQM رام کیسے ہوئی؟

خیال رہے کہ پاکستان میں فائیو جی متعارف کرانے کا منصوبہ کئی برسوں سے زیر غور تھا۔ ابتدائی طور پر 2022 میں اس کی نیلامی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم قانونی تنازعات، پالیسی منظوری میں تاخیر اور ٹیلی کام سیکٹر کے مالی مسائل کے باعث یہ منصوبہ کئی بار مؤخر ہوتا رہا۔ حکومتی حکام کے مطابق بالآخر اسپیکٹرم سے متعلق قانونی معاملات حل ہونے کے بعد نیلامی کا عمل مکمل کیا گیا جس کے بعد اب ملک میں فائیو جی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ماہرین کے بقول اگر پاکستان اس ٹیکنالوجی سے مؤثر فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پیشرفت نہ صرف ٹیکنالوجی کے شعبے بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی ایک گیم چینجز ثابت ہو سکتی ہے۔

 

Back to top button