6 برس کے انتظار کے بعد فائیو جی ٹیکنالوجی لانے کی تیاری مکمل

بار بار کی عہد شکنیوں، 6 سال کے لمبے انتظار اور بلندوبانگ دعوؤں کے بعد پاکستانی عوام کے لیے 5جی سروس کی راہ ہموار ہوگئی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فروری 2026 میں 5 جی سپیکٹرم کا آکشن کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد صارفین کو تیز ترین انٹرنیٹ کی دستیابی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ تاہم پی ٹی اے حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ملک بھر میں 5جی سروس متعارف کرانے کے بجائے لاہور، کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور کے منتخب اور محدود علاقوں میں 5جی سروس فراہم کی جائے گی، جس کے بعد مرحلہ وار انداز میں 5جی سروسز کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔
خیال رہے کہ فائیو جی ٹیکنالوجی سے مراد موبائل انٹرنیٹ کی پانچویں جنریشن ہے، جس کے آنے سے صارفین کو نہ صرف تیز رفتار انٹرنیٹ میسر آئے گا بلکہ اس کے کئی دیگر فوائد بھی ہوں گے۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صارفین ہائی ڈیفینیشن، یعنی بہترین کوالٹی کی وائس اور ویڈیو کالز آسانی سے کر سکیں گے۔اس کے علاوہ آن لائن ویڈیوز بفرنگ کے بغیر اعلیٰ کوالٹی میں دیکھی جا سکیں گی، جبکہ آن لائن گیمز کھیلنے والے صارفین کو سست انٹرنیٹ کی وجہ سے پیچھے رہ جانے کے مسئلے سے بھی نجات ملے گی۔ مجموعی طور پر 5جی ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کے استعمال کو زیادہ تیز، ہموار اور بہتر بنا دے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان میں 5جی متعارف کرانے کی بات کوئی نئی نہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف حکومتیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور وزارتِ آئی ٹی اس حوالے سے بارہا ٹائم لائنز دیتی رہی ہیں، مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ کمیونیکیشن پالیسی میں تاخیر، اسپیکٹرم کی قیمتوں پر اختلاف، معاشی مشکلات، ڈالر کی بلند شرح اور ٹیلی کام کمپنیوں کے تحفظات کے باعث 5جی آکشن بار بار مؤخر ہوتا رہا۔ اب ایک بار پھر حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رمضان سے قبل 5جی آکشن کی تیاری آخری مراحل میں ہے، جس کے بعد عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ کیا اس بار حکومتی اعلان حقیقت بن پائے گا یا یہ دعویٰ بھی ماضی کی طرح ایک اور نامکمل وعدہ ثابت ہوگا؟
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق 5جی آکشن سے متعلق تمام بنیادی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور اسپیکٹرم آکشن کا عمل جلد حتمی شکل پا لے گا۔ 5جی نیٹ ورک کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اسے مرحلہ وار اور آسانی سے توسیع دی جا سکے، جبکہ کوالٹی آف سروس کے لیے کم از کم معیارات بھی واضح طور پر طے کر دیے گئے ہیں۔ ڈی جی لائسنس کے مطابق آکشن سے قبل 5جی نیٹ ورک، ٹیکنالوجی، کوالٹی سٹینڈرڈز اور رول آؤٹ اسٹریٹجی پر تفصیلی کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ ٹیلی کام آپریٹرز نے بھی اس عمل میں مثبت دلچسپی ظاہر کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ تمام انتظامی اور تکنیکی تیاریاں مکمل ہیں، اس لیے 26 فروری کو 5جی اسپیکٹرم آکشن ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ 5جی کا آکشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سپیکٹرم آکشن ہوگا، جس میں تقریباً 600 میگا ہرٹز سپیکٹرم نیلامی کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس آکشن سے حکومت کو کم از کم 630 ملین ڈالرز ریونیو حاصل ہوگا۔
لاہور اور اسلام آباد میں 5 انچ تک برف باری ہونے کا امکان؟
پی ٹی اے حکام کے مطابق 5جی لانچ کے ساتھ ساتھ 4جی نیٹ ورک کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری لائی جائے گی۔ آکشن کے بعد آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ 4جی نیٹ ورک کی رفتار اور معیار میں کم از کم 4 سے 5 گنا اضافہ کریں، پی ٹی اے کے مطابق 5جی سروس کا آغاز محدود اور مرحلہ وار بنیادوں پر کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں 5جی بڑے شہروں اور منتخب علاقوں میں متعارف کرائی جائے گی، جہاں 5جی ڈیوائسز رکھنے والے صارفین کی تعداد زیادہ ہے۔ابتدائی طور پر اسلام آباد میں بلیو ایریا اور ایف 10، کراچی میں ڈیفنس اور کلفٹن جبکہ لاہور اور دیگر صوبائی دارالحکومتوں کے اہم کمرشل علاقوں کو رول آؤٹ میں شامل کیا جائے گا۔ پہلے سال ٹیلی کام آپریٹرز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ اپنے موجودہ نیٹ ورک سائٹس کے کم از کم 10 فیصد پر 5جی سروس فراہم کریں۔
حکام کا کہنا ہے کہ 5جی سروس ایک دم پورے ملک میں لانچ نہیں کی جائے گی بلکہ اسے بتدریج توسیع دی جائے گی، تاکہ مارکیٹ میں طلب، ڈیوائسز کی دستیابی اور صارفین کی مالی استعداد کے مطابق نیٹ ورک کو بڑھایا جا سکے۔ جہاں 5جی دستیاب ہوگی وہاں انٹرنیٹ کی رفتار موجودہ نیٹ ورکس کے مقابلے میں کم از کم 14 سے 15 گنا زیادہ ہوگی، جبکہ دیگر علاقوں میں صارفین کو بہتر معیار کے ساتھ 4جی سروس فراہم کی جاتی رہے گی۔
یاد رہے کہ پاکستان میں 5جی سروس متعارف کرانے پر سنجیدہ گفتگو کا آغاز آج سے 7 سال قبل 2019 میں ہوا، جب پی ٹی اے نے پہلی مرتبہ سپیکٹرم کی دستیابی اور پالیسی فریم ورک پر ابتدائی مشاورت شروع کی۔ 2020 اور 2021 کے دوران 5جی ٹرائلز اور آکشن کے متعدد اعلانات کیے گئے، مگر عملی پیش رفت نہ ہو سکی۔ 2022 میں 5جی پالیسی اور کنسلٹنسی رپورٹس پر کام کیا گیا، جبکہ 2023 اور 2024 میں بھی کئی بار یہ کہا گیا کہ 5جی آکشن جلد ہوگا، مگر ہر مرتبہ ٹائم لائن آگے بڑھتی رہی۔ یوں گزشتہ 5 سے 6 برسوں سے 5جی آکشن ایک ایسا وعدہ بن چکا ہے جو تاحال پورا نہیں ہو سکا۔
