جنگ بندی کے بعد ایئر لائنز کے ٹکٹس سستے کب ہونگے؟

 

 

 

پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی نے جہاں مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی امید جگا دی ہے، وہیں دوسری جانب جنگ کی بندش کے بعد عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، اس پیشرفت کے بعد جہاں عوام نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو ریورس گئیر لگنے کی امیدیں باندھ لی ہیں وہیں فضائی سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کی زبان پر ایک ہی سوال گونجتا سنائی دیتا ہے:، جنگ بندی اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں ایئرلائنز کے ٹکٹس کب سستے ہوں گے؟ آسمان کو چھوتی ٹکٹس کی قیمتیں زمین بوس کب ہونگی؟ ماہرین کے مطابق اگرچہ حالات بہتری کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم ائیرلائنز کی ٹکٹوں کی قیمتوں میں فوری کمی کا کوئی امکان نہیں۔ ایئرلائنز کو مکمل ریلیف عوام تک منتقل کرنے میں عموماً 4 سے 6 ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے، جس کے بعد ہی کرایوں میں بتدریج کمی دیکھنے کو ملے گی۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کے کئی شعبوں کو متاثر کیا، جن میں فضائی صنعت سرفہرست رہی۔ تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جس کا براہِ راست اثر جیٹ فیول پر پڑا۔ نتیجتاً ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات بڑھ گئے، جس کے بعد جہاں پروازوں کی منسوخی اور معطلی معمول بن گئی وہیں ٹکٹوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرتی نظر آئیں۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے ایئرلائنز کو مجبور کیا کہ وہ اپنے شیڈول محدود کریں۔ جس کے بعدپی آئی اے سمیت کئی ایئرلائنز نے نہ صرف اپنی پروازیں کم کیں بلکہ بعض بین الاقوامی روٹس کو عارضی طور پر معطل بھی کر دیا۔ اس دوران مسافروں کو نہ صرف مہنگے ٹکٹ خریدنے پڑے بلکہ تاخیر اور غیر یقینی صورتحال نے ان کے سفر کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔

 

پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کیلئےجنگ بندی عمل میں آنے اور خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد عوام نے جلد ٹکٹس کی قیمتیں کم ہونے کی امیدیں لگا لی ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان شروع ہو چکا ہے، تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر فوری طور پر فضائی ٹکٹوں پر ظاہر نہیں ہوگا۔ ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایئرلائنز عموماً ایندھن کی خریداری پیشگی معاہدوں کے تحت کرتی ہیں، جن کی قیمتیں فوری طور پر تبدیل نہیں ہوتیں۔ اس لئے فوری طور پر ٹکٹس کی قیمتوں میں کمی ممکن نہیں تاہم ایئرلائن ذرائع کے مطابق جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو ’فیول سرچارج‘ کے ذریعے اس کا بوجھ مسافروں پر منتقل کیا جاتا ہے۔اسی طرح جب ایندھن سستا ہوتا ہے تو اس سرچارج میں کمی کی جا سکتی ہے، لیکن یہ فیصلہ مرحلہ وار کیا جاتا ہے اور اس کا انحصار مارکیٹ کی صورتحال پر ہوتا ہے۔

پاکستان کے ہاتھوں سیز فائر سے انڈیا کو اتنی تکلیف کیوں ہے؟

ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ ائیرلائنز کی ٹکٹوں کی قیمت صرف ایندھن پر منحصر نہیں ہوتی۔ اس میں ڈالر کی قدر، حکومتی ٹیکسز، ایئرپورٹ چارجز اور دیگر آپریشنل اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر تیل سستا ہونے کے باوجود اس کا مکمل فائدہ فوری طور پر مسافروں تک منتقل نہیں ہو پاتا۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں استحکام برقرار رہتا ہے اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی آتی ہے تو آنے والے ہفتوں میں فضائی صنعت میں بہتری کے آثار نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اس بہتری میں پروازوں کی بحالی، نئے روٹس کا آغاز اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں بتدریج کمی شامل ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے فوری بعد عوام کو ائیرلائنز سے ریلیف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ عمومی طور پر ایسے حالات میں عوام کو مکمل ریلیف کی فراہمی میں دو سے چھ ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

 

Back to top button