اسلام آباد کو ’کنٹینر سٹی‘ بنانے والے کنٹینرز کہاں سے آتے ہیں؟

تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ کے نتیجے میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اس وقت ’کنٹینر سٹی‘ کا منظر پیش کر رہا ہے جس سے نہ صرف عام شہریوں کی معمولات زندگی متاثر ہو رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی روزانہ اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ یاد رہے کہ 25 لاکھ کی آبادی والے اس شہر کو ‘کنٹینر سٹی’ کا نام اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے دیا تھا۔

بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کے احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر اسلام آباد پولیس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 700 کنٹینرز کے ذریعے سڑکوں کو بلاک کیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ اسلام آباد کو پنجاب اور خیبر پختونخوا سے ملانے والی سڑکوں کو بھی انھی کنٹینرز کی مدد سے بند کیا گیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 220 مربع کلومیٹر کے شہری علاقے میں ہر ایک مربع کلومیٹر کے فاصلے پر تین کنٹینر کھڑے کیے گئے ہیں۔ اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شہر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے اور بیلاروس کے صدر کے وفد کو تحفظ دینا ہے تاہم اس پر مقامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر لوگوں کی برہمی واضح ہے۔

جہاں بعض شہری سکولوں کی بندش پر نالاں ہیں تو کچھ کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں کی بندش کے باعث اپنے پیاروں کو علاج کے لیے ہسپتال نہیں لے جا پا رہے۔ اس بارے میں جب وفاقی برائے منصوبہ بندی احسن اقبال سے سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ہم ’حکومت کی جانب سے عوام سے معذرت خواہ ہیں لیکن یہ ناگزیر اقدامات ان کی اور ریاست کی حفاظت کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں۔‘ ملکی معیشت کو احتجاج سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے دعویٰ کیا ہے کہ ’احتجاج سے ملکی معیشت کو یومیہ 190 ارب کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ تاہم انکا کہنا ہے کہ اس نقصان کی ذمہ دار حکومت نہیں بلکہ احتجاج کرنے والے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کو بند کرنے والے یہ کنٹینرز آتے کہاں سے ہیں؟ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے شہر کے داخی راستوں اور اہم مقامات پر 700 کنٹینرز رکھے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ضرورت کے تحت کنٹریکٹر سے یہ کنٹینر حاصل کیے جاتے ہیں اور ان کے بدلے ادائیگی کی جاتی ہے۔ ایک کنٹینر کا کرایہ 40 ہزار کے قریب بنتا ہے، یعنی 700 کنٹینر پر کل لاگت دو کروڑ 80 لاکھ روپے بنے گی۔ پولیس نے اکتوبر میں بھی تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر 600 کنٹینرز حاصل کرنے کے لیے دو کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔

تاہم یونائیٹڈ گڈز ٹرانسپورٹرز الائنس کے چیئرمین غلام یسین نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس سڑکوں پر چلنے والے ٹرکوں کو ’روک لیتی ہے اور زبردستی کنٹینرز اُتروا لیتی ہے جن کا کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق فیصل آباد، سیالکوٹ، پشاور اور دیگر علاقوں میں ڈرائی پورٹس موجود ہیں اور انتظامیہ اکثر وہاں سے بھی خالی کنٹینرز ’اُٹھا کر لے جاتی ہے۔ کنٹینرز کو ہونے والے نقصانات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ نقصان ’وہی برداشت کرتا ہے جس کا وہ سامان ہوتا ہے۔‘

آل پاکستان گڈذ ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن کے سینیئر چیئرمین امداد حسین نقوی نے بھی دعویٰ دہرایا کہ جب بھی احتجاج کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینرز کو انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے ’سڑکوں پر روک لیا جاتا ہے۔‘ ان کا الزام تھا کہ حکومت کی جانب سے ’کنٹنیر حاصل کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں بلکہ انھیں جبراً روکا جاتا ہے۔‘ انکے مطابق ’پولیس اہلکار ریاستی احکامات کی پیروی کر رہے ہوتے ہیں اور ہمارے ڈرائیورز بھی ان سے مزاحمت نہیں کرتے۔ اسی لیے انتظامیہ کا جہاں دل چاہتا ہے وہ ہمارے کنٹینرز اور گاڑیاں استعمال کرتی ہے۔‘

اپنے نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں میں ’مشتعل ہجوم کرین اور بلڈوزر کے ساتھ آتا ہے اور ہمارے کنٹینر اٹھا اٹھا کر پھینکے جاتے ہیں۔ ہمیں نقصان ہوتا ہے اور حکومت ہمیں کچھ نہیں دیتی۔‘ امداد حسین نقوی کا کہنا تھا کہ ایک 40 فٹ کے اچھے کنٹینر کی قیمت کم از کم 10 لاکھ روپے ہوتی ہے اور اکثر ان میں کروڑوں کا مال بھی ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب سامان کو آگ لگ جاتی ہے تو سامان کے مالک کا نقصان بھی ٹرانسپورٹ کمپنی کو بھرنا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنی کمپنی کی ساکھ بھی دیکھنی ہوتی ہے اور جو پُرانے کلائنٹس ہوتے ہیں انہیں اپنے ساتھ رکھنے کے لیے ہمیں ان کا نقصان بھرنا پڑتا ہے۔‘

دوسری جانب اسلام آباد پولیس کا موقف بالکل مختلف ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ کنٹینرز کرایے پر حاصل کیے جاتے ہیں اور اگر نقصان ہوتا ہے تو حکومت ہی یہ نقصان اٹھاتی ہے۔ کنٹینرز کے معاملات کو ڈیل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے تین افسران پر بنائی گئی کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں امن وامان کی صورت حال ہو تو اسلام آباد پولیس کا ایک ہی ٹھیکیدار ہے اس کو جتنے کنٹینرز کی ضرورت ہوتی ہے اس کو بتا دیا جاتا ہے اور وہ ضرورت کے مطابق اسلام آباد پولیس کو کنٹینرز فراہم کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس وقت اسلام آباد میں ’700 کنٹینرز موجود ہیں جنھیں کرائے پر حاصل کیا گیا ہے۔‘

کیا ڈیل کرنے والوں کو بشری بی بی کی رہائی کا فیصلہ الٹا پڑ گیا؟

ٹرانسپورٹرز کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جتنے دن وہ کنٹینرز استعمال ہوتے ہیں، اس حساب سے بِل بنا کر اسلام آباد کے چیف کمشنر آفس بھجوا دیا جاتا ہے جہاں سے وزارت داخلہ کے ذریعے ان کنٹینرز کا کرایہ ٹھیکدار کو ادا کیا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ پانچ ماہ کے دوران امن و امان کی صورت حال کے پیش نظر جو کنٹینرز استعمال کیے گئے اس کا کرایہ ادا کر دیا گیا ہے۔ ان کے بقول اب تک سات کروڑ روپے سے زیادہ کی رقم ادا کی گئی ہے۔

Back to top button