امریکا کے لیے اسامہ کی مخبری کرنے والا افسر اب کہاں ہے؟

سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی اور معروف سکالر اور تجزیہ نگار شجاع نواز نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے کے لیے امریکی حکام کی مدد کرنے والوں میں سے ایک آئی ایس آئی کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل اقبال سعید خان بھی تھے جو اس سے قبل پاکستان کی ملٹری انٹیلیجنس کا بھی حصہ رہ چکے تھے۔ بعد میں امریکی حکام نے کرنل اقبال کو نوازا اور اب وہ امریکی شہر سان ڈیاگو میں 24 لاکھ ڈالر کی مالیت کی حویلی میں رہائش پذیر ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ امریکی حکام کو اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد کرنے والے شخص کا تعلق پاکستانی آئی ایس آئی سے تھا لیکن شجاع نواز کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’دا بیٹل فار پاکستان‘ میں اب یہ دعوی کیا گیا ہے کہ اس شخص کا تعلق ملٹری انٹیلیجنس سے تھا۔ اس وقت یہ کتاب سیاسی اورعسکری حلقوں میں زیر بحث ہے جس کی بنیادی وجہ نہ صرف اس میں موجود مواد ہے بلکہ شجاع نواز کا فیس بک پر جاری کیا گیا ایک پیغام بھی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں پاکستان میں اپنی کتاب کی تقریب رونمائی منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
شجاع نواز، جو کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز کے بھائی بھی ہیں، نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر لکھا کہ ’وہ تمام افراد جو میری کتاب کی رونمائی کی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں منعقد ہونے والی تقاریب کی منسوخی کی وجہ پوچھ رہے ہیں، میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آرمی نے ان تقاریب کے منتظمین کے ذریعے انھیں منسوخ کروایا ہے۔‘ انھوں نے مزید لکھا کہ پہلے ان سے کہا گیا کہ وہ خود یہ تقاریب ملتوی کر دیں لیکن جب انھوں نے انکار کیا، تو یہ فیصلہ ان کی ’مرضی کے خلاف لیا گیا۔
امریکہ میں تھنک ٹینک، اٹلانٹک کونسل کے ساؤتھ ایشین سینٹر سے منسلک شجاع نواز نے کتاب کے مواد کے بارے میں بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا ہے کہ کتاب کا محور بالخصوص 2008 سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں ہے لیکن کتاب کا جائزہ لیا جائے تو اس میں ایسے کئی واقعات شامل ہیں جن کا ماضی میں اتنا کھلے عام ذکر شاذ و نادر ہی ہوا ہے۔ اسامہ بن لادن اور ان کے خلاف سنہ 2011 میں امریکہ کی جانب سے کیے گئے آپریشن کے بارے میں شجاع نواز نے 37 صفحات پر مبنی باب ‘فرام تورا بورا ٹو پٹھان گلی’ کے نام سے لکھا ہے جس میں انھوں نے تفصیلی طور پر اس آپریشن، اس کے محرکات اور اسامہ بن لادن تک پہنچنے کے لیے پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے کی گئی مختلف کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس سابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی نے انڈین خفیہ ادارے را کے سربراہ اے ایس دلت کے ہمراہ اپنی گفتگو پر مبنی کتاب ’دا سپائی کرانکیلز‘ میں ذکر کیا تھا کہ امریکیوں کو اسامہ بن لادن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں اہم کردار کا ایک سابق پاکستانی فوجی افسر کا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’میں اس کا نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ میں اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکوں گا اور نہ ہی میں اس کو کوئی مشہوری دلوانا چاہتا ہوں۔ اس کو امریکہ سے پانچ کروڑ ڈالر کے معاوضے میں سے کتنا ملا، میں نہیں جانتا، مگر وہ پاکستان میں نہیں ہے۔‘
امریکی CIA کا جاسوس ڈاکٹر 10 برس سے پاکستانی قید میں
شجاع نواز اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے صفہ 102 پر لکھتے ہیں: اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے کے لیے مختلف افراد نے امریکی حکام کی مدد کی تھی جن میں سے ایک آئی ایس آئی کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل اقبال سعید خان تھے جو اس سے قبل ملٹری انٹیلیجنس کا بھی حصہ رہ چکے تھے۔ شجاع نواز لکھتے ہیں کہ اقبال سعید خان فوج میں ’بیلی‘ کے نام سے بھی معروف تھے اور فوج سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے سیکیورٹی کنٹریکٹر کا کام شروع کر دیا تھا۔ شجاع نواز لکھتے ہیں کہ غالباً اقبال سعید خان کے ایبٹ آباد کے دفتر کو امریکیوں نے جاسوسی کے لیے استعمال کیا تھا اور بعد میں انھیں امریکی آپریشن کے بارے میں خاموش رہنے پر نوازا گیا۔
