نواز شریف بسنت کہاں منائیں گے اور پیچے کس سے لڑائیں گے؟

قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف کی خواہش پر لاہور میں دو دہائیوں بعد منائی جانے والی بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں جہاں ایک طرف عوام کی جانب سے پتنگیں اور ڈور کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے وہیں دوسری جانب حکومت نے بھی کنٹرولڈ بسنت بارے تشکیل دئیے گئے ایس او پیز پر عمل کروانے کیلئے کمر کس لی ہے تاہم عوامی و سیاسی حلقوں میں اب سب کی نظریں اسی سوال پر جمی ہیں کہ نواز شریف کی خواہش کی تکمیل میں لاہور میں بسنت تو منائی جا رہی ہے تاہم بسنت کی بحالی کے بعد نواز شریف خود اس تہوار کو کہاں اور کس انداز میں مناتے نظر آئیں گے؟ کیاوہ صرف بسنت کی تقریبات میں ہی شریک ہونگے یا کہیں گڈیاں بھی اڑائیں گے؟ اگر گڈی اڑائیں گے تو پیچہ کس سے لڑائیں گے؟
خیال رہے کہ لاہور کی فضا ایک بار پھر رنگوں، پتنگوں اور خوشیوں سے بھرنے کو ہے، مگر اس بار بسنت صرف تہوار نہیں بلکہ ایک سیاسی اور ثقافتی علامت بن چکی ہے۔ اٹھارہ برس بعد بحال ہونے والی بسنت پر سب کی نظریں ایک ہی سوال پر جمی ہیں: نواز شریف بسنت کہاں منائیں گے؟ جاتی امراء سے اندرونِ شہر کی تاریخی حویلیوں تک، قیاس آرائیاں عروج پر ہیں۔ بسنت کی واپسی نے جہاں لاہور کی روایتی رونق لوٹا دی ہے، وہیں نواز شریف کی ممکنہ شرکت نے اس جشن کو غیرمعمولی اہمیت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ لاہور میں تین روزہ بسنت کا باقاعدہ آغاز 6 فروری سے ہوگا جبکہ بسنت کی تقریبات کا سلسلہ 8 فروری تک جاری رہے گا۔ ذرائع کے مطابق 6 فروری کو نواز شریف کے کسی بسنت کی تقریب یا پتنگ بازی کے امکانات معدوم ہیں کیونکہ اسی روز جاتی امراء میں میلاد کی تقریب بھی منعقد ہو رہی ہے۔ اس لئے توقو ہے کہ نواز شریف 6 فروری کا دن جاتی امراء میں ہی گزاریں گے۔ تاہم ذرائع کے مطابق قوی امکان ہے کہ نواز شریف 7 یا 8 فروری کو اندرون شہر کا رخ کریں گے اور وہاں جا کر بسنت میں شریک ہونگے، جہاں حویلی آصف جاہ سمیت چند مخصوص چھتوں پر وی آئی پی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ ان تقریبات میں نواز شریف کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی بھی شرکت متوقع ہے۔جہاں وہ روایتی طور پر پتنگ بازی بھی کریں گے اور پیچے بھی لڑائیں گے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف خاندان ماضی میں بھی بسنت سے گہری وابستگی رکھتا رہا ہے۔ 1990 اور 1997 کی دہائیوں میں بطور وزیراعظم نواز شریف نے نہ صرف بسنت کو سرکاری سرپرستی دی بلکہ اندرون شہر کی چھتوں پر خود پتنگ بازی بھی کی اور عوام کے ساتھ یہ تہوار پورے جوش و خروش سے منایا۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف آج بھی بسنت کو لاہور کی روح تصور کرتے ہیں اور اس کی بحالی پر بہت خوش ہیں، تاہم اس بار وہ ماضی کی تلخ یادوں کو سامنے رکھتے ہوئے حفاظتی انتظامات پر مکمل اطمینان چاہتے ہیں۔ اسی لئے حکومت کی جانب سے بسنت کیلئے سخت ایس او پیز تشکیل دئیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق 6 سے 8 فروری تک پنجاب میں منائے جانے والےبسنت کے تہوار کے دوران صرف 35 انچ کی پتنگ اور 40 انچ کا گڈا اڑانے کی اجازت ہو گی، جبکہ مقررہ سائز سے بڑی پتنگ یا گڈا اڑانے پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔ بسنت کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کے لیے ستھرا پنجاب کے ورکروں کے علاوہ چار ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔وزیراعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ بسنت کے دوران ڈور کی چرخی مکمل طور پر ممنوع ہو گی اور صرف پنا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ پتنگ بازی کے لیے صرف کاٹن کے نو دھاگوں پر مشتمل ڈور استعمال کی جا سکے گی، جبکہ نائیلون یا دھاتی تار پر مشتمل ڈور پر مکمل پابندی ہو گی۔
حکومت کی کنٹرولڈ بسنت پالیسی کے باعث شہر میں پتنگ اور ڈور نایاب ہو چکے ہیں اور ان کی قیمتیں آسمان کو چھوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ شہری گڈے اور ڈور کے حصول کے لیے سفارشوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ لائسنس یافتہ تاجر محمد علی کے مطابق اگر مارکیٹ میں گڈے اور پتنگ دستیاب ہی نہ ہوں تو بسنت منانے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ لاہور کی حدود تک جو لائسنس دیے گئے ہیں وہ تو شہر کے ایک ٹاؤن کی کھپت کو پورا نہیں کر سکتے پوری آبادی کے لئے گُڈوں کا انتظام تو بڑی دور کی بات ہے۔‘ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت سخت چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ دوسرے شہروں سے مال آنے کی اجازت دے تاکہ صرف منظور شدہ سائز اور لائسنس یافتہ تاجروں کے ذریعے ہی فروخت ممکن ہو۔ تاہم اگر حکومت نےصرف سختی پر انحصار کیا اور بیرون شہر سے ڈور اور گڈے لاہور لانے کی اجازت نہ دی تو اس بار بسنت صرف امیر طبقے تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
کیا ICC پاکستان کے خلاف کوئی بڑا ایکشن لے سکتی ہے؟
واضح رہے کہ پاکستان میں بسنت کا تہوار پہلی بار 2007 میں اس وقت ممنوع قرار دیا گیا جب پتنگ کی ڈور سے سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2018 میں حمزہ شہباز شریف کے دور اقتدار پتنگ بازی پر سے پابندی مختصر طور پر اٹھائی گئی تھی، لیکن درجنوں اموات کے بعد فوری طور پر دوبارہ پابندی نافذ کر دی گئی تھی۔ تاہم اب مریم نواز حکومت 6 سے 8 فروری تک لاہور میں گورنمنٹ سپانسرڈ کنٹرولڈ بسنت منانے جا رہی ہے،
