فتنہ الہندوستان بلوں کے اندر ہوں یا باہر،وہیں قلع قمع کیا جائے گا،حنیف عباسی

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا ہے کہ فتنہ الہندوستان بلوں کے اندر ہوں یا باہر، ان کا وہیں قلع قمع کیا جائے گا۔
لاہور پریس کلب میں "میٹ دی پریس” سے خطاب کرتے ہوئے حنیف عباسی نے کہا کہ فیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کی وجہ سے پاکستانی دنیا بھر میں سر اٹھا کر گھوم رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ترکی اور روس سمیت اوورسیز پاکستانیوں کو اب عزت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
ریلوے کی بیوروکریسی کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کام کریں، چھٹیاں نہیں ملیں گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر وفاقی حکومت پنشن اور تنخواہوں کا بوجھ اٹھا لے تو وہ ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم 29 جولائی کو بزنس ٹرین کا افتتاح کریں گے۔
حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ بہترین خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا نے پاکستان کی طاقت کو تسلیم کر لیا ہے۔ بھارت شکست خوردہ انداز میں زخم چاٹ رہا ہے۔ بعض عناصر کی فطرت میں ہی ڈسنا شامل ہے۔
وزیر ریلوے نے طنزیہ انداز میں کہا کہ بھارت کا شکریہ، جس نے پوری قوم کو متحد کر دیا۔ نور خان ایئربیس پر میزائل گرا تو لوگ میزائل دیکھنے دوڑ پڑے، جبکہ بھارت میں چیخ و پکار مچ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے خود تسلیم کیا کہ پانچ بھارتی طیارے تباہ ہوئے، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بھارتی پراکسی وار جاری ہے۔
ریلوے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ راولپنڈی کے تین، کراچی کے دو اور لاہور کے دو ریلوے اسٹیشنوں پر صفائی ستھرائی کا کام آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ ریلوے میں کھانے کے معیار کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش سے لاہور سے راولپنڈی کے درمیان دو سے ڈھائی گھنٹے میں سفر ممکن ہو سکے گا۔ مریم نواز نے ریلوے کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
کول پاور پلانٹس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئلے کی مؤثر ترسیل کے باعث فی یونٹ قیمت 15 روپے سے کم ہو کر ساڑھے چار روپے تک آ جائے گی، جبکہ ریکوڈک منصوبے کے لیے چار ٹرینیں 2028 تک معاہدے کے تحت مخصوص کی جائیں گی۔
وزیر ریلوے نے بتایا کہ پہلی مرتبہ ریلوے اسٹیشنوں پر ایکسیلیٹرز اور انفارمیشن ڈیسک لگائے جا رہے ہیں۔ 16 بینکوں کو ریلوے ایپ سے منسلک کیا جا چکا ہے، اور عنقریب 348 ریلوے اسٹیشنوں پر اے ٹی ایم مشینیں بھی نصب کی جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے میں ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈ کے استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
