حامد میر نے مریم نواز کا کون سا دعوی جھوٹا قرار دے دیا؟

 

 

 

سینئیر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے وزیراعلی پنجاب مریم نواز کا یہ دعوی گمراہ کن قرار دے دیا ہے کہ وہ پاکستانی تاریخ کی پہلی خاتون سیاست دان ہیں جنہیں گرفتار کرنے کے بعد اُن پر ظلم و ستم کیا گیا۔ انکا کہنا ہے کہ مریم کا دعوی نہ صرف غلط ہے بلکہ تکلیف دہ بھی ہے کیونکہ بیگم نصرت بھٹو ، محترمہ بے نظیر بھٹو ، عاصمہ جہانگیر اور فریال تالپور سمیت کئی خواتین سیاستدان مریم سے بہت پہلے جیل بھگت چکی ہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ مریم نواز کی غلط بیانی نے ایسی بحث چھیڑی کہ پاکستان کے کونے کونے سے مجھے پیغام ملنا شروع ہو گئے کہ فرخندہ بخاری سمیت اُن ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے نام سامنے لاؤں جنہوں نے اپنی سیاسی جدو جہد کے باعث قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن آج کسی کو اُن کا نام یاد نہیں۔

 

پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تحریک پاکستان کی ایک سرگرم کارکن بیگم جہاں آراء شاہنواز کی بیٹی نسیم جہاں کی گرفتاری بڑی اہم تھی۔ نسیم جہاں 1951 میں راولپنڈی سازش کیس میں اپنے خاوند میجر جنرل اکبر خان اور فیض احمد فیض کے ہمراہ گرفتار ہوئیں بعد ازاں وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئیں اور رکن قومی اسمبلی بنیں۔ 1978 میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے خلاف تحریک چلائی تو اس تحریک میں صحافیوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ ان میں کچھ خواتین صحافی بھی شامل تھیں۔ سینئر صحافی فریدہ حفیظ نے تو اسلام آباد سے لاہور آ کر احتجاج کرتے ہوئے گرفتاری دی تھی، مسز الزبتھ خالد اور انور سلطانہ کے علاوہ شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی لاہور کی دو طالبات دردانہ یاسمین اور روزی مجید نے بھی لاہور میں گرفتاری دی۔ اس کےعلاوہ تمکنت آراء ، آصفہ رضوی، حمیدہ گھانگرو ، نسرین زہرہ اور کراچی کی لالہ رخ حسین بھی اس تحریک میں گرفتار ہوئیں۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بے نظر بھٹو بھی بار بار گرفتار ہوئیں اور جیل گئیں۔ دونوں ماں بیٹی نے اپنے آنچل ضیائی آمریت کے خلاف مزاحمتی پرچم بنا دئیے۔ پیپلز پارٹی کی رہنماؤں شاہدہ جبین اور ثریا سلطانہ کو لاہور کے شاہی قلعے میں بند کیا گیا۔ 12 فروری 1983 کو عاصہ جہانگیر، حنا جیلانی، بشریٰ اعتزاز احسن، مدیحہ گوہر ، شہلا ضیاء، نگار احمد ، روبینہ سہگل ، انیسں ہارون ، نسرین اظہر ، خاور ممتاز ، کشور ناہید، شاہ تاج قزلباش ، مہناز رفیع، شہناز وزیر علی سمیت بہت سی خواتین نے مال روڈ لاہور پر جنرل ضیاء کے مارشل لائی قوانین کے خلاف جلوس نکالا اور گرفتار ہو گئیں۔ اس جلوس کے بعد تحریک بحالی جمہوریت میں تیزی آئی اور سندھ میں بھی خواتین سڑکوں پر نکل آئیں۔

 

سندھیانی تحریک کی بہت سی خواتین ایم آرڈی کی تحریک میں گرفتار ہوئیں جن میں شہناز راہو ، غلام فاطمہ پلیجو ، مارئی پلیجو ، مریم راہو، شہر بانو ، چھ سالہ شبنم پلیجو اور بہت سی دیگر خواتین شامل ہیں۔ معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض، پروفیسر افضل توصیف، عابدہ ملک، بیگم قیوم نظامی، بیگم رانا شوکت محمود سمیت دیگر بہت سی خواتین نے دوران قید تشدد بھی برداشت کیا ۔ ڈی ایس ایف کی کارکن حمیدہ گل کی عمر صرف پندرہ سال تھی  جب انہیں فوجی عدالت نے چھ ماہ قید کی سزا سنا دی ۔ اس تحریک کے دوران ٹنڈو جام کے ایک گاؤں عثمان انٹر سے 19 عورتیں گرفتار کی گئیں جن میں دو حاملہ تھیں۔ تشدد سے دونوں کا حمل ضائع ہو گیا۔ ایک عورت کا نام نور خاتون تھا۔ اُسے گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔

 

حامد میر کہتے ہیں کہ نور خاتون کا نام لوگ بھول چکے ہیں۔ لیاری کی ماسی سکینہ کو بھی لوگ بھول چکے جو بحالی جمہوریت کی تحریک میں بار بار گرفتار ہوتی رہیں۔ لاہور کی اماں پٹھانی اور اماں پارس جان کو بھی لوگ بھول گئے جو جمہوریت کی خاطر بار بار جیل گئیں۔ جنرل ضیاء کے بعد جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی بہت سی خواتین گرفتار ہوئیں۔مسلم لیگ (ن) کی رہنما بیگم تہمینہ دولتانہ کو چھ ماہ تک کوٹ لکھپت جیل لاہور میں بند رکھا گیا۔ بیگم کلثوم نواز نے جب بھی سیاسی جلوس نکالنے کی کوشش کی تو انہیں گھر پر نظر بند کیا گیا۔ ایک بار انہیں اور طاہرہ اورنگزیب کو راولپنڈی میں نجمہ حمید کے گھر پر بھیننظر بند کر دیا گیا۔ طاہرہ عبد الله انسانی حقوق کی کارکن ہیں، انہیں فوجی آمر جنرل ضیاء کے دور میں ایک مرتبہ اور پھر مشرف دور میں بار بار گرفتار کیا گیا۔ موجودہ دور میں انہیں اسلام آباد سے پانچویں دفعہ گرفتار کیا گیا۔ خاتون وکیل ایمان مزاری ایک بار گرفتار ہوئیں۔

سی سی ڈی کی جانب سے اب منشیات فروش مکاؤ مہم کا جارحانہ آغاز

حامد میر کے مطابق یہ درست ہے کہ عمران خان کے دور میں مریم نواز کو اڈیالہ جیل میں انکے والد نواز شریف کے ساتھ قید میں رکھا گیا اور ان سے ناروا سلوک بھی ہوا۔ لیکن اب تو مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں ۔ اُن کے دور میں تو پنجاب کی کسی جیل میں کوئی ایک بھی خاتون سیاسی قیدی نہیں ہونی چاہئے تھی لیکن ڈاکٹر یاسمین راشد اور عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سمیت کئی خواتین آج صرف سیاسی اختلاف کے باعث مریم نواز کی قیدی بن چکی ہیں۔ پیپلز پارٹی خود کو شہیدوں کی جماعت قرار دیتی ہے کیونکہ اس کی جمہوریت کیلئے بہت قربانیاں ہیں۔ لیکن بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے جھوٹے کیسز میں کئی خواتین سیاسی کارکنوں کو نظر بند کر رکھا ہے۔

 

حامد میر کے بقول آج پیپلز پارٹی ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکی ہے جسکی ایک سٹیک ہولڈر مریم نواز کہتی کہ وہ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جنہیں گرفتار کرکے جیل میں ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ بیان صرف غلط نہیں تکلیف دہ بھی ہے۔ ہم نے مریم نواز کی گرفتاری کی بھی مذمت کی تھی اور آج انکی حکومت نے جن خواتین کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے انکی گرفتاری کی بھی مذمت کرتے ہیں۔

Back to top button