صدر زرداری کو ہٹانے کی افواہیں کون سے سازشی اڑا رہے ہیں؟

وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعد اب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی صدر آصف زرداری سے استعفیٰ لینے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نیا صدر بنانے کی افواہوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور سازش پر مبنی قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں گردش کرنے والی ایسی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں اور انکا مقصد صرف کنفیوژن پھیلانا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ کنفیوژن کون سے سازشی عناصر پھیلا رہے ہیں۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور خود انکی تکون کے درمیان تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں اور ان کا مشترکہ ایجنڈا پاکستان اور اسکے عوام کی خوش حالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے بنیاد افواہوں کا مقصد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔
وزیراعظم کی یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ٹوئٹر پر صدر زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کیخلاف چلائی جانے والی مہم کو ’’منظم سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی تھی۔ وزیر داخلہ کا یہ ٹویٹ اس لیے اہم گردانا گیا چونکہ انہیں آرمی چیف سے فیلڈ مارشل بنائے جانے والے جنرل عاصم منیر کے قریب تصور کیا جاتا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ہمیں بخوبی علم ہے کہ اس منظم مہم کے پیچھے کون ہے۔ میں واضح کر چکا ہوں کہ صدر سے استعفیٰ لینے یا چیف آف آرمی اسٹاف کے صدر بننے کے بارے میں کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی سوچ کسی بھی سطح پر موجود ہے۔ لیکن انہوں نے بھی نہیں بتایا کہ یہ سازش کون کر رہا ہے۔
حکومتی ذرائع نے بھی ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ فیلڈ مارشل کو صدر کے عہدے پر تعینات کیا جا سکے اور کوئی بھی آئینی ترمیم پیپلز پارٹی کی مرضی کے بغیر پارلیمنٹ سے منظور کروانا ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی ماضی پر نظر دوڑائیں تو فیلڈ مارشل اور صدر کے عہدے بیک وقت اپنے پاس رکھنے والے جنرل ایوب خان تاریخ میں ایک ولن قرار پائے تھے کیونکہ ایسا کرنے کے لیے انہوں نے آئین شکنی کی تھی۔ لہذا ایسی بے بنیاد افواہوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
یاد رہے کہ مفاہمت کے بادشاہ اور سیاسی جادوگر کہلانے والے آصف زرداری وہ پہلے سیاستدان ہیں جو دو مرتبہ صدارت کے عہدے کے لیے منتخب ہوئے۔ آصف علی زرداری پاکستانی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ 2008ء میں جب وہ پہلی بار صدرِ بنے تو انہوں نے اسمبلیاں توڑنے کے صدارتی اختیار کی آئینی شق 58 ٹو بی سمیت کئی متنازع ترامیم ختم کر کے 197 کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا اور پارلیمنٹ کو اس کے اختیارات واپس کر دیے تاکہ اسے مضبوط بنایا جا سکے۔
کیا عمران اپنے بیٹوں کو سیاست کے بے رحم کھیل کا حصہ بنائیں گے؟
آصف زرداری نے بلوچستان کے عوام کی محرومیوں پر ان سے باقاعدہ معافی مانگی اور صوبے کی تعمیر و ترقی کے لیے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ انہوں نے صوبائی خود مختاری کے دیرینہ نعرے کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے عملی جامہ پہنایا اور این ایف سی میں تمام صوبوں کو مناسب حصہ دیا۔ خیبرپختونخوا کے عوام کئی دہاہیوں سے اپنی اصل شناخت کا خواب دیکھ رہے تھے، یہ صدر آصف زرداری ہی تھے جنہوں نے صوبہ سرحد کا نام بدل کر خیبرپختونخوا کیا اور پشتونوں کو انکی شناخت دی۔ آصف زرداری نے ملک میں توانائی کے بحران کو بھانپتے ہوئے پاک ایران گیس پائپ لائن کی بنیاد رکھی اور چین کے ساتھ سی پیک جیسے تاریخی منصوبے کی ابتدا بھی کی۔
اس کے بعد آصف زرداری نے 2018 میں تمام جمہوری قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور پی ڈی ایم کی بنیاد رکھی جس نے اپریل 2022 میں ملکی تاریخ میں پہلی بار دھاندلی سے وزیراعظم بنائے جانے والے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے گھر بھیجا۔ آج بھی اگر مرکز میں ایک اتحادی حکومت کامیابی سے چل رہی ہے اور ملکی معیشت بہتری کے سفر پر گامزن ہے تو اس کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ اصف علی زرداری کا ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ زرداری موجودہ سیاسی نظام کے لیے ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور انکے بغیر یہ سسٹم دھڑام سے نیچے آن گرے گا۔ پھر نہ کوئی وزیراعظم بچے گا اور نہ ہی کوئی فیلڈ مارشل۔
