فوج کو اپنے کون سے متنازع منصوبے ختم کر دینے چاہییں؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ایسے تمام متنازعہ سیاسی منصوبے ترک کر دینے چاہئیں جنکا مقصد  18ویں ترمیم ریورس کرنا، نئے صوبے بنانا، اور این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ بڑھا کر صوبوں کا حصہ کم کرنا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستان نے سفارتی اور دفاعی محاذ پر جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان سے ہماری ریاست کا تاثر اب ڈمپر ٹرک سے تبدیل ہو کر رولز رائس کار کا بن چکا ہے۔ ایسے میں فوجی قیادت کے غیر ضروری سیاسی منصوبے رولز رائس کار کی سپیڈ کم کرتے ہوئے اسے تھکی ہوئی مسافر بس بنا دیں گے۔ انکے مطابق اتفاق رائے ہی ملک کی سیاسی گاڑی کو سبک رفتاری سے چلاتے ہوئے منزل تک پہنچا سکتا ہے۔ زبردستی کرتے ہوئے خود کو درست ثابت کرنے کی روش ہماری رولز رائس کار کو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی ٹھس کر دے گی۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ ایک قصہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک ارب پتی خلیجی شیخ نے رولز رائس کار کمپنی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ دس دن کے بعد میری نوبیاہتا بیوی لندن آنیوالی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اسے نئی رولز رائس کار پر ایئرپورٹ سے ریسیو کروں۔ رولز رائس کی انتظامیہ نے شیخ کو بتایا کہ ہمارے پاس تیار گاڑی موجود نہیں ہوتی کیونکہ ہم آرڈر ملنے کے بعد گاہک کی خواہش کے مطابق کار بناتے ہیں جس میں کم از کم چھ ماہ لگ جاتے ہیں۔ شیخ امیر بھی تھا اور بارسوخ بھی، وُہ بضد رہا کہ نہیں مجھے دس دن کے اندر گاڑی چاہئے جس کیلئے وہ کوئی بھی قیمت دینے کو تیار ہے۔ رولز رائس کی انتظامیہ کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی مگر انکے کسی دانش مند مشیر نے انہیں شیخ کی ناراضی سے ڈرایا اور نئی گاڑی شیخ کو دینے پر قائل کر لیا۔ دس دن بعد شیخ کی نوبیاہتا دلہن ہیتھرو لندن ایئرپورٹ پر اتری تو شیخ نے بیگم کو گاڑی میں بٹھایا اور فخر سے خود ڈرائیو کرتے ہوئے ایئرپورٹ سے باہر نکلا۔

 

دونوں دولہا دلہن شاندار سفر شروع کر چکے تھے کہ اچانک رولز رائس کار ایئر پورٹ سے 9 میل دور جا کر بند ہو گئی۔ شیخ کے ہمراہ پروٹوکول کے عملے نے بہت کوشش کی مگر گاڑی ٹس سے مس نہ ہوئی۔ شخ غصّے میں آ گیا۔ کمپنی کی انتظامیہ کو بلایا گیا اور پوچھا کہ نئی رولز رائس اور وہ بھی اتنی مہنگی صرف 9 میل چل کر رک کیوں گئی؟ شیخ کی موجودگی میں کار کا بونٹ کھولا گیا تو پتہ چلا کہ اس میں تو انجن ہی نہیں تھا۔ شیخ نے حیران ہو کر رولز رائس کے مینجر سے پوچھا کہ اس میں تو انجن ہی نہیں تو یہ 9 میل کیسے چل گئی؟ اس پر منیجر نے ہاتھ باندھ کر بتایا کہ یہ کار انجن پر نہیں بلکہ ساکھ پر 9 میل چلی ہے۔ انجن تیار نہیں تھا لیکن اسکے باوجود ہمیں رولز رائس برانڈ کی ساکھ پر اعتبار تھا، توقع کے مطابق یہ 9 میل ساکھ پر ہی چل گئی، آپ کی خواہش تھی کہ ایئر پورٹ پر اس کار کو استعمال کریں، سو وہ پوری ہوئی۔

 

یہ قصہ سنانے کے بعد سہیل وڑائچ نتیجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ساکھ پر کچھ دور تک تو سفر کیا جا سکتا ہے مگر گاڑی میں انجن ہی نہ ہو تو وہ ساکھ پر کتنا چل سکتی ہے؟ سینیئر صحافی کہتے ہیں کہ رانا ثناءاللہ خان ایک جہاندیدہ سیاسی کارکن ہیں جو مشکلات میں بھی سر جھکا کر نہیں بلکہ سر اٹھا کر چلتے ہیں۔ ان کا جمہوریت اور سیاست پر ایمان بہت مضبوط ہے ، میں نے انہیں شدید ترین مشکل میں بھی کبھی شکستہ نہیں دیکھا۔ رانا ثناء اللّٰہ کی یہ تجویز کہ ملک کے 5 بڑے بیٹھ کر استحکام اور پائیدار ترقی کا کوئی راستہ نکالیں، عمدہ ترین ہے۔ انکے مطابق رانا ثناء کی ساکھ رولز رائس سے بھی ذیادہ ہے مگر یہ تجویز بھی انجن کے بغیر لگتی ہے کیونکہ عمران خان تو بطور وزیر اعظم بھی کسی کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھے اور اب بھی تیار نہیں ہونگے۔ دوسری طرف فیلڈ مارشل اپوزیشن سے ملنے کے روادار ہی نہیں، ان دونوں کی ملاقات موجودہ حالات میں ناممکن ہے۔ نواز شریف خود چل کر عمران خان کے گھر بنی گالہ گئے تھے تو ملاقات ممکن ہوئی تھی۔

 

ایسے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ 5 بڑوں کی ملاقات ایک اچھی خواہش ہے لیکن فی الحال اس پر عمل ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ انکا کہنا یے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین گفتگو کا آغاز پارلیمان سے ہی ہونا چاہئے تاکہ پارلیمانی جمود تو ٹوٹے۔ نواز شریف کے بعد رانا ثناء اللّٰہ وہ واحد نونی رہنما ہیں جو سیاسی ذہن کے ساتھ سوچتے ہیں اور اپنے دل کی بات اپنے لیڈروں کے سامنے کھل کر کہنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں، نون میں کسی کو انکی وفاداری پر شک نہیں اس لئے وہ اختلاف بھی دھڑلے سے کر لیتے ہیں۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق رانا ثناء اللّٰہ نے موجودہ حکومتی تکون کے سامنے بارہا یہ کہا ہے کہ اس تکون میں سے ایک بھی لائن گری تو ساری تکون ہی فارغ ہو جائیگی۔ تکون سے انکی مراد فوج، نون لیگ اور پیپلز پارٹی ہے، اگر فوج نے نون اور پیپلز پارٹی کو فارغ کیا تو خود فوج کمزور ہوجائے گی اور اگر نون اور پیپلز پارٹی میں سے کسی نے فوج سے اتحاد توڑا تو وہ بھی فضا میں معلق ہو کر رہ جائیگی۔ اس لئے وُہ حکومتی تکون کے تین بڑوں کے سامنے بارہا اپنا یہ قول دہرا چکے ہیں کہ ہمیں ایکدوسرے کو برداشت کرنا اور ملکر چلنا ہے ورنہ خان کی اپوزیشن سب کو کھا سکتی ہے۔

 

سینیئر اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ ساکھ اور انجن کے حوالے سے فوج ہمیشہ سے پاکستانی ریاست کا انجن رہی ہے مگر آج کے دور میں یہی انجن بیرونی حملوں کی زد میں ہے۔ اندرونی دشمن بھی اس کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، ابھی تک تو ساکھ کے ہی سہارے حکومتی گاڑی چلی جارہی ہے لیکن اگرگاڑی کے اندر انجن مضبوط نہ ہوا تو ساکھ زیادہ دیر نہیں چلتی اور گاڑی 9 میل چل کر رک جاتی ہے ۔ اس لئے ریاستی تکون کے تینوں کو نوں اور تینوں لائنوں کا اکٹھے رہنا ضروری ہے۔ رانا ثناء اللّٰہ اور نواز شریف اس حوالے سے ہم آہنگ لگتے ہیں گزشتہ دنوں بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی پر سپیکر ایاز صادق، رانا ثناء اللّٰہ اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری پر مشتمل ایک نونی وفد نوڈیرو پہنچا تھا۔ یہ غیر معمولی خیر سگالی دورہ بظاہر صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے اظہار یکجہتی اور محترمہ کیلئے خصوصی دعا کیلئے کیا گیا تھا۔ لیکن سیاسی طور پر یہ دورہ نون اور پیپلز پارٹی کے لمبے عرصے تک اکٹھے چلنے کا ایک نیاوعدہ یا نیا ’معاہدہ وفا‘ تھا ۔اس دورے کو اس تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہئے کہ نئے صوبوں اٹھارہویں ترمیم اور این ایف سی کے حوالے سے نئی افواہوں میں کبھی پیپلز پارٹی تو کبھی نون کو فارغ کرنے کی سازشوں کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ نیا ’معاہدہ وفا‘ دراصل ان سازشوں اور افواہوں کا توڑ ہے۔ اس زبانی معاہدے سے ہر کس و ناکس کو باخبر کرنا مقصود ہے کہ ان جماعتوں کے مابین کوئی بڑا اختلاف نہیں اور سب اکٹھے ہی چلیں گے۔ ویسے بھی نون لیگ اور پیپلز پارٹی اکٹھا چلیں گے تو انکی ساکھ برقرار رہے گی، دوستی طرف انجن بھی چلے گا تو گاڑی دوڑے گی وگرنہ ماضی کی طرح توڑ پھوڑ ہوئی تو رولزر ائس بھی 9 میل چلنے کے بعد بند ہو جاتی ہے۔

کیا صرف فوجی کاروائیوں سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟

سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ پاک بھارت جنگ سے پہلے پاکستان کے لیے پتھروں سے بھرے ڈمپر ٹرک کی تمثیل درست لگتی تھی مگر اب تو پاکستانی ریاست عالمی ساکھ کے اعتبار سے رولز رائس کار بنی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ ہماری کار یعنی ہماری طاقت کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے۔ مشرق وسطیٰ میں ہم ہر  ایشو پر مشوروں میں شریک ہیں۔ مختصر یہ کہ پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں اور اس وقت وہ دنیا کے سینٹر سٹیج پر کھڑا ہے۔ یعنی ہمارے پاس رولز رائس بھی ہے اور ساکھ بھی ہے، بس ایک معاشی انجن کی کمی ہے، اگر کہیں سے تیل اور گریس پڑ گئی اور معاشی انجن کا خزانہ بھر گیا تو گاڑی فراٹے بھرے گی لیکن اگر ماضی کی غلطیاں پھر سے دہرائی گئیں تو رولز رائس 9 میل چل کر ناکارہ ہو جائیگی۔

Back to top button