عمران کی فارن فنڈنگ پر کس وفاقی وزیر نے پردہ ڈالا؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ڈی کلاسیفائیڈ کی جانے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف کو فارن فنڈنگ کیس سے بچانے کے لیے ایک پرائیویٹ بینک نے الیکشن کمیشن کے احکامات سے روگردانی کرتے ہوئے معاملے کو لٹکایا۔ خیال رہے کہ اس بینک کے کرتا دھرتا اب وفاقی کابینہ میں ایک اہم وزیر ہیں۔ موصوف پہلے بھی ایک بینک کے مالک تھے اور اب بھی ایک بینک کے شئیر ہولڈر ہیں۔

تحریک انصاف کے بینک اکاؤنٹس بشمول خفیہ اکاؤنٹس میں غیر ملکی ترسیلات کے بارے میں ایک نجی بینک نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے مانگا گیا اہم ڈیٹا فراہم کرنے میں 2018 کے انتخابات تک تاخیر کی اور پھر 18 اگست 2018 کو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد مطلوبہ ڈیٹا فراہم کرنے سے باقاعدہ معذوری کا اظہار کردیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کے خفیہ اکاؤنٹس کی چھان بین کا معاملہ تاخیر کا شکار ہو گیا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے حال ہی میں ڈی کلاسیفائیڈ ہونے والے ریکارڈ میں شامل دستاویزات کے مطابق اب غیر فعال ہو جانے والے ایک نجی بینک میں پی ٹی آئی کی تمام غیر ملکی ترسیلات خفیہ رکھی گئیں جس کا واضح مقصد تحریک انصاف کو فارن فنڈنگ کیس میں سزا سے بچنے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ تاہم پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے لیے ای سی پی کی اسکروٹنی کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر شیڈولڈ بینکوں نے یہ ریکارڈ براہ راست ای سی پی کو فراہم کیا، سوائے ایک نجی بینک کے جو اب بند ہو چکا ہے لیکن اس کے سربراہ سینیٹ اور وفاقی کابینہ کے رکن منتخب ہو کر حکومتی معاملات میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ای سی پی نے اسٹیٹ بینک سے درخواست کی تھی کہ وہ الیکشن کمیشن کو پی ٹی آئی اکاؤنٹس اور خاص طور پر 2009 سے 2013 تک بیرون ملک سے فنڈز کی منتقلی کی تفصیلات حاصل کرنے میں سہولت فراہم کرے۔

ریکارڈ کے مطابق نے پی ٹی آئی کی غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کرنے والے اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ اور ای سی پی کے ڈائریکٹر جنرل (لا) محمد ارشد نے آئین کے آرٹیکل 220 کے تحت 3 جولائی 2018 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کو اس حوالے سے خط لکھا۔ ایک ہفتے بعد اسٹیٹ بینک نے ملک کے تمام شیڈول بینکوں کے صدور کو خطوط لکھے تاکہ مطلوبہ معلومات براہ راست ای سی پی کو جمع کرائیں۔

جس کے بعد بینکوں نے تمام بینک اسٹیٹمنٹس اور پی ٹی آئی کی غیر ملکی ترسیلات سے متعلق معلومات سمیت دیگر مالی تفصیلات ای سی پی کو فراہم کیں۔ ایک مخصوص بینک کی جانب سے جمع کروائی گئی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ اب غیر فعال ہوجانے والے ایک نجی بینک میں پی ٹی آئی کے غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں موصول ہونے والی ترسیلات بدستور خفیہ ہیں۔ دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ مئی 2015 میں ہزار روپے کی ٹوکن قیمت پر حاصل کیے گئے بینک نے ابتدائی طور پر ای سی پی سے 16 جولائی 2018 کو ایک خط کے ذریعے تفصیلات بتانے کے لیے مزید 5 روز مانگے اور آخر میں 20 اگست 2018 کو ایک اور خط کے ذریعے سافٹ ویئر کی عدم مطابقت کے سبب تفصیلات بتانے سے معذوری کا اظہار کیا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پہلے اور دوسرے خط کے درمیان 5 ہفتوں کے اس وقفے کے دوران 25 جولائی 2018 کو عام انتخابات منعقد ہوئے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے 18 اگست 2018 کو وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ بینک کی جانب سے ای سی پی کو 16 جولائی 2018 کو لکھے گئے ابتدائی جواب میں کہا گیا کہ ’بیرون ملک ترسیلات کے حوالے سے، یہ عرض کیا جاتا ہے کہ ہم نے مطلوبہ معلومات کی بازیافت کا عمل شروع کر دیا ہے تاہم چونکہ معلومات غیر فعال نجی بینک سے متعلق ہے اس لیے ہمیں آپ کے دفتر میں ایک جامع جواب جمع کرانے کے لیے کچھ اضافی وقت درکار ہوگا۔

تاہم اس کے بعد بھی پی ٹی آئی کی غیر ملکی ترسیلات زر کی تفصیلات شیئر کرنے کی بجائے پی ٹی آئی حکومت کے حلف اٹھانے کے 2 روز بعد 20 اگست 2018 کو اپنے دوسرے خط میں بینک نے کہا کہ پی ٹی آئی کو غیر ملکی کرنسی اکاؤنٹس میں موصول ہونے والی ترسیلات سے متعلق معلومات کے لیے بینک نے متعلقہ لین دین کے محفوظ شدہ ڈیٹا کی بازیافت کی بھرپور کوشش کی لیکن سافٹ ویئر کے فرق کی وجہ سے مطلوبہ ڈیٹا تک رسائی ممکن نہیں ہوسکی۔

چند سال قبل بند ہو جانے والے نجی بینک کی جانب سے تحریک انصاف کو فارن فنڈنگ کیس میں بچانے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اس کیس کے پٹیشنر اکبر ایس بابر کا کہنا ہے کہ وہ نجی بینک کے اس مجرمانہ فعل کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن سے رجوع کریں گے کیونکہ ان کی اطلاع کے مطابق مطلوبہ ڈیٹا اب بھی محفوظ ہے اور الیکشن کمیشن کو ماموں بنایا گیا ہے۔

Which federal minister covered up Imran’s foreign funding? video

Back to top button