عقاب اور شیرنی کی ملاقات کے پیچھے کس نگہبان کا ہاتھ تھا ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے ایک استعاراتی تحریر میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلی مریم نواز کو عقاب اور شیرنی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں کی حالیہ ملاقات کے بعد جنگل کا رکا ہوا نظام ایک مرتبہ پھر چل پڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اہم ترین ملاقات جنگل کے نگہبان کی بدولت ممکن ہوئی۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ تضادستان کا جنگل اس وقت دو واضح حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ایک طرف ویرانی اور مایوسی کے ڈیرے ہیں، شجر سوکھے ہوئے ہیں، کوئی پرندہ نظر نہیں آرہا۔ بلبلیں اور کوئلیں پرواز کر چکیں۔ نہ چرند نہ پرند۔ ہر طرف اندھیرا، روشنی کا کوئی درکھلا نظر نہیں آتا۔ یہ تحریک انصاف کا ویرانہ ہے جہاں آہیں اور سسکیاں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ لیکن جنگل کا دوسرا حصہ ہرا بھرا ہے، یہاں خوب صورت پھول کھلے ہوئے نظر آتے ہیں، سبزے پر بہار آئی ہوئی ہے، تتلیاں منڈلا رہی ہیں، عقاب اور شیرنی، دونوں جنگل کے نگہبان پر صدقے واری جا رہے ہیں، اس حصے میں سب اچھا چل رہا ہے، سیاسی اور معاشی استحکام کے ترانے گائے جا رہے ہیں، شہباز اب اس قابل ہو گیا ہے کہ وہ جنگل کو قرضوں سے نجات دلانے کا دعویٰ کرنے لگا ہے۔
سہیل وڑائچ کے بقول اب جنگل میں صرف ایک ہی مسئلہ نظر آرہا تھا کہ اندرونی کھینچا تانی کیسے بند کی جائے، شخصی تضاد کو اجتماعی مفاد میں کیسے بدلا جائے، جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ عقاب اور شیرنی کی ایک دوسرے سے نہیں بنتی۔ چنانچہ نونی شکرے آئے روز عقاب کی قابلیت پر سوال اٹھاتے اور اس پر سنگ زنی کرتے تھے۔ لیکن اب تحریک انصاف کے یاسیوں کو بری خبر ملنے والی ہے کیونکہ عقاب اور شیرنی میں باہم مل کر چلنے کا عہد و پیمان ہو گیا ہے، جنگل کے نگہبان نے فی الحال عقاب اور شیرنی کو ملا دیا ہے۔
سینیئر صحافی کے بقول نگہبان کیلئے عقاب بہت اہم ہے، نگہبان کی جان گو عقاب میں نہیں لیکن عقاب نگہبان کا پسندیدہ ہے، نگہبان نے آج دن تک جو بھی انتخاب کیے ہیں ان میں سے عقاب سب سے قابل نکلا ہے، اس نے دن رات محنت کر کے اپنی دھاک بٹھائی ہے، وہ اس قدر تیز ہے کہ اس کے سامنے سب کی سپیڈ ماند پڑ گئی، وہ ایک جن کی طرح پلک جھپکنے میں پل اور بلڈنگز بنا رہا ہے کہ سب دنگ رہ جاتے ہیں، دوسری طرف شیرنی نے بھی اپنا سیاسی رنگ خوب جما کر رکھا ہے، اور نونی کیمپ کی واحد کرشماتی شخصیت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اگر نگہبان کیلئے عقاب اہم ہے تو شیرنی کی اہمیت بھی کم نہیں، وہ دونوں کو اپنے ساتھ چلانا چاہتا ہے تا کہ انصافی یاسیوں کا سیاسی مکو ٹھپ سکے۔ ماضی میں عقاب اور شیرنی اکٹھے چلنے پر آمادہ نہیں تھے۔ لیکن اب نگہبان نے براہ راست مداخلت کرکے بالآخر یہ ٹنٹا مکا دیا ہے اور دونوں مل بیٹھے ہیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ عقاب فضاؤں میں اڑتا ہے، شیرنی جنگل میں دھاڑتی ہے، مگر دونوں میں غلط فہمیاں عروج پر تھیں، ایسے میں چغل خوروں کی موج لگی ہوئی تھی۔ ایک طرف عقاب کو کہا جاتا تھا کہ آپ نے اپنی سپیڈ سے جنگل میں جو کمال کیے تھے ان کا کریڈٹ شیرنی لے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب شیرنی کو فیڈ کیا جاتا تھا کہ عقاب کچھ بھی نہیں، اصل میں تو جنگل کو آپ نے ہی آ کر سنوارا ہے۔ یعنی دراصل نوکر شاہی عقاب اور شیرنی کی لڑائی سے فائدہ اٹھا رہی تھی۔ انکے مطابق یہ شیرنی کا بڑا پن تھا کہ وہ عقاب کے گھونسلے پر پہنچ گئی، اور عقاب نے بھی خیر سگالی سے استقبال کیا، یوں ایک ذیلی جنگل کہانی اختتام کو پہنچی۔
لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ اس اہم سیاسی پیش رفت کے جنگل اور اسکے کاروبار پر کیسے اثرات پڑیں گے۔ نگہبان تو لازماً خوش ہوگا کہ اسکے دو اہم اثاثے شیر و شکر ہو گئے ہیں۔ پر دیکھنا یہ ہو گا کہ کیا اس ملاقات کے بعد بھی نون لیگی شکروں کی عقاب پر غیر ضروری سنگ زنی جاری رہے گی یا پھر تھم جائے گی؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آج کل آپ تحریک انصاف کے جس بھی حمایتی سے ملیں، وہ یا تو دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی بد دعا دیتا ہے یا یہ امید ظاہر کرتا ہے کہ امریکی کانگریس پاکستانی جرنیلوں پر پابندیاں عائد کر دے گی، دوسری جانب یہ کہا جاتا ہے کہ طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ اگلے 18 برس تک پی ٹی آئی اور اسکے بانی کو اقتدار نہ دینے کی منصوبہ بندی کر چکی ہے۔ لیکن یوتھیوں کا کہنا یے کہ یہ جعلی نظام ہے جو چل ہی نہیں سکتا۔ تاہم دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ 2018 کا نظام بھی تو ایسا ہی تھا جو نگہبان کی مدد سے ساڑھے تین برس تک چل گیا۔
کیا عمران خان کی تحریک انصاف واقعی تقسیم ہونے جارہی ہے ؟
سہیل وڑائچ کہتے ہیں یہ درست سہی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے بار بار کی مداخلت سے سیاسی فضا کو آلودہ کیا، لیکن سوال یہنیے کہ کیا تحریک انصاف بھی یہ سوچ نہیں رکھتی کہ دہشت گردی کے گرداب میں پھنسے ہوئے پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ سے بدلہ لینے کا یہی سب سے اچھا وقت ہے؟ بہتر ہوتا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کیخلاف ہونیوالے سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں جاتی اور جمہوری نظام میں پائی جانے والی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنی شرائط پیش کرتی۔ اگر ریاست یہ شرائط نہ مانتی تو بانی پی ٹی آئی کہہ سکتے تھے کہ اگر ہمیں ہمارے جمہوری حقوق نہیں مل سکتے تو پھر ہم قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی حمایت کیسے کر سکتے ہیں؟ لیکن افسوس کہ انہوں نے یہ موقع بھی گنوا دیا۔
