27 ویں ترمیم کے بعد کن ججز کے تبادلوں کا منصوبہ تیار ہے

 

 

 

27ویں آئینی ترمیم کی ممکنہ منظوری کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، ترمیم کے نفاذ کے ایک ماہ کے اندر اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز کا دیگر ہائی کورٹس میں تبادلہ کر دیا جائے گا، جبکہ ایک ہائیکورٹ کے جج کے مستعفی ہونے کا بھی امکان ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے فوری بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے ان 5 ججز کے تبادلوں کا عمل شروع کیے جانے کا امکان ہے جو مسلسل تحریک انصاف کا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھاتے ہوئے کھل کر اپنی سیاسی وابستگی ظاہر کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ججز ماضی قریب میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے خلاف کئی کھلے خطوط بھی لکھ چکے ہیں جس میں انہوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

 

یاد رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد کسی بھی ہائی کورٹ کے جج کا ملک کے کسی بھی حصے میں تبادلہ کر سکے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر ٹرانسفر ہونے والے ججز میں سے ایک جج نے ابھی سے ارادہ ظاہر کیا ہے کہ وہ پنشن کے اہل ہوتے ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ تبادلے کے لیے زیر غور ججز کے نام ظاہر کرنا فی الحال قبل از وقت ہوگا کیونکہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ تحریری کارروائی تاحال شروع نہیں ہوئی۔

 

سرکاری حلقوں کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد عدلیہ کو غیر سیاسی بنانا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض ججز ایک مخصوص سیاسی جماعت سے ہمدردی رکھتے ہوئے فیصلوں میں جانبداری کا مظاہرہ کر رہے تھے، جس سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہو رہی تھی۔ لیکن ان ججز کا موقف ہے کہ وہ تحریک انصاف کا جھنڈا نہیں بلکہ انصاف کا جھنڈا بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق حکومت کو یقین ہے کہ نئی آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن میں اس کا اثر و رسوخ بھی بڑھے گا کیونکہ کمیشن کی نئی تشکیل میں عمرانڈو قرار پانے والے جسٹس منیب اختر شامل نہیں ہوں گے۔ ادھر، مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سلسلے میں سٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، اور اطلاعات کے مطابق اس عدالت کے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس امین الدین خان کی تقرری پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی نے اس عہدے کے لیے جسٹس (ر) مقبول باقر کا نام پیش کیا تھا جو ریٹائرمنٹ کے بعد سندھ کے نگران وزیراعلی بھی بنائے گئے تھے۔

نئی آئینی عدالت سپریم کورٹ کا کون کون سا اختیار چھین لے گی؟

ذرائع کے مطابق، سپریم کورٹ کے چار ججز بشمول جسٹس سید حسن اظہر رضوی، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی کے نام وفاقی آئینی عدالت میں تقرری کے لیے زیر غور ہیں۔ ابتدائی طور پر حکومت نے عدالت کے لیے سات رکنی بینچ کی تجویز دی تھی، تاہم پیپلز پارٹی نے یہ تعداد نو تک بڑھانے پر زور دیا تاکہ چاروں صوبوں سے دو دو اور اسلام آباد سے ایک رکن شامل کیا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس کے کے آغا اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس روزی خان کے نام بھی وفاقی آئینی عدالت کی ابتدائی تشکیل کے لیے زیر غور ہیں۔

 

ذرائع کے مطابق، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چار ججز کے متوقع تبادلوں پر مشاورت جاری ہے، تاہم یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بعض ججز اپنے تبادلوں کے بجائے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

 

Back to top button