آئینی ترامیم سے کون کون سا عہدیدار استثنی لینے والا ہے؟

27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صدر، وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی، گورنرز، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ admiral Of fleet کو آئینی استثنیٰ دینے کی تجاویز زیر غور آئیں، تاہم وزیر اعظم شہباز شریف اور سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے استثنیٰ لینے سے معذرت کر لی۔ حالانکہ یہ ترمیم ابھی منظوری کے مراحل میں ہے لیکن حکومتی ذرائع کے مطابق صدر مملکت، گورنرز، فیلڈ مارشل اور ان کے دیگر عسکری ساتھیوں کو 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے استثنی دیا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کے مشترکہ اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر مشاورت کے دوران آئینی استثنیٰ کی تجاویز سیاسی و عوامی حلقوں میں شدید بحث کا باعث بن گئیں۔ مجوزہ ترمیم میں اعلیٰ سیاسی اور عسکری عہدے داروں کو استثنیٰ دینے کی تجاویز سامنے آئی ہیں، تاہم ابھی تک ان کی منظوری نہیں دی گئی۔ ذرائع کے مطابق مسودے میں ایک موقع پر صدرِ مملکت اور وزیرِ اعظم کو تاحیات استثنیٰ دینے کی تجویز شامل تھی۔ اس کے علاوہ، مسلح افواج سے متعلق آرٹیکل 243 میں ترمیم کے ذریعے یہ کہا گیا کہ فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف فلیٹ کو بھی آرٹیکل 248 کے تحت صدر کی طرح استثنیٰ حاصل ہوگا۔
تاہم وزیر اعظم شہباز شریف نے ٹوئٹر پر بیان میں واضح کیا کہ انھوں نے اپنی جماعت کو ہدایت دی ہے کہ وزیراعظم کے استثنیٰ کی شق واپس لے لی جائے۔ ان کے مطابق، یہ تجویز سینیٹ میں بعض اراکین نے ذاتی طور پر پیش کی تھی اور یہ کابینہ کے منظور شدہ مسودے کا حصہ نہیں تھی۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وہ استثنی اس لیے نہیں لیں گے کہ عوام کا منتخب کردہ نمائندہ عوام کو جواب دہ ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق، اجلاس میں جب صدر اور وزیراعظم کے استثنیٰ کی بات ہوئی تو چیئرمین سینیٹ اور سپیکر قومی اسمبلی کے لیے بھی استثنیٰ کی تجویز سامنے آئی۔ تاہم سپیکر سردار ایاز صادق نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام کے نمائندے ہیں، اس لیے کسی قسم کا استثنیٰ قبول نہیں کریں گے۔
وزیرِ مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اپنے قومی ہیروز کی خدمات کو تسلیم کرنا ضروری ہے، چاہے وہ استثنیٰ، مراعات یا اعزازی رینکس کی شکل میں ہوں۔ تاہم انھوں نے یہ واضح کیا کہ اس حوالے سے آئینی ترمیم ابھی زیرِ غور ہے، اس لیے حتمی تبصرہ قبل از وقت ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن نے صدارتی استثنی کے حوالے سے بتایا کہ 1973 کے اصل آئین میں صدر کو ہمیشہ سے استثنی حاصل تھا لیکن جنرل ضیاء الحق نے جب آئین کو مسخ کیا تو یہ استثنی ختم کر دیا۔ انہوں نے صدر کے عہدے کا ذکر کیے بغیر کہا کہ اگر انکے ماتحت کو استثنیٰ دیا جا رہا ہے تو سپریم کمانڈر کو کیوں نہ دیا جائے، تاہم انھوں نے طنزیہ انداز میں گلہ کیا کہ پاکستان میں سیاسی لوگوں کو استثنیٰ کم ہی ملتا ہے۔
پاکستانی سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ صحافی عمر چیمہ نے لکھا کہ "آسان لفظوں میں استثنیٰ کا مطلب یہ ہے کہ کسی حکومتی یا عسکری عہدے دار کو چھوا نہیں جا سکتا۔ تجزیہ کار عامر ضیا کے مطابق تاحیات استثنیٰ جمہوریت کے بنیادی اصول یعنی منتخب نمائندوں کے احتساب پر سوالیہ نشان ہے۔
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے تبصرہ کیا کہ دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں کسی بھی سربراہِ ریاست کو زندگی بھر کے لیے استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا، اور ایسی مثالیں صرف بادشاہتوں میں پائی جاتی ہیں۔
اتحادی حکومت اپنی سویلین اتھارٹی کیوں ختم کرنے جا رہی ہے؟
ماہرِ آئینی امور احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو صرف اپنے عہدے کی مدت کے دوران فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہوتا ہے، تاہم "تاحیات استثنیٰ” کی تجویز کسی مہذب جمہوریت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک صدر یا فیلڈ مارشل کی مدت ہے، ان کے لیے استثنیٰ قابلِ فہم ہے، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد اگر ان میں سے کسی کے خلاف کوئی کیس بنتا ہے تو اسے قانون سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔
