کن پاکستانیوں کو مشکوک قرار دے کر بیرون ملک سفر سے روکا جاتا ہے؟

کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت مختلف ایئرپورٹس پر بیرونِ ملک جانے والے ورکرز اور وزٹ ویزہ رکھنے والے مسافروں کو آف لوڈ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ہزاروں پاکستانی مسافر آف لوڈ کیے جا چکے ہیں، جس پر عوام کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ دوسری جانب ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ تمام مسافروں کو نہیں بلکہ صرف مشکوک افراد کو ہی بیرونِ ملک سفر سے روکا جاتا ہے۔ ان کے مطابق جن مسافروں کے پاس مکمل قانونی دستاویزات موجود ہوں اور بیرونِ ملک سفر کی معقول وجہ بھی ہو، انہیں روکنا تو دور کی بات، امیگریشن عملہ انہیں مکمل سہولیات فراہم کرتا ہے۔

تاہم اس ساری صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جہاں روزانہ متعدد مسافروں کو مختلف وجوہات کی بنا پر سفر سے روکا جا رہا ہے، وہیں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جھوٹی اور بے بنیاد افواہوں کا بازار گرم ہے۔ سوشل میڈیا پر اس آف لوڈنگ مہم کو لے کر جعلی تصویروں، ویڈیوز اور تحریروں کی بھی بھر مار دکھائی دے رہی ہے، بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امیگریشن حکام ایسے کاغذات طلب کر رہے ہیں جنہیں نہ انہوں نے پہلے کبھی دیکھا اور نہ ہی ان کے بارے میں سنا ہے۔ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے اہلکاروں کی طرف سے نہ صرف حلف نامے مانگے جا رہے ہیں بلکہ سفر کی اجازت دینے کیلئے ایف آئی اے اہلکاروں کی جانب سے ان سے پیسوں کا تقاضا بھی کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اے آئی سے بنائی گئی جذباتی اور گمراہ کن تصاویر بھی سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہو رہی ہیں، جن کی ایف آئی اے حکام باقاعدہ تردید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ائیرپورٹس پر صرف ان مسافروں کو آف لوڈ کیا جا رہا ہے جو وزٹ ویزہ یا ورک ویزہ لے کر کسی ایسے ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں جہاں سے وہ ایجنٹوں کے ذریعے یورپ جا سکیں۔ بعض کو تو اپنے موجودہ ویزہ کے بارے میں بنیادی معلومات بھی نہیں ہوتیں۔ ایسے مشکوک مسافروں کو انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے جاری مہم کے تحت بیرون ملک سفر سے روک دیا جاتا ہے۔ حکام کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ایسے فرد کو آف لوڈ نہیں کیا جا رہا جس کے پاس حقیقی ویزہ یا دستاویزات موجود ہوں، وزٹ ویزہ والوں سے حلف نامے کی شرط بارے ایف آئی اے کا موقف ہے کہ کسی بھی مسافر سے اس حوالے کوئی حلف نامہ طلب نہیں کیا جا رہا۔

ایف آئی اے لاہور زون کے ڈائریکٹر کیپٹن محمد علی ضیاء کے بقول سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ لوگوں کو بلاوجہ آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ رزق حلال کے لیے جا رہے ہیں انھیں تنگ کیا جا رہا ہے۔ ان سب باتوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جو لوگ حقیقی طور پر قانونی طریقے سے کسی بھی جائز مقصد کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہے ہیں وہ کسی بھی پروپیگنڈے میں نہ آئیں۔ انہیں روکنا تو درکنار امیگریشن عملہ انہیں سہولت فراہم کرے گا۔‘’اس کے برعکس وہ لوگ جو ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کر مختلف ملکوں کے ٹرانزٹ ویزے لگوا کر بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر آگے جا کر کشتی حادثات جیسے واقعات کا شکار ہوتے ہیں جس سے نہ صرف ان کی جانیں جاتی ہیں بلکہ پاکستان کا نام بھی خراب ہوتا ہے ایسے افراد کو ہر صورت بیرون ملک سفر کرنے سے روکا جائے گا۔ اس لیے اب ایئرپورٹس پر سکروٹنی سخت کر دی گئی ہے اور تمام دستاویزات کو چیک کرکے صرف ان لوگوں کو جانے دیا جا رہا ہے جن کے پاس جائز ویزہ اور جائز مقاصد واضح ہوتے ہیں، لیکن اگر کہیں گڑبڑ نظر آتی ہے تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔‘

ایف آئی اے کے مطابق ’مسافروں کو آف لوڈ کرنا کوئی سزا نہیں بلکہ سفری دستاویزات کی جانچ اور عملدرآمد کو یقینی بنانے کا طریقہ کار ہے۔ ائیرپورٹس پر صرف ایسے مسافروں کو آف لوڈ کیا جاتا ہے جو ناقابلِ قبول یا جعلی دستاویزات رکھتے ہوں، وہ سفری معلومات واضح طور پر فراہم نہ کرسکیں، ماضی میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے ہوں یا ان میں انسانی سمگلنگ جیسے جرائم کے شبہات پائے جائیں۔ اس لیے عوام کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ ہمیشہ مکمل، درست اور تصدیق شدہ سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کریں اور غیر قانونی ایجنٹس کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ مسافروں کی حفاظت ایف آئی اے کی اولین ترجیح ہے۔‘

 

Back to top button