سوئس بینک میں کن پاکستانیوں کے خفیہ اکاؤنٹس تھے؟

سوئس لیکس اسکینڈل میں 18 ہزار خفیہ بینک اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن میں اگرچہ سابق آئی ایس چیف جنرل اختر عبدالرحمن اور جنرل زاہد علی اکبر کے نام نمایاں ہیں تاہم اس حمام میں کئی نامور پاکستانی بزنس مین، سیاستدان اور افسران بھی ننگے ہو گئے ہیں۔

معروف تحقیقاتی صحافی عمر چیمہ کے مطابق ان افراد میں ایک ایسا پاکستانی بینکر بھی شامل ہے جو مشرق وسطیٰ میں کام کرتا ہے اور اس کے سوئس اکائونٹ میں 700 ملین سوئس موجود فرانک تھے۔ سابق سینیٹر سیف اللہ دوسرے امیر ترین پاکستانی اکائونٹ ہولڈر ہیں۔ 2009ء میں ان کے اکائونٹ میں 105؍ ملین سوئس فرانک تھے یعنی نیب کی جانب سے بینک فراڈ کے الزام کے تحت ان کیخلاف ریفرنس دائر کرنے سے ایک سال قبل تک، ان کے دو بیٹے اس کیس میں شریک ملزمان تھے۔

ان کا اکائونٹ 2008ء میں نیب کی تحقیقات کے دوران کھولا گیا اور 2011ء میں بند کیا گیا۔ نیب کو بظاہر اس اکائونٹ کا پتہ نہیں تھا اور ان اکاؤنٹس میں منتقل ہونے والی رقم بھی نیب سے بچانے کے لیے ڈالی گئی تھی۔ یہ فیملی ایک بینک میں بڑی شیئر ہولڈر ہے اور اس بینک کے مالک ایک اہم وفاقی وزیر ہیں۔ اگرچہ نیب کا ریفرنس اب بھی زیر التواء ہے لیکن اس کا فیصلہ ہوتا نظر نہیں آتا۔

سابق سینیٹر گلزار احمد کے صاحبزادے اور پیپلزپارٹی کے سابق سینیٹر وقار احمد کی فیملی کا بھی ایک سوئس اکائونٹ سامنے آیا ہے۔ 2000 کی دہائی میں وقار، ان کے والد اور بھائی سینیٹرز تھے۔ انہوں نے سوئس اکائونٹ تب کھولا تھا جس میں سال 2008ء تک 9.8؍ ملین فرانک موجود تھے۔ الیکشن کمیشن میں ان تینوں میں سے کسی نے بھی اپنے یہ اثاثے ڈکلیئر نہیں کیے تھے۔ لیکن انکا یہ اکائونٹ 2013ء میں بند کر دیا گیا تھا۔

مسلم لیگ ن نے پیکاآرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

اس دوران انکی کئی ایسی جائیدادیں سامنے آئیں جو رہن رکھی گئی تھیں تاہم پاکستان میں ٹیکس حکام کو ان جائیدادوں سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ پنجاب کے ایک وزیر اور ان کے بھائی بھی سوئس بینک میں اکائونٹ موجود تھے۔

یہ اکائونٹ مارچ 2011 میں کھولے گے اور فروری 2012 میں بند کر دیے گے۔ اس میں سے ایک اکائونٹ میں 2.76؍ سوئس فرانک موجود تھے۔ نیب نے 2018ء میں اس خاندان کیخلاف انکوائری شروع کی اور بتایا کہ ان کے اثاثوں میں تب اربوں روپے کا اضافہ ہوا جب انکے بھائی پہلی مرتبہ وفاقی وزیر بنے تھے۔ اس انکوائری میں بتایا گیا تھا کہ 2011ء سے 2018ء کے درمیان اس فیملی کو ملنے والے غیر ملکی زر مبادلہ کی مالیت 708؍ ملین ڈالرز ہے۔

کریڈٹ سوئس بینک کے نئے لیک ہونے والے ڈیٹا میں ایک اور معروف خاندان کا بھی نام شامل ہے،ان کے اہل خانہ کے انفرادی اور مشترکہ اکائونٹس سامنے آئے ہیں جو 2004ء سے 2010ء تک فعال رہے۔ یہ تب کے فوراً بعد کی بات ہے جب ان کا نیب کے ساتھ ایک بھاری بینک قرضے کی سیٹلمنٹ کا معاہدہ طے پایا تھا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان اکائونٹس میں 60؍ ملین سوئس فرانک تھے۔

اس فیملی کے دو بینک اکائونٹس تھے۔ پہلا 2001ء میں تب کھولا گیا جب قرضہ ڈیفالٹ کیس میں نیب اس فیملی کے پیچھے لگا ہوا تھا۔ دوسرا اکائونٹ 2010ء سے 2015ء تک فعال رہا۔ عمر چیمہ کے مطابق اس کے علاوہ بھی پاکستان کے کئی سیاستدانوں، بینکرز، ریئل اسٹیٹ ڈویلپر اور کاروباری شخصیات کے خفیہ بینک اکاؤنٹس حالیہ لیکس میں سامنے آئے ہیں۔

Back to top button