چینی کے درآمد پر سبسڈی سے اب کس حکمران نے مال بنایا ہے ؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہمیشہ سے چینی کی درآمد پر سبسڈی کے ذریعے پیسہ کمانا ایک بزنس رہا ہے‘ اس مرتبہ شریف خاندان پر مال بنانے کا الزام لگ رہا ہے کیونکہ شریفوں کی اپنی شوگر ملز ہیں۔ لیکن اگر حکمران اس واردات میں ملوث نہ بھی ہوں تو مسئلہ یہ ہے کہ شوگر ملز مالکان میں حکمرانوں کے خاندان شامل ہیں‘ لہٰذا وہ لاکھ کہتے رہیں کہ ان فیصلوں کا ان کی ملز سے لینا دینا نہیں‘ کوئی عام آدمی بھی یہ بات نہیں مانے گا۔ سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ تو گھر کے بھیدی نے ہی تب لنکا ڈھا دی جب سابق وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چینی درآمد کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دے دیا۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ حکومت میں شامل شوگر ملز مالکان بیشک چینی برآمد نہ کرتے ہوں‘ یا انہوں نے چینی کی درآمد پر سبسڈی نہ لی ہو لیکن جب چینی کی برآمد کے فیصلے سے مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت اوپر جاتی ہے تو فائدہ سب کو ہوتا ہے اس لیے الزام ان پر بھی آتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ چینی کی فی کلو قیمت صرف ایک روپیہ بڑھنے سے شوگر انڈسٹری کو پانچ ارب روپے کا نفع ہوتا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ 2019 میں جب چینی برآمد کرنے کی اجازت دی گئی تھی تو اس وقت چینی کی قیمت 52 روپے فی کلو تھی جو برآمد کی خبر کے ساتھ ہی 70 روپے‘ پھر 90 روپے اور پھر 120 روپے تک پہنچ گئی اور پھر جب سب نے مال بنا لیا تو اسکی قیمت 90 روپے پر واپس آ گئی۔ اب  سوچیں کہ تب کتنا مال بنایا گیا ہو گا۔

رؤف کلاسرا کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں چینی دو سو روپے فی کلو بک رہی ہے۔ چھ برسوں میں چینی کی قیمت ڈیڑھ سو روپیہ فی کلو وپر گئی ہے۔ شوگر ملز مالکان فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو کر پہلے چینی برآمد کرکے مال بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں چینی کم پڑ گئی ہے لہٰذا درآمد کی جائے۔ یہ کھیل 2019ء سے کھیلا جا رہا ہے۔ اب کی دفعہ تین سو ملین ڈالرز کی چینی درآمد کی جا رہی کیونکہ مقامی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ چینی برآمد کرنے سے ڈالرز آئیں گے۔ ڈالر پتا نہیں کتنے آئے یا نہیں آئے لیکن تین سو ملین ڈالرز کی چینی ضرور درآمد ہو گی۔ شہباز شریف حکومت کے پاس شاید ڈالرز بہت ہیں لہٰذا درآمد‘ برآمد کا کھیل کھیلتے رہتے ہیں۔ یہ مت بھولیں کہ شریف خاندان کی اپنی شوگر ملز بھی ہیں‘ ویسے ہی جیسے ان کے اپنے بجلی گھر بھی ہیں۔

پنجاب اسمبلی کے معطل اپوزیشن ارکان کے خلاف ریفرنس ختم کرنے کا فیصلہ

سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اب تو سابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد نے بھی شہباز شریف کے اس حیران کن فیصلے پر سوالات اٹھا دئیے ہیں کہ انہوں نے تین سو ملین ڈالرز کی چینی بیرونِ ملک سے منگوانے کی منظوری کیوں دی ہے۔ یعنی گھر کے بھیدی نے ہی لنکا ڈھا دی ہے۔

Back to top button