کرپٹو کرنسی سے معاشی انقلاب لانےکا خواب  کس شیخ چلی نےدیکھا؟

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان مہنگائی، قرضوں اور مالیاتی عدم توازن کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، حکومت نے اچانک ایک "ڈیجیٹل انقلاب” کی راہ اپناتے ہوئے ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جس کرپٹو کرنسی کو خود اسٹیٹ بینک نے غیر قانونی اور غیر محفوظ قرار دیا، اسی کے لیے اب ریاستی ذخائر قائم کرنے اور 2000 میگاواٹ بجلی مائننگ کیلئے مختص کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ حقیقت میں پاکستان جیسا ملک جہاں پے پال تک دستیاب نہیں، وہاں کرپٹو مائننگ شروع کرنے کے دعوے شیخ چلی کا خواب معلوم ہوتا ہے

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت تاحال غیر قانونی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے سرکاری نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ ورچوئل کرنسیاں نہ صرف غیر قانونی ہیں بلکہ ان میں سرمایہ کاری کرنے والے کسی قانونی تحفظ کے مستحق نہیں۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پاکستان میں کرپٹو سمیٹ ڈیجیٹل کرنسیوں کی خریدوفروخت غیر قانونی ہے تو کہ ملک میں کرپٹو کونسل اور اتھارٹی کے قیام کا کیا جواز بنتا ہے؟ ناقدین کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک مخصوص بین الاقوامی طاقت، خصوصاً ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کی کوشش معلوم ہوتے ہیں، جس کی پالیسیوں میں کرپٹو کو نمایاں مقام حاصل ہے۔

حکومت کے کرپٹو ذخائر قائم کرنے کے منصوبے کو ماہرین ایک غیر حقیقت پسندانہ قدم قرار دیتے ہیں۔ معروف کرپٹو ماہر ہارون بیگ کے مطابق، ’’کرپٹو مائننگ ایک مہنگا، پیچیدہ اور توانائی خور عمل ہے، جو پاکستان جیسے گرم ملک کے لیے کسی بھی لحاظ سے قابل عمل نہیں۔‘‘ آئس لینڈ جیسے سرد ممالک میں موجود مائننگ اسٹیشنز کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے بنیادی مالیاتی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

ناقدین کے مطابق حکومت نے کرپٹو کونسل اور اتھارٹی تو قائم کر دی ہے تاہم مجوزہ ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کا چیئرمین کون ہو گا؟ کسی کو معلوم نہیں۔ ریگولیشنز کہاں ہیں؟ کسی کو کچھ پتا نہیں۔ وزارتِ خزانہ جو خود کرپٹو کونسل کی چیئر پرسن شپ رکھتی ہے، ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ ترجمان وزارتِ خزانہ کے مطابق، ’’کونسل ہی ضوابط کی ذمہ دار ہے،‘‘ مگر خود کونسل کے پاس نہ کوئی عملی روڈ میپ ہے، نہ مہارت، نہ اختیار۔یعنی کرپٹو بارے سارے معاملات ابھی ہوا میں ہی اڑتے دکھائی دے رہے ہیں

اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر کرپٹو ٹریڈنگ کو کھلی اجازت دی گئی تو ملک سے زرِ مبادلہ کا اخراج ایک نیا بحران جنم دے سکتا ہے۔ مفتاح اسماعیل اور شبر زیدی جیسے سابقہ مالیاتی ماہرین بارہا یہ انتباہ دے چکے ہیں کہ کرپٹو ٹریڈنگ پاکستان کی کمزور معیشت کے لیے زہر قاتل بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جس ملک نے ابھی تک پے پال جیسی بنیادی سروس کو فعال نہیں کیا، جہاں بینکنگ کا نظام غیر محفوظ ہے، وہاں کرپٹو جیسا پیچیدہ نظام اپنانا، صرف مالیاتی ناپختگی کا ہی نہیں بلکہ بیرونی دباؤ میں فیصلے کرنے کی روش کا ثبوت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے وقت پر پالیسی واضح نہ کی تو یہ "ڈیجیٹل خواب” بہت جلد "مالیاتی ڈراؤنا خواب” بن سکتا ہے۔

ناقدین کے مطابق حکومت کی کرپٹو پالیسی ڈونلڈ ٹرمپ یا دیگر مغربی طاقتوں کو خوش کرنے کی ایک سفارتی چال ہے۔نہ کہ ملکی معاشی بہتری کی کوئی سنجیدہ کوشش۔ اگر پاکستان میں پے پال جیسے بنیادی پلیٹ فارم کا حل آج تک نہیں نکالا جا سکا، تو بٹ کوائن جیسے پیچیدہ نظام کو ریگولیٹ کرنے کی دعوے داری محض سراب ہے۔معاشی ماہرین کے بقول  حکومت کو فوری طور پر واضح اور جامع کرپٹو پالیسی ترتیب دینی ہوگی، جس میں قومی مفادات، قانونی تحفظات اور ماہرین کی آرا کو ترجیح دی جائے۔ بصورت دیگرکرپٹو مہم نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچائے گی بلکہ پاکستان کو عالمی سطح پر بداعتمادی کا شکار بھی بنا سکتی ہے۔ اس لئے حکام کو ملکی مفاد میں معاشی خودمختاری کی بجائے صرف واشنگٹن کو خوش کرنے کی روش کو فوری ترک کر دینا چاہیے ۔ ماہرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ کرپٹو کسی صورت بھی پاکستان کے مفاد میں نظر نہیں آتی حکومت کو کرپٹو کرنسی سے ٹرمپ انتظامیہ کو وقتی خوش کرنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ تاہم ملکی معیشت کو تباہ کر کے ٹرمپ کی خوشی کا حصول بالکل بھی فائدے کا سودا نہیں ہے۔

Back to top button