ممدانی کی الیکشن میں جیت کا کریڈٹ کس عورت کو جاتا ہے؟

کہتے ہیں، “ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے”،نیویارک کے پہلے مسلمان کم عمر مئیر کا اعزاز پانے والے زہران ممدانی کی کہانی اس مقولے کی ایک دلکش مثال ہے۔ مگر رَما دواجی کے معاملے میں یہ ہاتھ ممدانی کیلئے صرف سہارا نہیں، بلکہ تخلیق کا لمس ثابت ہوا۔ رما نے نہ صرف زہران کی انتخابی مہم کے رنگوں کو چُنا بلکہ اُن رنگوں میں امید، تنوع اور مزاحمت کی کہانی بھی بُنی۔ وہ پوری انتخابی مہم کے دوران پسِ پردہ رہیں، مگر ان کی تخلیقی چھاپ ہر بینر، ہر پوسٹر اور ہر نعرے میں دکھائی دی۔ رَما نے بولنے کے بجائے رنگوں سے بات کی، انھوں نے بینرز اور پوسٹرز کے ذریعے ایسا منظرنامہ تراشا، اور رنگوں کو ایک ایسی بصری زبان دی جس نے زہران ممدانی کو ایک سیاست دان سے زیادہ اپنے حق کے حصول کی ایک علامت بنا دیا۔
مبصرین کے مطابق نیویارک سٹی کے نومنتخب میئر زہران ممدانی نے جہاں میئرشپ کے انتخابات میں تاریخی کامیابی سے بین الاقوامی توجہ حاصل کی وہیں ان کی اہلیہ رما دواجی نے پس پردہ رہ کر اس مہم کو ایک منفرد شناخت دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ 28 سالہ مصورہ اور ڈیزائنر رَما نے اگرچہ انتخابی سرگرمیوں میں براہ راست حصہ نہیں لیا مگر ممدانی کی انتخابی مہم کی بصری شناخت، رنگوں کے انتخاب اور مہم کی مجموعی جمالیات تیار کرنے کی ذمہ داری انھوں نے ہی نبھائی۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق مہم میں استعمال ہونے والے شوخ پیلے، نارنجی اور نیلے رنگ کے امتزاج جو بعد میں ممدانی کی عوامی تحریک کی پہچان بن گئے وہ رما دواجی کی ہی تخلیقی سوچ کا نتیجہ تھے۔ امریکی ریاست ڈلاس میں پرورش اور دبئی میں تعلیم حاصل کرنے والی رما نے ممدانی کی مہم کو ایک ایسی جدید مگر عوامی اپیل رکھنے والی شناخت دی جس نے نوجوان ووٹروں کو متوجہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رما نے انتخابی عمل کے دوران بمشکل کوئی عوامی بیان دیا یا سوشل میڈیا پر سرگرمی دکھائی۔ ان کی واحد انتخابی پوسٹ جون میں پرائمری الیکشن جیتنے کے بعد سامنے آئی جس میں انہوں نے مختصر سا پیغام لکھا ’اس سے زیادہ فخر کی کوئی اور بات نہیں ہو سکتی‘۔
خیال رہے کہ رما دواجی اور زہران ممدانی کی ملاقات سنہ 2021 میں ڈیٹنگ ایپ ’ہِنج‘ پر اس وقت ہوئی تھی جب ممدانی نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ دونوں کی پہلی ملاقات بروکلن کے یمنی کیفے ’قہوہ ہاؤس‘ میں ہوئی جس کے بعد دونوں نے مک کیرن پارک میں چہل قدمی کی۔دوسری ملاقات پر بات کچھ اور آگے بڑھی اور ممدانی نے انہیں کوئینز میں اپنا محلہ دکھایا۔ یہ جوڑا اکتوبر 2024 میں منگنی کے بندھن میں بندھا جس کے صرف چند دن قبل ممدانی نے میئر کے عہدے کے لیے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ دسمبر میں دبئی میں ایک مختصر جشن کے بعد دونوں نے فروری 2025 میں مین ہیٹن کی عدالت میں سادہ سی تقریب میں شادی کی اور شادی کے بعد سرکاری دفتر کے سبز صوفوں پر ان کا فوٹو شوٹ ہوا۔
رما کے قریبی دوست انہیں “دورِ حاضر کی شہزادی ڈیانا” کہتے ہیں کیونکہ وہ نہ صرف نرم گو، باوقار اور اثر انگیز ہیں بلکہ خاموش طبع بھی ہیں اور شاید یہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے: وہ چیختی نہیں، وہ دکھاتی ہیں۔ وہ نعرہ نہیں لگاتیں، مگر رنگوں، اشکال اور احساسات سے بھرپور کہانی بیان کرنے کا فن جانتی ہیں۔
اسلاموفوبیاکاسامناکرنے کےباوجودزہران ممدانی میئرکیسےبنے؟
مبصرین کے بقول حالیہ نیویارک کے مئیر کے الیکشن میں تبدیلی کی نئی لہر کے ساتھ ابھرنے والے زہران ممدانی کے پیچھے اگر کوئی خاموش مگر روشن قوت کارفرما تھی، تو وہ تھی اُن کی اہلیہ رَما دواجی۔ ایک مصورہ، ایک تخلیق کار، اور شاید اس مہم کی ان دیکھی معمار۔ 28 سالہ رما نے خود کو اس انتخابی دوڑ کی ہلچل سے دور رکھا، مگر ان کی تخلیقی چھاپ ہر پوسٹر، ہر رنگ، اور ہر نعرے میں جھلکتی دکھائی دی۔ پیلے، نارنجی اور نیلے رنگوں کا وہ جاندار امتزاج، جو بعد میں ممدانی کی مہم کی پہچان بنا، رما کی ہی تخلیق تھا۔ جو ممدانی کی تحریک کا چہرہ بن گیا۔ مبصرین کے بقول زہران ممدانی کی سیاسی فتح صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں، بلکہ رما دواجی کی تخلیقی روح کی جیت بھی ہے۔ جس نے پسِ پردہ رہ کر بھی سب کو اپنے رنگوں سے گرویدہ بنا لیا۔
