ایوب خان پر فاطمہ جناح کے قتل کا الزام کس نے اور کیوں لگایا ؟

بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے انتقال کے دہائیوں بعد بھی اس سوال کا جواب نہیں مل پایا کہ کیا ان کی موت طبعی تھی یا ان کو قتل کیا گیا؟
فاطمہ جناح کا انتقال پراسرار حالات میں 9جولائی 1967 کو ہوا۔ اُن کی اچانک موت کی خبر نے ملک و قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ فاطمہ جناح کی موت پاکستانی عوام کے لیے ایک عجب کہانی تھی۔ حالات اور واقعات کے پیش نظر عمومی تاثر یہی تھا کہ محترمہ کی موت طبعی طریقے سے نہیں ہوئی بلکہ انہیں قتل کیا گیا۔ جنوری 1972 میں غلام سرور نامی ایک شخص نے فاطمہ جناح کی موت کے حوالے سے عدالت میں ایک درخواست سماعت کے لیے دائر کی۔ اس حوالے سے اخبارات میں شائع خبر کے مطابق ایڈیشنل سٹی مجسٹریٹ ممتاز محمد بیگ نے غلام سرور ملک کی دفعہ 176 ضابطہ فوجداری کے تحت درخواست کی سماعت کے لیے 17جنوری 1972 کی تاریخ مقرر کی۔ غلام سرور ملک نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ میں پاکستان کا ایک شہری ہوں اور محترمہ فاطمہ جناح سے مجھے بے انتہا عقیدت ہے، مرحومہ قوم کی معمار اور عظیم قائد تھیں۔ انہوں نے تمام زندگی جمہوریت اور قانون کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی۔ 1964 میں جب انہوں نے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تو وہ عوام کی امیدوں کا مرکزبن گئیں۔ وہ اس ٹولے کی راہ میں جو ہر صورت اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا تھا، ایک بڑی رکاوٹ تھیں اور یہ ٹولہ ہر قیمت پر ان سے نجات حاصل کرنا چاہتا تھا۔ سرور نے موقف اختیار کیا کہ 8 جولائی 1967 کو محترمہ فاطمہ جناح رات کے گیارہ بجے تک ایک شادی میں شریک تھیں اور وہ ہشاش بشاش تھیں جبکہ 9 جولائی کو اچانک یہ اعلان کر دیا گیا کہ وہ انتقال کر گئیں ہیں۔ ان کی تجہیز و تکفین کے وقت عوام کو جنازے کے قریب نہیں جانے دیا گیا اور یہاں تک کہ انہیں سپرد خاک کرنے تک ان کے آخری دیدار کی اجازت بھی نہیں دی گئی تھی۔ اس دوران جو آخری دیدار کرنا چاہتے تھے ان پر لاٹھی چارج کیا گیا اور آنسو گیس پھینکی گئی۔ اس وقت بھی یہ افواہیں عام تھیں کہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے نشانات تھے اور انکی ایک آنکھ پر نیل پڑا ہوا تھا۔ لیکن ان افواہوں کو دبا دیا گیا۔
غلام سرور ملک نے اپنی درخواست میں کہا کہ مجھے یہ تشویش رہی کہ محترمہ فاطمہ جناح کو کہیں قتل نہ کیا گیا ہو۔ بعد ازاں حسن اے شیخ اور دیگر معزز ہستیوں نے اس سلسلے میں اپنے شک و شبہ کا اظہار کیا تھا اور یہ معاملہ اخبارات میں نمایاں سرخیوں کے ساتھ شائع ہوا اور اداریے بھی لکھے گئے۔ اگست 1971 میں ایک مقامی اردو روزنامے میں یہ خبر شائع ہوئی کہ محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا ہے۔ اس خبر میں غسل دینے والوں کے بیانات بھی شائع ہوئے، جس میں ہدایت علی عرف کلو غسال نے یہ کہا تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے جسم پر زخموں کے گہرے نشانات تھے اور ان کے پیٹ میں سوراخ بھی تھا جس سے خون اور پیپ بہہ رہی تھی۔ غسال نے کہا تھا کہ محترمہ کے خون آلود کپڑے اس کے پاس موجود ہیں، لیکن اس وقت کی حکومت نے نہ تو اس کی تردید کی اور نہ ہی اس معاملے میں انکوائری کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ اس معاملے کی دیگر غسالوں نے بھی تصدیق کی تھی۔غلام سرور ملک نے اس سلسلے میں اخبارات کی کاپیاں بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کی۔ انہوں عدالت سے درخواست کی کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں عدالتی تحقیقات کرے، اس مقدمہ میں اختر علی محمود ایڈووکیٹ پیروی کر رہے تھے۔ اگرچہ اس کیس کا کوئی فیصلہ نہ ہوسکا لیکن اس سانحے کے کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
22 جولائی 2003 کو روزنامہ نوائے وقت میں سابق اٹارنی جنرل اور قائد اعظم محمد علی جناح کے اعزازی سیکریٹری شریف الدین پیرزادہ نے لکھا تھا کہ فاطمہ جناح کی طبعی طور پر موت واقع نہیں ہوئی تھی بلکہ مادرملت کو ان کے ملازم کے ذریعے قتل کروایا گیا تھا۔ پیرزادہ کے مطابق فاطمہ جناح کی رحلت کے بعد ان کے بھانجے اکبر پیر بھائی ممبئی سے کراچی آئے۔ جب انہوں نے مس فاطمہ جناح کی وفات کے اسباب کے بارے میں حکام سے پوچھا تو وہ انہیں مطمئن نہ کر سکے۔ انگریزی روزنامہ ’ڈان‘ میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک انٹرویو شائع ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے بھانجے اکبر پیر بھائی نے ایوب خان سے کہا تھا کہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا ہے مگر تحقیقات کے لئے ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔ اکبر پیر بھائی بھارت کے ایک ممتاز وکیل تھے اور شریف الدین پیرزادہ کے بقول انہوں نے اپنے طور پر تحقیقات کرکے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ان کی خالہ کا قتل کیا گیا۔ اکبر پیر بھائی نے اس حوالے سے ایوب خان سے پیرزادہ کی موجودگی میں ملاقات کی تھی۔ شریف الدین پیرزادہ نے نوائے وقت کے لیے اپنے آرٹیکل میں یہ بھی انکشاف کیا کہ جب فاطمہ جناح کی وفات کے محرکات جاننے کے لیے وزیر داخلہ قاضی فضل اللہ نے انکوائری کمیٹی قائم کی تو یہ بات سامنے آئی کہ محترمہ کی گردن کے قریب 4 انچ لمبا ایک زخم تھا جسے موت کے بعد سی دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے جسم پر کئی چوٹوں کے نشانات بھی پائے گئے۔ تاہم ممکنہ عوامی غیض و غضب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس رپورٹ کو پبلک نہیں کیا گیا۔
مصنفہ سائرہ ہاشمی نے بھی اپنی کتاب ”ایک تاثر دو شخصیات ”میں فاطمہ جناح کی موت کے حوالے سے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ 8 جولائی 1967 کی رات فاطمہ جناح نے میر لائق علی کی بیٹی کی شادی کی تقریب میں شرکت کی جہاں وہ ہشاش بشاش تھیں۔
فاطمہ جناح کے گھریلو ملازم سلیم کے بیان کے مطابق مادر ملت نے شادی سے واپسی پر کہا کہ وہ کھانا نہیں کھائیں گی لیکن انہوں نے کچھ پھل کھائے اور پھر قصر فاطمہ کی بالائی منزل پر سونے چلی گئیں، محترمہ کا اصول تھا کہ وہ روز صبح اٹھ کر چابیاں نیچے برآمدے میں پھینکا کرتیں تھیں جس سے ملازم کمروں کے تالے کھولتے ۔ 9 جولائی کے روز مقررہ وقت تک چابیاں نہ آئیں تو گھر کا ملازم پریشان ہوا، اس کو تشویش لاحق ہوئی۔ اسی اثنا میں ان کی ملازمہ بھی ڈیوٹی پر پہنچ گئی۔ صورتحال کا پتہ لگنے پر اس نے کہا کہ خدا نخواستہ محترمہ کی طبیعت خراب نہ ہو، وہ بھاگتی ہوئی قصر فاطمہ کے نیچے والے کمرے میں گئی جہاں چابیوں کا ایک اضافی گچھا رکھا تھا۔ اتفاقاً ان میں سے ایک چابی محترمہ کے کمرے کو لگ گئی۔ اس دوران سر غلام حسین ہدایت اللہ کی اہلیہ کو بھی بلوا لیا گیا۔ چنانچہ جب ان لوگوں نے محترمہ کے کمرے کا دروازہ کھولا تو فاطمہ جناح کو مردہ پایا۔ ایسے میں یہ سوال تو بنتا ہے کہ رات کو ہشاش بشاش نظر آنے والی فاطمہ جناح نیند کے دوران ہی کیونکر انتقال کر گئیں۔
یاد رہے کہ 1965 کے انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب آمریت کو چیلنج کرتے ہوئے ان کے خلاف صدارتی الیکشن لڑا تھا۔ الیکشن سے پہلے اور الیکشن کے بعد بھی ایوب خان اور فاطمہ جناح میں کشیدگی برقرار رہی چونکہ ایوب قائد کی بہن کو اپنے شخصی اقتدار کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔
اس زمانے میں کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے سرکردہ رہنما نوابزادہ نصراللہ خان نے بھی بارہا یہ کہا کہ محترمہ فاطمہ جناح کو قتل کیا گیا ہے۔ نصراللہ خان کا موقف تھا کہ آئی جی پولیس نے مادر ملت کے قتل پر جان بوجھ کر پردہ ڈالا۔ ان کے مطابق سابق سیکرٹری خارجہ میاں شہریار خان کی والدہ جو کہ فاطمہ جناح کی بہترین دوست تھیں اس حوالے سے بہت سے حقائق جانتی ہیں۔ بعد ازاں شہریار خان کی والدہ نے اپنی یادداشتیں لکھیں تو انہوں نے بتایا کہ فاطمہ جناح کی موت کا سرکاری سبب دل کا دورہ بتایا گیا تاہم ان کے حالات زندگی کے مطالعے سے یہ بات کبھی بھی سامنے نہیں آئی کہ وہ کبھی عارضہ قلب کی مریضہ رہی ہوں۔اسی بنیاد پر بہت سے لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب میں فاطمہ جناح کے گھر گئی تو وہ مردہ حالت میں تھی اور ان کے اردگرد برف کے بلاکس رکھے ہوئے تھے۔ فاطمہ جناح کے چہرے پر نیلے رنگ کے دھبے تھے خاص طور پر بائیں آنکھ کے قریب۔ علاوہ ازیں مادرملت کی بیڈ شیٹ پر تھوڑا سا خون بھی لگا ہوا تھا۔ اب مجھے یہ نہیں پتا کہ یہ خون ان کی آنکھ ناک یا منہ سے نکلا تھا۔ کراچی کے کئی مہاجر رہنما آج بھی یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ فاطمہ جناح کو موت سے ایک رات قبل شادی کی تقریب میں زہر دیا گیا جس کے بعد وہ اپنے گھر پہنچ کر دم توڑ گئیں۔ تاہم اس زمانے کے اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی کہ محترمہ فاطمہ جناح کو ایوب خان کے گماشتوں نے ان کے ذاتی ملازم کے ذریعے قتل کروایا۔
