چینی برآمدات کی اجازت کس نے دی؟ پی اے سی کا حکام سے تفصیلات طلب کرنے کا مطالبہ

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے چینی برآمدات کے معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے شوگر ملز مالکان کی تفصیلات طلب کر لیں۔ کمیٹی نے استفسار کیا ہے کہ چینی برآمد کرنے کی اجازت کس نے دی، کن کمپنیوں نے برآمدات کیں، اور چینی کس کس ملک کو بھیجی گئی؟

پی اے سی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں ملک میں چینی کی قیمتوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی معین پیرزادہ نے کہا کہ شوگر مافیا صوبائی حکومتوں کے کنٹرول سے باہر ہے، کیا مراد علی شاہ یا مریم نواز جیسے رہنما اس مافیا کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں؟ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ میں صرف کاروباری مفادات کی نمائندگی ہے، جبکہ صارفین کی آواز شامل نہیں۔

عمران خان کی گرفتاری غیر آئینی ہے ، 5 اگست سے تحریک کا آغاز ہوگا: علی امین گنڈاپور

یاد رہے کہ پی اے سی نے گزشتہ ہفتے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ سے متعلق جاری کیے گئے ایف بی آر کے نوٹیفیکیشن کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر کو وضاحت کے لیے طلب کیا تھا۔

چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی کابینہ کی ہدایات پر 5 لاکھ ٹن چینی کی درآمد کے لیے چار اقسام کے ٹیکسز میں نمایاں کمی کی گئی، جنہیں 18 فیصد سے گھٹا کر 0.2 فیصد کر دیا گیا۔

دوسری جانب، سیکریٹری فوڈ سیکیورٹی نے کمیٹی کو بتایا کہ چینی برآمد کی اجازت کاشتکاروں کے مفاد میں دی گئی تھی کیونکہ سیزن کے آغاز پر 1.3 ملین ٹن چینی کا ذخیرہ موجود تھا۔ تاہم، ارکان کمیٹی نے ان وضاحتوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ چینی برآمد کی اجازت صرف چند مل مالکان کو فائدہ پہنچانے کے لیے دی گئی، جس کے نتیجے میں وہ ارب پتی بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ چینی سے متعلق معاملے کو اگلے ہفتے تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے شوگر ملز مالکان کو 21 نومبر 2024 سے پیداوار شروع کرنے کی شرط پر مزید 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ لیکن بعد میں ملک میں چینی کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت نے چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، 50 ہزار ٹن چینی درآمد کرنے کے عالمی ٹینڈر پر کوئی بولی موصول نہیں ہوئی۔

Back to top button