دنیا میں پہلی بار عید کا تہوار کس نے اور کب منایا؟

مذہبی اور تہذیبی تاریخ میں عید کا تصور محض ایک تہوار نہیں بلکہ خوشی، نجات اور شکرگزاری کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ اگرچہ یہ بات حتمی طور پر کہنا مشکل ہے کہ دنیا میں پہلی عید کب منائی گئی یا لفظ "عید” کب وجود میں آیا، تاہم مختلف مذہبی روایات اور تاریخی حوالوں سے اس کی جڑیں بہت قدیم زمانوں تک پھیلی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
مورخین کے مطابق کرّۂ ارض پر خوشی کے باقاعدہ اظہار کا آغاز اُسی وقت ہوگیا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوئی۔ اس واقعے کو انسانی تاریخ کی پہلی “عید” یا یومِ مسرت قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک اور اہم موقع وہ تھا جب حضرت نوح علیہ السلام اور اُن کی اُمّت طوفانِ عظیم سے نجات پانے میں کامیاب ہوئی، اس دن کو بھی بعد ازاں ان کی امت نے خوشی کے دن کے طور پر منایاتھا۔
دیگر انبیاؑ کی حیات میں بھی ایسے کئی مواقع آئے جنہیں بعد میں یومِ عید کی حیثیت حاصل ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام پر جب آتشِ نمرود گلزار بن گئی تو اس عظیم واقعے کی یاد میں اُن کی اُمّت خوشی کا دن منایا کرتی تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت بن گیا کہ ایمان اور صبر کے نتیجے میں آزمائش بھی رحمت میں بدل سکتی ہے۔اسی طرح جس روز حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی، وہ دن اُن کے پیروکاروں کے لیے یومِ مسرت بن گیا۔ بنی اسرائیل بھی اُس دن کو عید کے طور پر مناتے تھے جب انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے آزادی نصیب ہوئی، جبکہ عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے موقع کو بطور عید مناتے ہیں۔ یعنی کہ مختلف تاریخی واقعات مختلف ادوار اور اقوام میں خوشی، نجات اور شکرگزاری کے تہوار کے طور پر بطور عیدمنائے جاتے رہے ہیں۔ اسی طرح نزول مائدہ کا دن کامیابی، پاکیزگی اور خدا پر ایمان لانے کی طرف بازگشت کا دن تھا لہٰذا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اس کا نام عید رکھا۔
ماہرین کے مطابق اسلامی تعلیمات میں بھی لفظ "عید” کا واضح ذکر موجود ہے۔ قرآن پاک میں حضرت عیسٰی علیہ السلام کی ایک دعا کے حوالے سے عید کا ذکر موجود ہے۔ قرآن مجید کے ساتویں پارے کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر 114 ہے کہ عیسٰی ابن مریم علیہ السلام نے عرض کی اے اللہ اے میرے رب ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ سورہ مائدہ کی اس آیت کے اصل متن میں لفظ عید ہی استعمال ہواہے۔ اس آیت مبارکہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ عید کا تصور محض خوشی نہیں بلکہ اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے سے جڑا ہوا ہے۔
لسانی ماہرین کے مطابق "عید” عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ "عود” ہے، جس کے معنی ہیں "لوٹ کر آنا” یا "بار بار آنا”۔ یہی وجہ ہے کہ عید کو ایسا تہوار سمجھا جاتا ہے جو ہر سال خوشی اور رحمت کے پیغام کے ساتھ لوٹ کر آتا ہے۔ بعض ماہرین یہ بھی رائے دیتے ہیں کہ اس لفظ کی جڑیں عبرانی یا سریانی زبانوں میں بھی مل سکتی ہیں، جو قدیم تہذیبوں کے باہمی لسانی اثرات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو عید کا تصور انسانی تاریخ کے آغاز سے ہی خوشی، نجات اور خدا سے تعلق کی تجدید کے طور پر موجود رہا ہے۔ مختلف ادوار اور اقوام میں اس کی شکلیں بدلتی رہیں، مگر اس کی روح ہمیشہ خوشیاں بانٹنے، شکر ادا کرنا اور امید کو زندہ رکھنے کے گرد گھومتی رہی۔
