اسلام آباد مذاکرات میں شامل امریکی اور ایرانی شخصیات کون ہیں؟

اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی سفارتی وفود کے درمیان بالآخر مذاکرات شروع تو ہو چکے ہیں لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کا شدید فقدان ہے کیونکہ گذشتہ ایک سال میں یہ دونوں دو بار مذاکرات کر چکے ہیں اور دونوں بار ان کے نتیجہ خیز ہونے سے قبل ہی جنگ شروع ہو گئی۔ اس صورتحال میں یہ سوال اہم ہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے بات چیت کے لیے جن افراد کا انتخاب کیا گیا ہے، وہ کون ہیں اور حالیہ تنازعے کے دوران ان کا کردار کیا رہا ہے؟
دنیا کی نظریں اب اس مشروط اور عارضی جنگ بندی کو ایک معاہدے کی شکل دینے کے لیے مذاکراتی عمل پر جمی ہیں جو اسلام آباد میں شروع ہو چکا ہے۔ ان مذاکرات کا اعلان سب سے پہلے ایرانی سپریم کونسل کے بیان میں سامنے آیا جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ انھوں نے جنگ بندی معاہدے کے بعد دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیموں کو 10 اپریل 2026 کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ مذاکرات پائیدار امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی بات ہوئی جس میں ایران نے شرکت کی تصدیق کی۔
امریکہ کی جانب سے اس اہم سفارتی مشن کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کے سپرد کی گئی ہے، جنہیں حالیہ جنگ میں نسبتاً معتدل اور قابلِ قبول چہرہ سمجھا جا رہا ہے۔ وینس کی سیاسی کہانی خود امریکی سیاست میں تبدیلی اور مفاہمت کی مثال ہے۔ ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقد رہنے والے وینس آج ان کے قریبی ساتھی ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ تنازع کے دوران جہاں ٹرمپ اور دیگر امریکی عہدیداروں کے بیانات سخت اور جارحانہ رہے، وہیں وینس نے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کیا، جس نے انھیں ایران کے لیے قابلِ قبول بنا دیا۔
امریکی ٹیم میں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ وٹکوف صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور مشرق وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی ہیں جو پیچیدہ مذاکرات میں راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم جنیوا مذاکرات کی ناکامی کے بعد ایران میں ان پر اعتماد کم ہوا ہے۔ جیرڈ کشنر ایک بااثر سیاسی و کاروباری شخصیت ہیں جو ماضی میں مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری خصوصاً ابراہم معاہدوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں، مگر ان کی غیر سرکاری حیثیت ان کے کردار کو محدود بھی کرتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، جو ایک منفرد حیثیت کے حامل رہنما ہیں۔ وہ نہ صرف پاسدارانِ انقلاب سے قریبی تعلق رکھتے ہیں بلکہ ایک تجربہ کار منتظم اور سیاستدان بھی ہیں۔ قالیباف کا پس منظر ایران عراق جنگ سے جڑا ہوا ہے اور وہ فوجی کمانڈر سے لے کر تہران کے میئر اور پھر پارلیمنٹ کے سپیکر تک کے سفر سے گزرے ہیں۔ حالیہ جنگ کے دوران ان کے بیانات سخت رہے، مگر امریکی حلقے انھیں ایک عملی اور قابلِ مذاکرات شراکت دار بھی سمجھتے ہیں۔
ایرانی وفد میں ممکنہ طور پر وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی شامل ہوں گے، جو ایران کے تجربہ کار سفارتکاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ 2015 کے جوہری معاہدے میں بھی کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں اور حالیہ تنازع کے دوران عالمی سطح پر ایران کا مؤقف پیش کرنے میں سب سے نمایاں رہے۔ عراقچی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بیک وقت سخت گیر ریاستی مؤقف اور نرم سفارتی انداز کو یکجا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پاکستان نہ صرف ان مذاکرات کا میزبان ہے بلکہ پس پردہ ثالثی میں بھی اس کا کردار نمایاں رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سمیت اعلیٰ عسکری قیادت کے امریکی حکام سے روابط نے بھی ماحول ہموار کرنے میں کردار ادا کیا۔ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریڈ زون کو مکمل طور پر فوج کے کنٹرول میں دیا جا رہا ہے جبکہ رینجرز اور پولیس بھی تعینات ہوں گے۔ جڑواں شہر راولپنڈی سمیت تعطیلات کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا انحصار صرف ایجنڈے پر نہیں بلکہ ان شخصیات پر بھی ہے جو میز پر بیٹھیں گی۔ ایک طرف جے ڈی وینس جیسے نسبتاً لچکدار سیاستدان ہیں، تو دوسری جانب محمد باقر قالیباف جیسے طاقتور مگر سخت گیر رہنما۔ یہ وہ امتزاج ہے جو یا تو اعتماد کی نئی راہ کھول سکتا ہے یا ماضی کی طرح ایک اور ناکام کوشش ثابت ہو سکتا ہے، اور دنیا کی نظریں اب اسلام آباد پر جمی ہیں جہاں یہ طے ہوگا کہ جنگ بندی محض وقفہ ہے یا واقعی امن کی شروعات۔
