غیر حاضر رہ کر مراعات کے مزے لوٹنے والے پارلیمنٹ کے بڑے بچے کون؟

عمومی طور پر سکول کے بچوں کی چھٹی کے لیے باقاعدہ درخواست، معقول وجہ اور والدین کے دستخط لازم ہوتے ہیں جبکہ دفاتر میں تو چھٹی کے حصول کیلئے کئی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کے یہ ’بڑے بچے‘ ہیں جنہیں چھٹی کی نہ وجہ بتانی پڑتی ہے، نہ ہی وہ حاضری ثابت کرنے کی زحمت کرتے ہیں بس ایوان میں نام پکارا جاتا ہے، چھٹی منظور ہو جاتی ہے اور تنخواہ بھی پوری ملتی ہے۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں اٹھنے والا یہ سوال محض اراکین کی غیر حاضری تک محدود نہیں، بلکہ ایک ایسے نظام کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ایم این ایز عموماً پورے پورے سیشنز کے لیے چھٹی پر رہتے ہیں، مگر ان کی تنخواہیں اور مراعات مسلسل آن ڈیوٹی رہتی ہیں۔
قومی اسمبلی میں اراکین پارلیمنٹ کی چھٹیوں کا معاملہ اس وقت کھل کر سامنے آیا جب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پوائنٹ آف آرڈر پر اراکین پارلیمنٹ کی چھٹیوں کے نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں یہ رواج بن چکا ہے کہ بغیر کسی معقول وجہ کے چھٹیوں کی درخواستیں جمع کروائی جاتی ہیں اور خودکار طریقے سے منظور بھی ہو جاتی ہیں، حالانکہ سکول جانے والے بچے بھی چھٹی کی درخواست میں کوئی نہ کوئی وجہ ضرور لکھتے ہیں لیکن ایوان میں صرف اعلان ہوتا ہے کہ فلاں رکن نے اس تاریخ سے اس تاریخ تک چھٹی کی درخواست دی ہے جس کے بعد ’درخواست منظور‘ کی صدا بلند کر دی جاتی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا جاتا کہ رکن اسمبلی اجلاس میں شرکت سے انکاری کیوں ہے۔ جس کے بعد متعلقہ رکن کو مکمل تنخواہ اور دیگر مراعات بھی ملتی رہتی ہیں، چاہے وہ اجلاس میں شریک ہوں یا نہ ہوں۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ بڑے بچے ہیں‘ سردار ایاز صادق کا یہ جملہ بعد ازاں پورے معاملے کی علامت بن گیا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ اگرچہ بھارت پاکستان کا دشمن ملک ہے، لیکن وہاں آئینی طور پر یہ شرط موجود ہے کہ سال میں کم از کم 140 دن پارلیمنٹ کی کارروائی ہو، اور ہر دن کم از کم 6 گھنٹے اجلاس میں شرکت کے بعد ہی رکن کو تنخواہ کا حق ملتا ہے۔اس تنقید پر سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے معاملے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تمام سیاسی جماعتوں سے درخواست کریں گے کہ وہ اپنے دو، دو سینیئر اراکین نامزد کریں تاکہ مشترکہ طور پر یہ طے کیا جا سکے کہ پارلیمنٹ کی کارکردگی کو مزید مؤثر اور بہتر کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب اراکین اسمبلی کی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کے حوالے سے سامنے آنے والے سرکاری اعداد و شمار بھی بیرسٹر گوہر کے تحفظات کی تصدیق کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق قومی اسمبلی کے گزشتہ چار اجلاسوں کے دوران مجموعی طور پر 362 اراکین کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور کی گئیں، جبکہ حیران کن طور پر اس پورے عرصے میں کسی ایک رکن کی بھی چھٹی کی درخواست مسترد نہیں کی گئی۔ متعدد اراکین کو تو مکمل اجلاسوں کی بھی چھٹی دی گئی۔ قومی اسمبلی کے 23ویں اجلاس کے دوران مجموعی طور پر 92 اراکین کی چھٹیاں منظور کی گئیں، جن میں 13 جنوری کو سب سے زیادہ 51، 16 جنوری کو 28 اور 19 جنوری کو 13 اراکین شامل تھے۔ اسی طرح 22ویں اجلاس میں 97 اراکین کی چھٹیوں کی درخواستیں منظور ہوئیں، جن میں 8 دسمبر کو 49 اراکین سب سے زیادہ غیر حاضر رہے۔21ویں اجلاس میں مجموعی طور پر 58 اراکین کو چھٹیاں دی گئیں، جبکہ 20ویں اجلاس کے دوران 115 چھٹیوں کی درخواستیں منظور کی گئیں، جن میں 9 اکتوبر کو 48 اور 3 اکتوبر کو 22 اراکین کی درخواستیں شامل تھیں۔
پارلیمانی حاضری سے متعلق آزاد ادارے فافن کی رپورٹس بھی صورتِ حال کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔ فافن کے مطابق موجودہ 16ویں قومی اسمبلی کے اب تک 23 اجلاس ہو چکے ہیں۔ 22ویں اجلاس کے ساتویں دن صرف 34 اراکین ایوان میں موجود تھے، جبکہ 50 اراکین ایسے تھے جنہوں نے پورے سات روزہ اجلاس میں ایک دن بھی شرکت نہیں کی۔ اسی سیشن میں مجموعی طور پر 299 اراکین کم از کم ایک دن غیر حاضر رہے۔اسی طرح 21ویں اجلاس میں 123 اراکین ساتوں دن ایوان میں شریک رہے، جبکہ 11 اراکین ایسے تھے جو پورے اجلاس میں ایک دن بھی شریک نہ ہوئے۔ اس اجلاس کے پانچویں دن سب سے زیادہ 297 اراکین کی حاضری ریکارڈ کی گئی۔
آن لائن فراڈیے پاکستانی پارلیمنٹیرینز کو بھی لوٹنے لگے
ناقدین کے مطابق اراکین اسمبلی کی اجلاسوں میں شرکت بارے سامنے آںے والے تمام اعداد و شمار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں حاضری اور جوابدہی کا نظام سخت اصلاحات کا متقاضی ہے۔ جب ایک عام شہری، طالب علم یا ملازم کو چھٹی کے لیے وضاحت دینا پڑتی ہے تو ملک کے اعلیٰ ترین قانون ساز ادارے کے اراکین کے لیے بغیر وجہ، بغیر حاضری اور بغیر احتساب چھٹی اور مراعات کا نظام عوامی وسائل پر ڈاکے اور قانون کے صریحا غلط استعمال کے مترادف ہے۔ ناقدین کے بقول سوال یہ نہیں کہ اراکین اسمبلی کو چھٹی ملنی چاہیے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قانون بنانے والے خود قانون اور نظم و ضبط کے پابند ہیں یا نہیں اور کیا پارلیمنٹ کے یہ ’بڑے بچے‘ کبھی حاضری، کارکردگی اور جوابدہی کے امتحان میں بھی پورا اتریں گے؟
