سینیٹ الیکشن جیتنےوالے نئےاراکین کون ہیں اورکہاں سےآئے ہیں؟

تمام بڑے آئینی عہدوں پر براجمان پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹ کی بڑی جماعت بننے میں بھی کامیاب ہو گئی ہے۔ سینیٹ میں "کنگ میکر” کی حیثیت حاصل ہونے کے بعد آئندہ کوئی بھی آئینی ترمیم یا اہم قانون سازی پیپلز پارٹی کی رضامندی اور شراکت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکے گی۔ سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی یہ برتری نہ صرف ایک عددی حقیقت ہے بلکہ پاکستانی سیاست کی سمت میں ایک اہم تبدیلی کی علامت بھی ہے۔

خیال رہے کہ خیبرپختونخوا کے حالیہ سینیٹ انتخابات کے بعد 96 رکنی ایوان بالا میں پیپلز پارٹی 26 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن چکی ہے، جبکہ تحریک انصاف 22 اور مسلم لیگ (ن) 20 نشستوں کے ساتھ بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔  مبصرین کے بقول یہ اعداد و شمار صرف جماعتی طاقت کا عکس نہیں، بلکہ ایک ایسی پارلیمانی صف بندی کو بھی ظاہر کرتے ہیں جو مستقبل میں قانون سازی، احتساب اور آئینی ترامیم میں بنیادی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہونے میں سینیٹ الیکشن میں پیپلز پارٹی کا 10 ووٹ ہونے کے باوجود 2 سینیٹرز منتخب کرالینا ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی نے سینیٹ انتخابات بارے نہایت موثر سیاسی حکمت عملی اپنائی۔ دوسری طرف صوبائی اسمبلی میں93ارکان کی حامل صوبہ کی حکمران جماعت تحریک انصاف نے6 نشستیں حاصل کیں مگر سینیٹ الیکشن میں پی ٹی آئی کی اندرونی تقسیم، فہرستوں پر تنازع اور ناراض گروہ کی ناکامی نے ایک بار پھر پارٹی کے داخلی بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا الیکشن میں جہاں حقیقی طور پر تحریک انصاف کو شکست ہوئی ہے وہیں پیپلز پارٹی ایک فاتح کے طور پر سامنے آئی ہے۔ حالیہ سینیٹ الیکشن کے بعد ایوان بالا میں کسی بھی قانون سازی کے لیے پیپلز پارٹی کی شمولیت لازمی ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول پیپلز پارٹی وہی جماعت ہے جو کئی دہائیوں سے وفاق کی سیاست میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرتی آ رہی ہے، مگر اب نہ صرف ایوانِ زیریں میں حکومت کے ساتھ شراکت دار ہے بلکہ ایوانِ بالا میں بھی سب سے مضبوط پوزیشن حاصل کر چکی ہے۔ مبصرین کے مطابق سینیٹ میں حاصل ہونے والی یہ طاقت پیپلز پارٹی کو ایک "کنگ میکر” کی حیثیت دے سکتی ہے، جہاں وہ نہ صرف اہم قانون سازی میں اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے بلکہ آئندہ کسی بھی آئینی ترامیم میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ پیشرفت کے بعد حکومت کو اب نہ صرف اپنے اتحادیوں کو خوش رکھنا ہوگا بلکہ ہر قانون سازی میں پیپلز پارٹی کی ترجیحات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی سینیٹ میں برتری اس بات کا اعلان ہے کہ آئندہ سیاست محض انتخابی نعروں سے نہیں، بلکہ باقاعدہ حکمت عملی، اتحاد سازی، اور مفاہمت کی پالیسیوں سے چلائی جائے گی۔ سینیٹ میں نمبر گیم اب صرف تعداد کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ مستقبل کی آئینی تعمیر، شراکت داری اور سیاسی بصیرت کا امتحان ہے۔ایوان بالا کی یہ نئی صف بندی پاکستانی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہے، جہاں اکثریت رکھنے کے باوجود حکومت کو ہر فیصلے میں پیپلز پارٹی کو شریک کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ناقدین کے مطابق  تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا میں اپنی اکثریت کے بل بوتے پر 6 نشستیں تو ضرور حاصل کر لی ہیں مگر پارٹی کے اندر اختلافات، امیدواروں کے چناؤ پر تنازع، اور عمران خان تک فہرست نہ پہنچنے جیسے الزامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جماعت ابھی تک تنظیمی الجھنوں سے باہر نہیں آ سکی۔ پارٹی کے کئی ناراض رہنما میدان میں اترے مگر ایک بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن، جو ایک عرصے تک ایوان بالا میں مضبوط پوزیشن رکھتی آئی ہے، اب صرف 20 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ نون لیگ خیبرپختونخوا میں صرف ایک نشست لے سکی۔ یہ نتائج مسلم لیگ ن کی مقامی سطح پر کمزور تنظیمی گرفت اور ووٹر بیس کی محدود رسائی کو ظاہر کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ حکومتی اتحاد کو ایوان میں 61 اراکین کی حمایت حاصل ہے، جو دو تہائی اکثریت یعنی 64 نشستوں سے اب بھی تین ووٹ کم ہے۔  اے این پی کی حمایت کے بغیر حکومتی اتحاد دو تہائی اکثریت یعنی 64ارکان کی حمایت حاصل نہیں کرسکے گا۔ ذرائع کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ایوان بالا میں بھی حکمران اتحاد کو 64ارکان کی حمایت حاصل نہیں ہوسکی ہے کیونکہ حکمران اتحاد کو پاکستان پیپلز پارٹی  کے26 سینیٹرز، مسلم لیگ(ن) کے 20 اراکین کے علاوہ،  6آزاد اراکین 4بلوچستان عوامی پارٹی ، ایم کیو ایم کے3 سینیٹرز اور پاکستان مسلم لیگ ق اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک سینیٹرز کی بھی حمایت حاصل ہے یعنی مجموعی طور پر حکمران اتحاد کو 61اراکین کی حمایت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں اپوزیشن کی تعداد 34 بتائی جاتی ہے جن میں پی ٹی آئی کے 16ارکان میں 6 اضافے سے تعداد 22 کو گئی ہے۔ جے یو آئی (ف) کے سینیٹرز کی کل تعداد سات، اے این پی کے تین ہوگئی ہے جبکہ ایم ڈبلیو ایم اورسنی اتحاد کونسل کے ایک ایک رکن بھی اپوزیشن کی طاقت ہیں۔مبصرین کے مطابق گو کہ حکومتی اتحاد سینیٹ میں اکثریتی پوزیشن میں ہے، لیکن دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہونے کی وجہ سے اب بھی اسے ہر قانون سازی میں مذاکرات اور مفاہمت کی راہ اپنانی پڑے گی۔ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ اے این پی، آزاد اراکین اور چھوٹے پارلیمانی گروپوں کی اہمیت بھی مزید بڑھ گئی ہے۔

Back to top button