دہشتگردوں نے پشاور خودکش حملے کی ذمہ داری کیوں نہیں لی؟

اگرچہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈکوارٹر پر خود کش حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی دہشت گرد گروپ نے قبول نہیں کی لیکن سیکیورٹی ماہرین کی جانب سے خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس حملے کے پیچھے تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار ہے۔ ماہرین کے مطابق تازہ حملے کا طریقۂ کار جماعت الاحرار کی فدائی کارروائیوں سے مماثلت رکھتا ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ خودکش حملے کے بعد کسی گروہ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اس کی بنیادی وجہ شاید حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ہونے والے مذاکرات ہیں جن کے دوران یہ طے پایا تھا کہ افغانستان اپنے ملک میں موجود دہشتگردوں کو پاکستان میں حملوں کی اجازت نہیں دے گا۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر خود کش حملہ کرنے والا موٹر سائیکل پر سوار تھا جس نے مرکزی گیٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا، اس دھماکے کے نتیجے میں گیٹ پر تعینات تین ایف سی اہلکار موقع پر شہید ہو گے۔ دھماکے کی شدت اتنی ذیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے جبکہ جائے وقوعہ پر گہرا گڑھا پڑ گیا۔ خودکش حملے کے فوری بعد دو فدائین حملہ آوروں نے بلڈنگ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی نہیں لیکن انکو موقع پر ہی مار دیا گیا۔ اگرچہ تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، مگر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے پیغامات ظاہر کرتے ہیں کہ اس حملے میں تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ گروہ جماعت الاحرار ملوث ہے۔ مبصرین کے مطابق حملے کا طریقۂ کار اور حالیہ آن لائن اشارے جماعت الاحرار کی کارروائیوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ دو سال قبل پشاور پولیس لائنز میں ہونے والے ہولناک خودکش حملے کی ذمہ داری بھی جماعت الاحرار نے ہی قبول کی تھی جس میں 80 سے زائد پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ فیڈرل کانسٹیبلری کے ہیڈ کوارٹر پر حملے کے وقت اندر پریڈ جاری تھی لیکن حملہ باقی دو خودکش حملہ آور وہاں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو پائے اور انہیں سے پہلے ہی ہلاک کر دیا گیا۔
تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جماعت الاحرار نامی گروہ اس سے قبل بھی پشاور میں متعدد سنگین حملوں میں ملوث رہا ہے۔ تازہ حملے نے ایک بار پھر اس کی فعال موجودگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
جماعت الاحرار کا پس منظر بھی اس واقعے کی سمت اشارہ کرتا ہے۔ اس تنظیم کے بانی عبدالولی عرف عمر خالد خراسانی کا تعلق مہمند کے سفی قبیلے سے تھا اور وہ افغانستان اور کشمیر میں مختلف عسکری گروہوں کا حصہ رہ چکا تھا۔ 2007 میں وہ ٹی ٹی پی کے بانی اراکین میں شامل تھا، مگر 2014 میں اس نے اختلافات کے باعث جماعت الاحرار کے نام سے الگ دھڑا تشکیل دیا۔ اگست 2022 میں وہ افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ایک پراسرار دھماکے میں ہلاک ہوا۔ تاہم اس کے بعد بھی گروہ کی کارروائیاں جاری رہیں۔
افغان ٹریڈکرنے والےپاکستانی تاجر دیوالیہ ہو گئے
سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2024 میں ٹی ٹی پی اور جماعت الاحرار نے باہمی اتحاد کا اعلان کیا تھا، لیکن 2025 کے آغاز میں دونوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے اور ٹی ٹی پی نے اپنی نئی قیادت میں جماعت الاحرار کو کوئی کلیدی عہدہ نہ دیا۔ اس وقت جماعت الاحرار کی قیادت عمر مکرم خراسانی کے پاس ہے، جو میڈیا سے کم ہی مخاطب ہوتا ہے، جبکہ سربکف مہمند عملی طور پر اس گروپ کا اہم رہنما تصور کیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ تین برس میں جماعت الاحرار آٹھ بڑے حملوں میں ملوث رہی ہے، جن میں بارہ خودکش بمبار استعمال ہوئے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں پاکستان کے جوابی اقدامات کے بعد ان گروہوں نے براہِ راست ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے، مگر سوشل میڈیا کے ذریعے اشاروں کنایوں میں اعتراف جاری ہے۔
پشاور کی ایف سی گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردوں کا مستقل نشانہ رہی ہے۔ 2010 میں اُس وقت کے کمانڈنٹ صفوت غیور ایک خودکش حملے میں شہید ہوئے، 2011 میں شبقدر ٹریننگ سینٹر کے باہر ہونے والا دوہرا خودکش دھماکا 90 سے زائد جوانوں کی جان لے گیا، جبکہ 2013 میں ایک اور کمانڈنٹ عبدالمجید مروت حملے سے بال بال بچے تھے۔
