پاکستان کا بیڑا غرق کرنے کے ذمہ دار VVIPs کون لوگ ہیں؟

 

 

 

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے سچ یہ ہے کہ پاکستان کو عام لوگوں نے نہیں بلکہ خاص لوگوں نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے جو کہ وی وی آئی پی کہلاتے ہیں۔ انکے مطابق پاکستان کو اصل خطرہ باہر کے دشمنوں سے نہیں بلکہ انہی وی وی آئی پی لوگوں سے ہے جو اقتدار کے نشے میں مخمور ہو کر آئین تک توڑ دیتے ہیں۔

 

روزنامہ جنگ میں اپنی تحریر میں حامد میر کہتے ہیں کہ نواز شریف کی وزارت عظمی کے دوران ان کے ساتھ پرنسپل سیکرٹری کے طور پر کام کرنے  والے سعید مہدی کی آپ بیتی کئی وی وی آئی پیز کے عروج و زوال کی کہانی ہے۔ جب انہوں نے سول بیورو کریٹ کے طور پر نوکری شروع کی تو ایک فوجی ڈکٹیٹر کی حکومت تھی۔ سعید مہدی کے سامنے جناح کا بنایا پاکستان ٹوٹ گیا۔ سعید مہدی نے پاکستان کو توڑنے میں وی وی آئی پی لوگوں کے کردار کو بہت قریب سے دیکھا ۔ اسی لئے اُنہوں نے اپنی کتاب کا نام THE EYEWITNESS یعنی عینی شاہد رکھا ہے۔

 

1977 میں جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں تیسرا مارشل لاء لگایا تو سعید مہدی راولپنڈی کے ڈی سی تھے۔ انہیں حکم دیا گیا کہ جیل جاؤ اور گرفتار وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کہو کہ جنرل ضیاء کے نام معافی کی اپیل لکھے۔ سعید مہدی نے حکم کی تعمیل کی اور جیل جا کر بڑے مودبانہ انداز میں ڈکٹیٹر کا پیغام ایک گرفتار وزیر اعظم تک پہنچا دیا۔ بھٹو نے جواب میں ڈی سی راولپنڈی کو پوچھا کہ کیا آپ میرا نام جانتے ہیں؟ سعید مہدی نے بتایا آپ ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ گرفتار وزیراعظم نے پوچھا آپ میرے باپ کا نام جانتے ہیں؟ سعید مہدی نے جواب دیا جی آپکے والد کا نام سر شاہنواز بھٹو ہے۔ بھٹو نے پوچھا کہ ڈکٹیٹر کا کیا نام ہے؟ ڈی سی راولینڈی کا جواب تھا جنرل ضیاء الحق۔

 

گرفتار وزیر اعظم نے پوچھا کہ اُسکے باپ کا کیا نام ہے؟ سعید مہدی نے جواب دیا سر مجھے معلوم نہیں۔ بھٹو نے کہا کہ وہ کسی نامعلوم مولوی کا بیٹا ہے۔ مسٹر ڈپٹی کمشنر سر شاہنواز بھٹو کا بیٹا ذوالفقار علی بھٹو کسی نا معلوم مولوی کے بیٹے کے نام رحم کی اپیل لکھ کر اُسے ذہنی سکون فراہم نہیں کرے گا۔ چند دن کے بعد اس گرفتار وزیر اعظم کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

 

حامد میر بتاتے ہیں کہ کئی سال بعد جس روز جنرل ضیاء الحق ایک جہاز کے حادثے میں جہنم رسید ہوا تو سعید مہدی انہیں بطور کمشنر بہاولپور کے طور پر الوداع کہنے والے آخری شخص تھے۔ جس روز جنرل مشرف نے پاکستان میں ایک اور منتخب حکومت کا تختہ الٹا تو سعید مہدی وزیراعظم کے سیکرٹری تھے۔ انہیں وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ گرفتار کر لیا گیا۔ وہ دو سال جیلوں میں رہے۔ جس طرح وہ ایک ڈکٹیٹر کا پیغام لیکر گرفتار وزیراعظم کے پاس جیل گئے تھے اب ایک اور ڈکٹیٹر انہیں گرفتار وزیراعظم کیخلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کیلئے اپنے پیامبر جیل میں بھیج رہا تھا۔ سعید مہدی نے وعدہ معاف گواہ بننے سے انکار کر دیا۔ مشرف حکومت نے کوشش کی کہ یہ آدمی نواز شریف کیخلاف گواہی نہیں دیتا تو نیب کے پاس زیرتفتیش ایک پرانے مقدمے میں بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن جائے۔ لیکن سعید مہدی نے بے نظیر بھٹو اور زرداری کیخلاف گواہی دینے سے بھی انکار کر دیا ۔ کچھ برسوں بعد 2008ء میں آصف زرداری اور نواز شریف نے ملکر جنرل پرویز مشرف کو صدارت سے استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ سعید مہدی کی کتاب جنرل مشرف جیسے طاقتور وی وی آئی پیز کے عروج و زوال کی کہانی ہے۔

 

حامد میر کے بقول سعید مہدی نے ایک بیوروکریٹ کے طور پر جو کچھ دیکھا وہ لکھ دیا۔ کارگل کی جنگ کے بارے میں انہوں نے جو لکھا وہ نیا نہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنوری 1999 میں جنرل مشرف نے مجھ سمیت چار صحافیوں کو اپنے اس منصوبے کے بارے میں بتایا تھا لیکن ہم اسے آف دی ریکارڈ سمجھ کر خاموش رہے۔ ہمیں نہیں پتہ تھا وزیراعظم اس پورے آپریشن سے لاعلم تھے۔ سعید مہدی بتاتے ہیں کہ محمد علی جناح کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کو بمبئی میں اُنکی جائیداد کے عوض موہاٹا پیلس کراچی الاٹ کیا گیا تھا جہاں پر اُنکی پراسرار موت واقع ہوئی۔ انکے مطابق فاطمہ جناح کی موت کی تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی بنائی گئی جسکے سامنے کمشنر کراچی سید دربار علی شاہ نے بیان دیا کہ جب وہ موت کی خبر سن کر موہاٹا پیلس پہنچے تو فاطمہ جناح کی گردن پر تشدد کے نشانات تھے اور اُنکا سرخون میں ڈوبا تھا ۔ پولیس نے انہیں بتایا کہ وہ باتھ روم میں پھسل گئی تھیں جسکی وجہ سے اُنہیں زخم آئے۔ پولیس نے اپنی نگرانی میں اُنکی جلدی جلدی تدفین کردی تھی۔

آفریدی کے پنجاب اور سندھ کے دورے تنقید کی زد میں کیوں؟

سعید مہدی نے سوال اُٹھایا ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کی موت کی انکوائری رپورٹ ہم کہاں سے تلاش کریں ؟ سعید مہدی افسوس کیساتھ لکھتے ہیں کہ جنرل ایوب خان کی طرف سے محترمہ فاطمہ جناح کو غدار قرار دینا پاکستان کی تاریخ کا سب سے مایوس کن واقعہ تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ اختلاف رائے کرنے والوں کے خلاف کہاں تک جا سکتا ہے۔ مادر ملت کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے جنرل ایوب خان کیخلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لیاجس پر انہیں انڈین ایجنٹ قرار دیا گیا ۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ قائد اعظم خوش قسمت تھے کہ پاکستان بننے کے بعد صرف ایک سال تک زندہ رہے اگر وہ مزید زندہ رہتے تو کیا پتہ وہ بھی کسی بہت برے انجام سے دو چار ہو جاتے ۔ سعید مہدی کی کتاب چیخ و پکار نہیں کرتی بلکہ آپکے کانوں میں ہلکی پھلکی سر گوشیاں کرتی ہے کہ پاکستان کو اصل خطرہ باہر کے دشمنوں سے نہیں بلکہ ان وی وی آئی پی لوگوں سے ہے جو اقتدار کے نشے میں مخمور ہو کر آئین توڑنے اور کارگل آپریشن جیسے فیصلے کرتے ہیں ۔ کوئی اختلاف کرے تو اسے غدار قرار دیدیتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کو وی وی آئی پی لوگوں کی حماقتوں سے محفوظ رکھے۔

Back to top button