کپتان کا اذیت ناک دور حکومت کیسے ختم ہونے والا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ یہ دور اذیت اب ختم ہونے والا ہے کیونکہ تنزلی کے نام پر تبدیلی کا نعرہ دفن ہونے جا رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اب نئے لوگ سامنے آئیں گے اور نیا سیٹ اپ تشکیل پائے گا۔ چہرے بھی بدلیں گے اور آزادانہ اور شفاف الیکشن ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کہیں ایسا کرتے ہوئے بہت دیر تو نہیں کر دی گئی اور کہیں پاکستان کا ناقابلِ تلافی نقصان تو نہیں ہو چکا؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عمار مسعود کہتے ہیں کہ جب کسی حکومت سے عوام اتنے تنگ آ جائیں کہ جھولیاں اٹھا اٹھا کر بدعائیں دینے لگیں، جب مسجدوں میں حکومت سے نجات کی دعائیں ہونے لگیں، جب لوگ غربت سے خود کشیاں کرنے لگیں، جب بھوک اور افلاس لوگوں کے سروں پر عفریت بن کر ناچنے لگے، جب آئین، قانون، آزادیٔ اظہار، انصاف کی دھجیاں اڑنے لگیں تو وہ حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ ایسے حکمران مسندِ اقتدار پر فائز نہیں رہ سکتے۔ یہ الگ بحث ہے کہ نواز شریف کب واپس آ رہے ہیں، پی ڈی ایم اپنے عوامی احتجاج کو منظم کیوں نہیں کر رہی، کس کی آڈیو لیک ہوئی کس کی وڈیو منظر عام پر آئی، کس پارٹی کے کتنے ارکان نادیدہ فون کالز کے سامنے بے بس ہیں، ایوان میں کون سی قرارداد منظور ہوئی، کونسی ریجیکٹ ہوئی، کس نے کس ٹھیکے میں کتنے کمائے؟ بات اب اس عمومی گفتگو سے ماورا ہو گئی ہے۔
وقت اب بہت بدل گیا ہے۔ بہت تباہی ہو چکی ہے۔ اب سرکاری ترجمانوں کے بیانات اور عوام کے حالات میں اتنا فرق آ گیا ہے کہ عام آدمی کو نادیدہ ترقی کے شادیانے بجانے والوں کی تقاریر سن کر گھن آنے لگی ہے۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ اب ملک کو گروی رکھ کر فتح کا جشن منانے والوں سے لوگوں کو نفرت ہونے لگی ہے۔ معاملہ اب کسی سیاسی جماعت کی سیاست کا تو رہا ہی نہیں بلکہ وطن عزیز کی بقا کا ہے۔ گزشتہ تین سال میں پاکستان کو ہر شعبے میں جتنا نقصان پہنچا ہے اس کا بیان تاریخ کی کتابوں میں ملے گا مگر میڈیا اس تنزلی کی داستان بیان کرنے سے اب بھی قاصر ہے۔ اب بھی چند زر خرید لوگ یہ کہنے پر مامور ہیں کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہے، اب بھی چند بے ضمیر لوگ یہ چورن بیچنے پر مجبور ہیں کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے۔
جماعت اسلامی نے سندھ کے بلدیاتی نظام کو چیلنج کر دیا
لیکن یہ سوال کہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی کہ نہیں، بے معنی ہو چکاہے۔ اس حکومت کے ذمے جو کام لگایا گیا تھا وہ اس نے انجام دے دیا ہے۔ معیشت کی اب وہ حالت ہے کہ چاہے کوئی بھی آ جائے ہم آئی ایم ایف کے چنگل سے نہیں نکل سکتے۔ اب یہ ملک دنیا کی طاقتوں کے ہاتھوں گروی رکھا جا چکا ہے۔ آج ہمیں ادراک ہو رہا ہے کہ اس حکومت کے قیام کا مقصد نواز شریف کی سیاست ختم کرنا نہیں تھا بلکہ اس کا بنیادی ایجنڈا اس ملک کو معاشی طور پر برباد کرنا تھا جس میں یہ کامیاب ہوئی ہے۔ اس تباہی کی مدت دس سال مقرر کی گئی تھی لیکن اس حکومت نے اپنی عبرت ناک کارکردگی کی بنا پر صرف تین سال کے قلیل عرصے میں مکمل کر ڈالا۔
عمار مسعود کہتے ہیں کہ کپتان کی سلیکٹڈ حکومت کے کون کون سے کارنامے گنوائے جائیں، کس کس شعبے پر بات کی جائے۔ سی پیک اب پیک ہو چکا۔ گیم چینجر منصوبہ اب چینج ہو چکا۔ سعودی عرب سود سمیت خیرات واپس لینے پر تلا ہوا۔ آئی ایم ایف کا غلبہ اسٹیٹ بینک کے ذریعے ہو چکا ہے۔ معیشت کے اعشاریئے زمیں بوس ہو چکے۔
روزگار کے ذرائع ختم ہو چکے، عام آدمی کے کاروبار تباہ ہو چکے۔ میڈیا زیر تسلط آ چکا۔ صحافیوں کا سرِ عام معاشی قتل ہو چکا۔ مہنگائی عفریت بن چکی۔ بجلی گیس کے بلوں میں سو گنا سے زیادہ اضافہ ہو چکا۔ پٹرول، ڈالر، آٹا اور چینی کے مہنگے ہونے سے عوام کو اربوں کا ’’ٹیکہ‘‘ لگ چکا۔ اخلاقیات کا جنازہ اٹھ چکا۔ اسمبلی اور پارلیمنٹ ربڑ اسٹمپ بن چکی۔ ہر مخالف آواز خاموش ہو چکی۔ ہر شعبہ تنزلی کی پاتال میں جا چکا۔ بے روزگاری میں حیران کن اضافہ ہو گیا۔ خطِ غربت سے نیچے جانے والوں کی تعداد میں عبرتناک اضافہ ہو چکا۔ ریاستِ مدینہ کے مبارک نام پر جی بھر کر جھوٹ بولا جا چکا۔ سیاسی اقدار پامال ہو چکیں۔ نفرت پورے سماج کے انگ انگ میں سما چکی۔
عمار مسعود کا کہنا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ اس ابتری کے عالم میں سب ہی خالی ہاتھ رہے۔ اس دور میں کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے تبدیلی کے نام پر بہت لوٹا بھی ہے۔ وزراء ہوں، مشیر ہوں، اس حکومت کے ترجمان ہوں، تبدیلی کا چورن بیچنے والے صحافی ہوں، سب کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، انہوں نے اس تین سالہ مدت میں ملک کی فروخت کا کاروبار جاری رکھا۔ انہوں نے اپنے اثاثوں کو ترقی دی۔ انہوں نے اپنے ملک کی تباہی سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔
جب کبھی یہ حکومت ختم ہو گی، یہ دور پر آشوب گزر جائے گا تو آپ کو تب پتہ چلے گا کہ یہ تبدیلی لانے والے خود ساختہ ریاستِ مدینہ سے ہجرت فرما چکے۔ اپنے بچوں، اہل خانہ کے نام پر اربوں کے اثاثے بنا چکے۔ ملکی مفاد کے نام پر ذاتی مفاد کو ترجیح دے چکے۔ لیکن جب ہمیں اس دھوکے کا ادراک ہو گا اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔ ہم لکیر پیٹتے رہ جائیں گے اور تب تک تبدیلی کا سانپ ہمیں ڈس کر جا چکا ہو گا۔
