پاکستان دشمن افغان طالبان کو کابل میں اقتدار کس نے دلوایا؟

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے چار دہائیوں تک افغانوں کی میزبانی کو پاکستان کی غلطی تو قرار دے دیا ہے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جو افغان طالبان قیادت آج پاکستان میں دہشت گردی کروا رہی ہے اسے کئی دہائیوں تک ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ پشاور‘ کوئٹہ‘ اسلام آباد اور کراچی کے سیف ہاؤسز میں پناہ دیتی رہی۔ آج کی افغان طالبان قیادت کے خاندان سکون سے اسلام آباد کے بھارہ کوہ اور کھنہ پل جیسے علاقوں میں رہائش پذیر رہے۔ لیکن جب خواجہ آصف سب افغانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہیں تو دراصل وہ آدھا سچ بیان کرتے ہیں۔ وہ ان طالبان کا ذکر نہیں کرتے جنہیں ہم نے خود پروان چڑھایا اور جو بعد میں افغان عوام پر بطور حکمران مسلط ہو گے۔
معروف صحافی اور تجزیہ کار روف کلاسرا اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ افغان طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر کو کراچی کے ایک سیف ہاؤس سے نکال کر قطر بھیجا گیا تاکہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکیں۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آج کابل اور قندھار میں کون سا ایسا طالبان رہنما ہے جو پاکستان میں نہ رہا ہو یا جسے ہم نے سپورٹ، پروموٹ یا پروٹیکٹ نہ کیا ہو۔ ان کے مطابق یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ افغان طالبان قیادت کی ایک بڑی تعداد نے ماضی میں پاکستان میں پناہ لی اور یہاں سے اپنے نیٹ ورک کو منظم کیا۔
روف کلاسرا کے مطابق یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ افغان عناصر تحریک طالبان کی پشت پناہی کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں، تاہم اس بنیاد پر تمام افغانوں کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔
کلاسرا کہتے ہیں کہ جب ریاستی بیانیے میں تمام افغانوں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف حقیقت مسخ ہوتی ہے بلکہ پالیسی کی سمت بھی غلط ہو جاتی ہے، کیونکہ اصل مسئلہ مخصوص عسکریت پسند گروہ ہیں، نہ کہ پوری افغان قوم۔ روف کلاسرا کے مطابق خواجہ آصف کو چاہیے کہ وہ پورا سچ بیان کریں۔ ان کے بقول ماضی کے ’سٹرٹیجک اثاثے‘ آج پاکستان کے لیے سب سے بڑا سکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت کے اقدامات کا ذمہ دار عام افغان شہریوں کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ انہوں نے ان حکمرانوں کو کسی جمہوری عمل کے ذریعے منتخب نہیں کیا بلکہ وہ ایک طویل جنگ کے نتیجے میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی سے اقتدار میں آئے۔
روف کلاسرا افغانستان کی سماجی و نسلی ساخت کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہاں پشتون، تاجک، ازبک، ہزارہ اور دیگر قومیں آباد ہیں اور یہ تمام گروہ پاکستان کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی پالیسی طویل عرصے تک اس سوچ کے گرد گھومتی رہی کہ کابل میں پشتون قیادت ہونی چاہیے کیونکہ شمالی اتحاد کے رہنما بھارت کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان نے برسوں تک بھاری جانی و مالی قربانیاں دیں اور ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ تاہم جب اگست 2021 میں طالبان کابل اور قندھار پر قابض ہوئے تو صورتحال توقعات کے برعکس نکلی۔ پاکستان نے جس حکمت عملی کے تحت سرمایہ کاری کی تھی، اس کے برعکس بھارت نے خاموشی سے حالات کا مشاہدہ کیا اور جیسے ہی طالبان اقتدار میں آئے، اس نے فوری طور پر ان کے ساتھ تعلقات استوار کر لیے۔ یوں پاکستان کی دہائیوں پر محیط پالیسی کے نتائج وہ نہ نکل سکے جن کی توقع کی جا رہی تھی۔
روف کلاسرا کہتے ہیں کہ آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان اُن افغان مہاجرین کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے جو دہائیوں تک یہاں کیمپوں یا شہروں میں مقیم رہے، کاروبار کرتے رہے یا یہاں سے بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔ ان کے مطابق یہ رویہ اس لیے بھی درست نہیں کہ انہی طالبان کے ساتھ ماضی میں پاکستانی حکام کے روابط رہے، حتیٰ کہ اعلیٰ سطحی شخصیات نے کابل جا کر ان سے ملاقاتیں بھی کیں اور ان کے اقتدار میں آنے پر مبارکباد بھی دی۔ وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا طالبان کو افغان عوام نے کسی جمہوری عمل کے ذریعے منتخب کیا تھا کہ آج عام افغانوں کو اس بنیاد پر موردِ الزام ٹھہرایا جائے؟ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ طالبان قیادت برسوں تک پاکستان میں رہی، ان کے خاندان یہاں آباد رہے اور انہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی جاتی رہیں۔
روف کلاسرا اپنے تجزیے میں ایک ذاتی اور سیاسی پہلو بھی شامل کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ خواجہ آصف کو 2002 سے جانتے ہیں جب پرویز مشرف کے دور میں انتخابات ہوئے۔ ان کے مطابق خواجہ آصف اپنی دھواں دار تقاریر، برجستہ انداز اور سخت سیاسی مؤقف کے باعث پارلیمنٹ میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور مخالفین کو چند منٹوں میں لاجواب کر دیتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں ایک موقع پر خواجہ آصف کو ان کے والد خواجہ صفدر کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ جنرل ضیا الحق کے قریب رہے تھے۔ اس پس منظر میں 1985 کے انتخابات اور اس کے بعد کی سیاسی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے روف کلاسرا کہتے ہیں کہ فخر امام کا سپیکر منتخب ہونا دراصل اس دور کی ایک بڑی سیاسی بغاوت تھی، جس کے بعد محمد خان جونیجو نے بھی مارشل لا کے خلاف کھل کر بات کی اور یوں جمہوریت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی۔ روف کلاسرا کے مطابق اس تنقید کے جواب میں خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر اپنے والد کے جنرل ضیا کا ساتھ دینے پر قوم سے معافی مانگی، جو ایک غیر معمولی سیاسی جرات کی مثال تھی۔
کیا ایران پر حملے کے بعد پاکستان کی باری آنے والی ہے؟
تاہم وہ کہتے ہیں کہ آج جب خواجہ آصف افغانوں کے حوالے سے احسان فراموشی کی بات کرتے ہیں تو ضروری ہے کہ وہ واضح کریں کہ ان کی تنقید عام افغان مہاجرین پر ہے یا ان مخصوص گروہوں پر جنہیں ماضی میں ریاستی سرپرستی حاصل رہی۔ کلاسرا کے مطابق پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کو سمجھنے کے لیے مکمل سچ کا ادراک ضروری ہے کیونکہ پالیسی سازی میں ابہام یا آدھا سچ نہ صرف مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ بعض اوقات آدھا سچ مکمل جھوٹ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ماضی کی پالیسیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر مستقبل کی حکمت عملی ترتیب دی جائے۔
