جنرل عاصم منیر کو قومی ہیرو رہنے کیلئے کن لوگوں سے بچنا چاہیے؟

 

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فقید المثال کامیابی کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے سے انہیں قومی ہیرو کا درجہ بھی حاصل ہو گیا، لیکن مجھے ان کے مداحوں سے ڈر لگتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اپنے بدخواہوں کی بجائے اپنے خیر خواہوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر کو اپنے چاہنے والوں کے شر سے محفوظ رکھنا اور پرستاروں سے نجات دلانا بہت ضروری ہے تاکہ فیلڈ مارشل کے رینک کی طرح وہ تاحیات قوم کے ہیرو رہیں۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں بلال غوری کہتے ہیں کہ ہر معاشرے کو آگے بڑھنے کے لیے ہیرو اور ولن درکار ہوتے ہیں، خواہ وہ کردار حقیقی ہوں یا فرضی۔ مگر ان دونوں کے درمیان حدِ فاصل بہت باریک ہوتی ہے۔ ایک قاتل ولن کہلاتا ہے، لیکن اگر وہ ہزاروں قتل کرے تو ہیرو بن جاتا ہے۔ تاریخ میں یہ تضاد نظر آتا ہے کہ قومیں بعض اوقات اپنے ہیروز کو دیوتا کا درجہ دے کر انہیں فکری موت کے سپرد کر دیتی ہیں۔ ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ وہ قوم زندہ نہیں رہتی جو اپنے ہیروز کی قدر نہیں کرتی، جبکہ سیسرو کے بقول اس سے بھی مفلس قوم وہ ہے جو اپنے ہیروز کی قدر تو کرتی ہے مگر انہیں سمجھ نہیں پاتی۔

 

بلال غوری کے مطابق ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ہیروز کو انسان نہیں، بلکہ دیوتا سمجھ لیتے ہیں۔ ان کے اردگرد خوشامد اور چاپلوسی کا ایک ایسا حلقہ بنا دیتے ہیں جس کے اندر سچ کی آواز نہیں پہنچ پاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہی ہیرو جو ایک وقت میں قومی کے فخر اور ققار کی علامت ہوتا ہے، وقت گزرنے کے ساتھ تنقید سے بالاتر ہو کر غلط فیصلوں کا عادی بن جاتا ہے۔ معروف تاریخ دان شریف المجاہد نے اپنی تصنیف Quaid-e-Azam Jinnah میں لکھا ہے کہ بعض اوقات ایک ہیرو کو اپنے مداحوں کے شر سے بچانا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ اگر وہ زندہ ہو تو خوشامد کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، اور اگر فوت ہو چکا ہو تو اس کی شخصیت پر جھوٹے اوصاف کا ملمع چڑھا دیا جاتا ہے۔ انکے مطابق جناحؒ خود کو ہمیشہ ایک عام انسان سمجھتے تھے، مگر ان کے چاہنے والوں نے ان کی خود احتسابی کو بھی تقدس کی دبیز تہوں میں لپیٹ دیا۔

 

تاریخ بتاتی ہے کہ جب ہیرو کو اس کے خیرخواہ خوشامدی گھیر لیتے ہیں تو وہ سچ سننے کی طاقت کھو دیتا ہے۔ انگلینڈ کے کنگ ہنری چہارم نے درست کہا تھا کہ کوئی بھی انسان چند خامیوں کا متحمل ہو سکتا ہے، مگر جب اسے مکمل پاکیزگی کا پیکر بنا دیا جائے تو وہ اپنے اندر موجود کمزوریوں کو دیکھ ہی نہیں پاتا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہیرو کا زوال شروع ہوتا ہے۔ بلال غوری کہتے ہیں کہ پاکستانی تاریخ میں خوشامد اور چاپلوسی کی روایت نئی نہیں۔ اس حوالے سے وہ ایک دلچسپ مگر معنی خیز واقعہ بیان کرتے ہیں۔

 

یہ ان دنوں کی بات ہے جب حافظ آباد ابھی ضلع نہیں بنا تھا۔ ایس پی گوجرانوالہ نے وہاں کھلی کچہری منعقد کی۔ ضیاء الحق دور کی صوبائی کونسل کے ایک سابق ممبر کو بولنے کا موقع دیا گیا جو مدح سرائی کے فن میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ انتظامیہ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے موصوف بولے: “مجھے یقین ہے کہ اگر یہ انتظامیہ کربلا میں ہوتی تو سارے مراحل امن و آشتی سے طے ہوجاتے اور کربلا کا سانحہ پیش نہ آتا۔” یہ سن کر ایک ڈی ایس پی نے برجستہ کہا: “چوہدری صاحب! کچھ خدا کا خوف کریں، اگر ہم وہاں ہوتے تو گواہی دینے کے لیے امام زین العابدینؑ بھی نہ بچ پاتے!”

ظہیر بابر سدھو کو تاحیات مارشل آف دی ایئر فورس بنانے کا فیصلہ

یہ سن کر مجمع زوردار قہقہوں سے گونج اٹھا، مگر اس جملے میں وہ تلخ سچ چھپا تھا جسے ہم آج تک سمجھنے سے قاصر ہیں  کہ چاپلوسی خواہ مذاق ہی میں کیوں نہ کی جائے، اپنا اثر ضرور چھوڑ جاتی ہے۔ یہ ایسا مہلک نشہ ہے جو طاقتور کو حقیقت سے کاٹ دیتا ہے، اور جب خمار اترتا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ بلال غوری کہتے ہیں کہ اب جب کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں، انہیں اس قوم کی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ قوم نے اپنے کئی ہیروز کو وقت کی دھول میں کھو دیا۔ کچھ اپنی غلطیوں کے باعث، اور کچھ اپنے چاہنے والوں کے خلوص کے بوجھ تلے دب کر گزر گے۔ اب ذمہ داری خود جنرل عاصم منیر پر ہے کہ وہ اپنے اردگرد کے مخلص چاپلوسوں سے فاصلہ رکھیں، سچ بولنے والوں کو قریب رکھیں اور تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح سمجھیں۔ انکے مطابق تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہیرو کو اپنی عزت بدخواہوں سے نہیں بلکہ خیرخواہوں سے بچانی پڑتی ہے۔ اگر جنرل عاصم منیر یہ حقیقت سمجھ جائیں تو وہ نہ صرف تاحیات فیلڈ مارشل رہیں گے بلکہ تاحیات قوم کے ہیرو بھی برقرار رہیں گے۔

Back to top button