اگلے آرمی چیف کی تعیناتی ملکی سیاست کا محور کیوں بن گئی؟

معروف اینکر پرسن اور صحافی عاصمہ شیرازی نے کہا ہے کہ اس وقت ملکی سیاست کا محور مارچ میں ممکنہ غیر سیاسی تعیناتیوں کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صفحے کے ترجمان اپنے موقف کے حوالے سے گو مگو کا شکار ہیں۔ یہ خدشات امکانات کے راستے میں حائل ان اسباب کے ہیں جو وزیراعظم کے ہاتھ میں ہیں اور کسی اور کے پاس نہیں۔ عاصمہ یاد دلاتی ہیں کہ پارلیمانی جمہوریت میں فوجی سپہ سالار کی تعیناتی کا اختیار مکمک طور پر وزیراعظم کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہی وہ گُر ہے جو کہ اُنھیں بااختیار بناتا ہے۔

بی بی سی کے لئے اپنے تازہ تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ایسی تعیناتیاں ہی در اصل پاکستان کی تقدیر کا تعین کرتی ہیں۔ لیکن اگلے چند ماہ میں ہونے والی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم عمران خان استعمال کریں گے یا کوئی اور وزیراعظم، اس سوال کا جواب دینا ابھی قبل از وقت ہے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں کپتان حکومت کے گھر جانے کی خبروں میں تیزی آ چکی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ نومبر 2022 میں اپنے عہدے کی دوسری معیاد پوری کرنے کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ گھر چلے جائیں گے یا ایک اور توسیع حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ دوسری جانب نومبر 2022 میں آرمی چیف کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے اور جنرل قمر باجوہ کو ایک بار پھر توسیع دینے کی باتیں بھی چل رہی ہیں۔ یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ کیا جنرل باجوہ کو اگلی توسیع عمران خان دیں گے یا نواز لیگ کی حکومت۔ اس دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل کردہ سکروٹنی کمیٹی نے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے جو ہوشربا رپورٹ جاری کی ہے اس کے بعد حکومت کے گھر جانے کی افواہوں میں اور بھی شدت آنے والی ہے۔

اس بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ کھڑکی کے باہر دُھند ہے اور اندر وسوسے۔ نیا سال کیسا ہو گا؟ نیا سال آ گیا، پُرانی روش نہیں گئی۔ ہندسے بدل گئے ہیں مگر حالات وہی۔ تحریر بدل گئی مگر صفحہ وہی۔ دُھند ہی دُھند ہے۔۔۔ معاشی، سیاسی حالات پر بھی اور عوام کے ذہنوں پر بھی۔ ایسے میں کچھ نہ تو نظر آ رہا ہے اور نہ ہی سمجھ آ رہا ہے۔ تجزیہ کار، دور اندیش، معاملہ فہم اور حالات پر نظر رکھنے والے سبھی ایک خاص حد سے آگے دیکھ نہیں پا رہے یا جو نظر آ رہا ہے اُس کا اظہار کرنے میں بے بس ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دگرگوں معاشی صورتحال کو سمجھنے کے لیے کسی خاص عینک کی ضرورت ہے اور نہ ہی دور اندیشی کی، البتہ جن پر بیت رہی ہے وہ عوام سمجھ چکے ہیں۔ نئے سال کے تیور آنے والی مشکلات کا پتا دے رہے ہیں۔ ایسے میں ملکی سیاست کا مطلع صاف مطلع ابر آلود ہے اور حکومت کے لیے حالات سازگار نہیں۔

چھ مہینے میں پاکستان کا تجارتی خسارہ دوگنا کیسے ہوا؟

عاصمہ کا کہنا ہے کہ سیاسی بیان بازی اپنی جگہ مگر اپوزیشن کی لگ بھگ تمام جماعتیں رابطے میں ہیں۔ ایک طرف بھنور میں پھنسی مقتدرہ اور دوسری جانب بیانیے کے زور پر کھڑی جماعتیں۔۔۔ اعتماد میں کمی اور چند شرائط حتمی نتائج کی راہ میں حائل ہیں جس کا فائدہ بہرحال حکومت کی بقا کی شکل میں موجود ہے۔صورتحال اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔ معاشی صورتحال کسی کے لیے بھی سازگار نہیں لہٰذا ذمہ داری لینے میں ہچکچاہٹ بھی ہے اور کئی ایک مسائل بھی۔یہی وجہ ہے کہ بظاہر سیاسی طور پر مستحکم حکومت غیر مستحکم ہے، بظاہر غیر فعال گورننس کسی اور آپشن کو بھی غیر فعال بنا رہی ہے سو ایسے میں کون بنائے گا حکومت اور کون گرائے گا حکومت، دونوں سوال اہم ہیں۔

عاصمہ شیرازی کے بقول، چند دنوں سے گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے تجزیہ کار جو گذشتہ کئی دنوں سے اپنے سابقہ بیانیے سے ہٹ گئے تھے ایک بار پھر 2018 کی پوزیشن پر واپس جاتے دکھائی دیے ہیں اور اب کی بار نظام کی ناکامی کی خبریں دے رہے ہیں۔ آمریت کی پروردہ سوچ البتہ یہ پوچھنے سے روک رہی ہے کہ 40 سال کی براہ راست آمریت جبکہ 30 سالہ غیر اعلانیہ حکمرانی نے پاکستان کو کیا دیا ہے؟ دوسری جانب اہم حکومتی حلقوں کی جانب سے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ایک تو منی بجٹ ملی بھگت سے منظور ہو جائے گا جبکہ دوسرا حکومت بھی مارچ سے پہلے مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ اپوزیشن نہ بھی چاہے لیکن اگر ’سائیوں‘ نے فیصلہ کر لیا تو یہ ممکن ہو جائے گا۔ حکومت کو اپوزیشن سے خطرہ تو نہیں البتہ ’جہانگیر ترین‘ گروپ کی بڑھتی تعداد سے خطرہ ضرور ہے۔ بہر حال اپوزیشن بلوچستان حکومت کی طرح وفاق میں بھی ’خاموش انقلاب‘ کا ساتھ دے سکتی ہے، ہاں تبدیلی کے بعد اگلا ایک سال سنبھالے گا کون اس بارے میں ابہام موجود ہے یا یوں کہیے کہ ابھی وہاں بھی مکمل دھند چھائی ہوئی ہے۔

عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ کہ نواز شریف کی وطن واپسی بھی ملین ڈالر کا سوال ہے۔ زرداری صاحب کے بعد اُن کی واپسی کا سوال مولانا نے بھی دُہرا دیا ہے لہذا اب پی پی پی اور جے یو آئی ف اس حد تک ایک صفحے پر آ گئے ہیں۔ ادھر میاں صاحب کی واپسی بغیر کسی ’قومی اور بین الاقوامی‘ ضمانت کے ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔ لہٰذا، حالات کے رحم و کرم پر معجزوں کے منتظر پاکستان کے عوام اپنے اور ملک کے دھندلے مستقبل کے واضح ہونے کی دعا جاری رکھیں۔

Back to top button