بلوچستان پر بڑے حملے کرنے والا BLA چیف بشیر زیب کون ہے؟

بلوچستان کے 12 شہروں میں ایک ہی وقت میں ہونے والے منظم حملوں کی تفتیش کرنے والے سیکیورٹی اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ حالیہ تاریخ کے اس منظم ترین دہشت گردی کی منصوبہ بندی کالعدم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب نے کی جو کہ بذات خود حملہ آوروں کی قیادت کر رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز سے پتہ چلا ہے کہ بشیر زیب نہ صرف ان کارروائیوں کے ماسٹر مائنڈ تھے بلکہ حملہ کرنے والے دہشت گردوں کی براہِ راست قیادت بھی انہی کے ہاتھ میں تھی۔
یاد رہے کہ 31 جنوری کو بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ مستونگ، قلات، نوشکی، خاران، دالبندین، تربت، تمپ، گوادر اور پسنی جیسے شہروں میں سرکاری و سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ صوبائی حکومت کے مطابق ان حملوں میں 48 افراد بشمول 31 شہری اور 17 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، جبکہ جوابی کارروائیوں میں 145 شدت پسندوں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ بلوچ دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جانے والے شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی تعداد 200 سے زیادہ ہے۔
حملوں سے قبل بی ایل اے کی جاری کردہ ایک ویڈیو نے بھی سیکیورٹی اداروں کی توجہ حاصل کی، جس میں ایک نامعلوم اورغیرآباد مقام پرموٹر سائیکلوں پر سوار چھ مسلح افراد دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں سے صرف ایک شخص کا چہرہ نمایاں تھا، جسے کہ بشیر زیب بتایا گیا ہے اور یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ خود ان حملوں میں شریک رہے۔ اگرچہ بی ایل اے نے ویڈیو کے مقام کی وضاحت نہیں کی، تاہم وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ویڈیو افغانستان میں ریکارڈ کی گئی۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ ویڈیو نفسیاتی دباؤ اور طاقت کے اظہار کی ایک منظم کوشش تھی۔
پاکستان انڈیا میچ نہ ہونے سے براڈکاسٹرز کا کتنا نقصان ہو گا ؟
یہ پہلا موقع نہیں کہ بشیر زیب کا نام ریاستی اداروں کے نوٹس میں آیا ہو۔ نومبر 2018 میں کراچی میں چینی قونصل خانے پرحملے سے لے کر کراچی سٹاک ایکسچینج، کراچی یونیورسٹی میں چینی اساتذہ پرخودکش حملے اور کراچی ایئرپورٹ کے قریب چینی انجینئرز کے قافلے پر حملوں کی منصوبہ بندی تک، بشیر زیب ان سب واقعات میں حکومتِ پاکستان کو مطلوب ہیں او انہیں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہی بشیر زیب ایک زمانے میں کوئٹہ میں طلبہ سیاست کا ایک سرگرم چہرہ ہوا کرتا تھا۔
بشیر زیب کا تعلق نوشکی کے علاقے احمد وال سے ہے اور وہ محمد حسنی قبیلے سے وابستہ ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محکمہ صحت میں ملازم رہے۔ بشیر زیب نے ابتدائی تعلیم نوشکی اور ہائر سیکنڈری تعلیم کوئٹہ ڈگری کالج سریاب روڈ سے حاصل کی۔ بعد ازاں پولی ٹیکنک کالج کوئٹہ سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا اور بلوچستان یونیورسٹی میں بلوچ ادب میں ماسٹرز میں داخلہ لیا، تاہم طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپوں اور سیاسی سرگرمیوں کے باعث ان پر یونیورسٹی میں داخلے کی پابندی عائد کر دی گئی۔ ان کی عملی سیاست کا آغاز بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے ہوا، وہ 2006 سے 2012 تک بی ایس او کے چیئرمین رہے۔ بی ایس او کی بنیاد ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے رکھی تھی، جو بعد ازاں بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ بنے۔ دراصل یہی تنظیم بلوچ نوجوانوں کو مسلح جدوجہد کی طرف راغب کرنے کا ایک بڑا ذریعہ بنی۔
اگرچہ بشیر زیب کے دور میں بی ایس او آزاد پر پابندی نہیں تھی، لیکن وہ تب بھی پاکستان مخالف لٹریچر تقسیم کرتے اور احتجاجی ریلیوں میں ریاستی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے نظر آتے تھے۔ ان کی تحریروں میں نہ صرف ریاست بلکہ بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں پر بھی شدید تنقید ملتی ہے۔
2014 میں شائع ہونے والی اپنی تحریر میں بشیر زیب نے اعتراف کیا کہ وہ ڈاکٹر اللہ نذر کے نظریات سے متاثر ہو کر مسلح جدوجہد کی طرف مائل ہوئے۔ بی ایل ایف میں شمولیت کی خواہش پوری نہ ہونے پر انہوں نے بی ایل اے کا رخ کیا، جبکہ اسی دوران وہ تنظیم کے انتظامی معاملات میں بھی کردار ادا کرتے رہے۔ 2018 میں بشیر زیب باضابطہ طور پر طلبہ سیاست کو خیرباد کہہ کر بی ایل اے میں شامل ہو گئے۔ تب بی ایل اے شدید اندرونی اختلافات کا شکار تھی۔ تنظیم کے سربراہ اسلم بلوچ عرف استاد اسلم اچھو کے ساتھ اختلافات کے بعد بشیر زیب نے ایک الگ دھڑا تشکیل دے دیا، اس گروہ نے بھی خود کو بی ایل اے ہی قرار دیا۔
2018 میں استاد اسلم بلوچ کی افغانستان میں ہلاکت کے بعد بشیر زیب اس دھڑے کے سربراہ بن گئے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق ان کی قیادت میں بی ایل اے کے حملوں میں نہ صرف مزید شدت آئی بلکہ خودکش حملوں، خواتین کی شمولیت اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ سابق ڈی آئی جی بلوچستان عبدالرزاق کے مطابق بشیر زیب جیسے تعلیم یافتہ شخص کا تنظیم کی قیادت میں آنا بلوچ نوجوانوں کو اور بھی زیادہ متاثر کرنے کا باعث بنا، اور اسی کی سوچ کے تحت مختلف بلوچ مسلح تنظیموں کے اتحاد کی راہ ہموار ہوئی، جس کے نتیجے میں ’براس‘ نامی اتحاد وجود میں آیا۔
تاہم ناقدین کے مطابق بشیر زیب کی حکمت عملی نے بلوچ تحریک کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا۔
بلوچستان کے منظر نامے پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواتین خودکش بمباروں کا استعمال اور شہری اہداف پر حملوں نے اس بلوچ قوم پرست تحریک کو ریاست مخالف دہشت گرد تحریک کا لیبل لگا دیا یے، جس سے نہ صرف عالمی سطح ہر اس کی حمایت کم ہوئی بلکہ اس کے خلاف عسکری آپریشنز کے لیے بھی جواز پیدا ہو گیا ہے۔ بی ایل اے کے تنظیمی ڈھانچے میں بشیر زیب کی قیادت میں میڈیا ونگ کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ تنظیم کی جانب سے بیانات، ویڈیوزاور حملوں کی تشہیر کو ایک منظم بیانیے کے تحت پیش کیا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بی ایل اے کی سرگرمیوں کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ پاکستان کے علاوہ امریکہ کی جانب سے بھی بی ایل اے کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے، جس کے بعد اس کی فنڈنگ، نقل و حرکت اور بیرونی روابط پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اسی دباؤ کے نتیجے میں بلوچ لبریشن آرمی نے بڑے پیمانے پر بلوچستان کے 12 بڑے شہروں میں ایک ہی روز دہشت گرد حملوں کا راستہ اختیار کیا۔
