چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی جگہ کون لینے والا ہے؟

 

 

 

قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کی بطور نئے اپوزیشن لیڈر تقرری کے بعد نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے راستہ ہموار ہو گیا ہے اور حکومت اور حزب اختلاف کی جانب سے ناموں پر مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔

 

یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے ایک سال بعد بھی اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ ان کی پانچ سالہ آئینی مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو گئی تھی۔ آئین کے تحت اس عہدے پر نئی تقرری 45 روز کے اندر، یعنی 12 مارچ 2025 تک ہونا لازم تھی، تاہم قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کی عدم موجودگی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔

 

خیال رہے کہ آئینی طور پر اس عہدے پر تقرری کے لیے وزیر اعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان مشاورت لازم ہے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اب محمود خان اچکزئی کی بطور قائدِ حزبِ اختلاف تقرری کے بعد یہ رکاوٹ دور ہو چکی ہے اور توجہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مرکوز ہو گئی ہے۔

 

اس حوالے سے معروف تھنک ٹینک پلڈاٹ PILDAT کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے جمہوری نظام کے لیے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں سیاسی اتفاقِ رائے نہایت اہم ہے، تاہم بدقسمتی سے ماضی میں یہ عمل متنازع بنتا رہا ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ تقریباً چھ سال قبل تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران ایک نایاب سیاسی اتفاقِ رائے دیکھنے میں آیا تھا، جب وزیراعظم عمران خان اور قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف نے مشاورت سے سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر مقرر کرنے پر اتفاق کیا۔ اس سے قبل تحریکِ انصاف سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا خان پر جانبداری کے الزامات عائد کرتی رہی تھی، جس کے باعث سکندر سلطان راجہ کی تقرری کو عمران خان نے خوش آئند قرار دیا اور الیکشن کمیشن سے منصفانہ سلوک کی امید ظاہر کی۔

 

تاہم یہ اعتماد زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا اور جلد ہی عمران خان نے نئے چیف الیکشن کمشنر پر بھی شدید تنقید شروع کر دی۔ وزارتِ عظمیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد عمران خان نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ سکندر سلطان راجہ کا نام اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر تجویز کیا گیا تھا اور وہ خود ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ احمد بلال محبوب کے مطابق اس طرزِ عمل نے آئینی طور پر طے شدہ اتفاقِ رائے کے طریقۂ کار کو عملاً بے معنی بنا دیا۔ بعد ازاں، 2024 کے انتخابی مرحلے کے دوران چیف الیکشن کمشنر اور ای سی پی کے دیگر اراکین تحریکِ انصاف کی تنقید کا مرکزی ہدف بنے رہے۔ پارٹی قیادت نے الیکشن کمیشن پر انتخابی نشان سے محرومی، ممنوعہ غیر ملکی فنڈنگ کے الزامات اور مخصوص نشستوں سے محروم کیے جانے جیسے فیصلوں میں جانبداری کا الزام عائد کیا۔

 

اب جبکہ محمود خان اچکزئی نے قائدِ حزبِ اختلاف کا منصب سنبھال لیا ہے، ایک بار پھر یہ موقع موجود ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور ای سی پی کے دو اراکین کی تقرری خالصتاً سیاسی اتفاقِ رائے سے کی جائے، بغیر کسی تیسرے فریق کے دباؤ کے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ تقرر پانے والے افراد نہ صرف غیرجانبدار ہوں بلکہ کسی بھی بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی جرات بھی رکھتے ہوں۔

 

یاد رہے کہ 2024 کی 26ویں آئینی ترمیم سے قبل چیف الیکشن کمشنر اور ای سی پی اراکین اپنی مدت پوری ہونے پر ریٹائر ہو جاتے تھے، لیکن ترمیم کے بعد وہ اپنے جانشین کی تقرری تک غیر معینہ مدت تک عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس لیے راجہ سکندر سلطان بھی اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ حکومت کو موجودہ صورت حال برقرار رکھنے میں کوئی نقصان نہیں، جبکہ اپوزیشن جلد از جلد نئی تقرری چاہتی ہے، اس لیے آئینی مشاورتی عمل میں اپوزیشن کی فعال شرکت اس کے اپنے مفاد میں ہے۔

 

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے مئی 2024 میں اُس وقت کے قائدِ حزبِ اختلاف عمر ایوب کو نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے لیے مشاورت کی دعوت دی تھی، مگر عمر ایوب نے ملاقات سے انکار کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ آئین کے تحت وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کے درمیان مشاورت مکمل ہونے سے پہلے پارلیمانی کمیٹی تشکیل نہیں دی جا سکتی، جس کے باعث تقرریوں کا یہ موقع ضائع ہو گیا۔ اب تجزیہ کار یہ امید ظاہر کر رہے ہیں کہ شہباز شریف نئے قائدِ حزبِ اختلاف محمود اچکزئی کو دوبارہ مشاورت کی دعوت دیں گے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اتفاقِ رائے کی کوشش کریں گے۔ ان کے مطابق اگر دونوں رہنما ہر عہدے کے لیے تین تین ناموں پر اتفاق کر لیں تو پارلیمانی کمیٹی کے لیے حتمی انتخاب آسان ہو جائے گا۔

غیر حاضر رہ کر مراعات کے مزے لوٹنے والے پارلیمنٹ کے بڑے بچے کون؟

تاہم اگر وزیراعظم اور قائدِ حزبِ اختلاف کسی نام پر متفق نہ ہو سکے تو دونوں جانب سے تین تین نام پیش کیے جائیں گے، جس کے بعد 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی، جس میں حکومت اور اپوزیشن کی برابر نمائندگی ہو گی، دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کرے گی۔ لیکن اس مرحلے پر بین الجماعتی اتفاقِ رائے حاصل کرنا نہایت مشکل ہو سکتا ہے اور عمل طویل تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ رہے گا، اسی لیے بہتر یہی ہے کہ ابتدائی سطح پر ہی اتفاقِ رائے پیدا کر لیا جائے۔

Back to top button