بھٹو کی طرح روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والا ممدانی کون ہے ؟

بھارتی خاتون فلم ساز اور ان کے مسلمان شوہر کے بطن سے جنم لینے والے نوجوان ظہران ممدانی اگر نیو یارک کے میئر کا الیکشن جیتنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ بلکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی بھی شکست ہوگی۔ ٹرمپ نے تو یہ اعلان کر رکھا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ دینے والے ممدانی میئر کا الیکشن جیت گئے تو وہ نیویارک کی فیڈرل فنڈنگ بند کر دیں گے۔

معروف لکھاری اور تجزیہ کار بلال غوری روزنامہ جنگ میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں اب سلطانی جمہور کا زمانہ ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اب جمہوریت متروک ہوتی جا رہی ہے اور مقبولیت ہی قبولیت کا معیار بنتی جا رہی ہے۔ پاپولزم یا عوامیت پسندی کے  طوفانی لہریں سب کچھ خس و خاشاک کی مانند بہا لے جائیں گی۔ یہ سلسلہ عمران خان، نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ تک محدود نہیں بلکہ اس طرز سیاست کے جواب میں بھی ویسی ہی حکمت عملی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ میں ٹرمپ کو ایک اور پاپولسٹ رہنما سے شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جسے امریکہ کا ذوالفقار علی بھٹو قرار دیا جا رہا ہے۔ روایت شکن نوجوان ظہران ممدانی کی آمد سے امریکی سیاست کے منجمد سمندر میں بھونچال آگیا ہے۔ ایک ایسا نام جو کل تک حاشیے پر تھا، آج پورے امریکہ میں شہ سرخیوں میں ہے۔ نہ خاندانی سیاسی پس منظر، نہ مال و دولت کی ریل پیل، نہ صہیونی لابی کی پشت پناہی، مگر پھر بھی وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا۔ یہ صرف ایک امیدوار کی کامیابی نہیں، بلکہ اُس بیانیے کی فتح ہے جس پر کل تک بات کرنا بھی ممکن نہیں تھا۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ایک امریکی سیاستدان فلسطین کے حق میں آواز اُٹھائے گا اور اسرائیلی ظلم و جبر کی مذمت کرے گا، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ صہیونی لابی کو چیلنج کرے اور مئیر کی نامزدگی کا الیکشن جیت جائے، یہ کل تک تو محض ایک خواب ہی محسوس ہوتا تھا مگر آج یہ حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔

بلال غوری کہتے ہیں کہ اگر کوئی انہونی نہ ہوئی تو اس برس ظہران ممدانی نیویارک کے نئے میئر بن جائیں گے۔ ممدانی نے امریکی اسٹیبلشمنٹ اور اسرائیلی لابی کو اکیلے شکست دیدی ہے۔ ممدانی نے پرائمری الیکشن جیت لیا ہے اور وہ نیویارک کے اگلے میئر بننے جا رہے ہیں۔ یوں نیویارک شہر کا سیاسی نقشہ تبدیل ہو رہا ہے۔ پہلی بار ایک مسلمان اور جنوبی ایشیائی میئر سامنے آ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ممدانی کون ہے ؟کہاں سے اور کیسے نمودار ہوا؟ اسکے جیتنے کے امکانات کیا ہیں؟ اور کیا وہ واقعی اسرائیل مخالف ہے یا پھر اپنے حصے کے بیوقوف جمع کرنیوالا ایک اور پاپولسٹ؟

بلال غوری بتاتے ہیں کہ امریکہ میں اسرائیلی لابی اتنی طاقتور رہی ہے کہ اگر ڈیموکریٹک یا ریپبلکن پارٹی کا کوئی امیدوار یہودیوں کو ناراض کرتا تو اس کیلئے اگلا الیکشن جیتنا تقریباً ناممکن ہو جاتا۔ لیکن اب ہم ایک کرشمہ رونما ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ایک نوجوان جو اسرائیل کی پالیسیوں کی کھل کر مخالفت کرتا ہے اور فلسطینیوں کی حمایت کرتا ہے، اس نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ممدانی، جو ڈیموکریٹک پارٹی کے نامزد امیدوار اور ممکنہ فاتح سمجھے جا رہے ہیں، وہ بارہا اس عزم کا واضح اظہار کرچکے ہیں کہ ان کے میئر منتخب ہونے کے بعد جب بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئے، انہیں گرفتار کرلیا جائیگا کیونکہ ان پر جنگی جرائم کے الزامات کے تحت بین الاقوامی فوجداری عدالت کا وارنٹ موجود ہے۔ وہ فلسطینیوں کا قاتل ہے۔ اس نے انسانی حقوق کو پامال کیا ہے۔اسرائیل جسے امریکہ میں مقدس گائے کی حیثیت حاصل ہے، ممدانی نے اسے بے نقاب کیا اور اسکے نتیجے میں عوامی تائید و حمایت حاصل کی۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ یہاں تک کیسے پہنچے؟ بلال غوری کے مطابق اگر یہ کہا جائے کہ ممدانی کہیں سے اچانک نمودار ہوئے، تو یہ کوئی مبالغہ نہیں ہو گا۔ ابتدا میں انہیں سنجیدہ امیدوار نہیں بلکہ ایک ووٹ خراب کرنیوالا امیدوار تصور کیا گیا۔ لیکن ممدانی نے ثابت کیا کہ وہ ووٹروں سے براہِ راست جڑنے،نئے ووٹرز کو متحرک کرنے، اور انکے حقیقی مسائل کے حل پر مبنی پروگرام پیش کرنیکی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ انکی انتخابی کامیابی میں مؤثر مہم اور سوشل میڈیا ویڈیوز کے شاندار استعمال نے کلیدی کردار ادا کیا۔ میرا نائر کے بیٹے ممدانی نے اپنی انتخابی مہم میں بالی وڈ فلموں اور پاکستانی سیاسی ثقافت کا سہارا لیا۔ اپنی ایک وائرل ویڈیو میں ممدانی نے 1975ء کی ایک بھارتی فلم کا حوالہ دیا ہے، جس میں فلم سٹار امیتابھ بچن کہتا ہے: ’’میرے پاس بلڈنگ ہے، پراپرٹی ہے، بینک بیلنس ہے، بنگلہ ہے، گاڑی ہے، تمہارے پاس کیا ہے؟‘‘ششی کپور جواب دیتا ہے:’’میرے پاس ماں ہے!‘‘یہاں ظہران ممدانی اداکار شاہ رخ خان کی طرح بازو پھیلا کر نمودار ہوتے ہیں اور اپنے ووٹرز کو مخاطب کرکے کہتے ہیں: ’’میرے پاس تم ہو۔‘‘

اسی ویڈیو میں بعد ازاں وہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی تقلید کرتے ہوئے ’’روٹی، کپڑا اور مکان ‘‘کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ حقیقت میں یہی نعرہ انکے سیاسی نظریے کی بنیاد ہے۔ ممدانی کرایوں کو منجمد کرنے، بسوں کو مفت بنانے اور ہر بچے کیلئے نگہداشت کو ممکن بنانے کے خواب دکھا رہے ہیں اور انہی وعدوں کے باعث انکی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی انکے مخالف ہیں اور اب ممدانی کے تمام حریف ملکر انہیں ہرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نیویارک میئر کا انتخاب اب ایک غیر معمولی اور ہنگامہ خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے کیونکہ کچھ ڈیموکریٹس خود ہی اپنے پارٹی کے نامزد امیدوار ممدانی کو ہرانے کیلئے ایک ہو گئے ہیں اور پارٹی پالیسی کے برعکس آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اگر ممدانی کامیاب ہو جاتے ہیں، تو وہ گزشتہ صدی کے دوران نیویارک شہر کے سب سے کم عمر میئر ہونگے اور یہ نہ صرف ٹرمپ بلکہ ان کے اتحادی نیتن یاہو کیلئے بھی بڑی شکست ہوگی۔ بعض لوگ تو ممدانی کو ذوالفقار علی بھٹو سے تشبیہ دے رہے ہیں، لیکن۔ میرے خیال میں ممدانی ایک پاپولسٹ ہیں جنہوں نے ماضی کے تمام مقبولیت پسندوں کے اوصاف مستعار لیکر جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک نیا نسخہ متعارف کروایا ہے۔

Back to top button