9 مئی کی مذمت کرنے والے گنڈاپور کے دوست مِرزا آفریدی کون ہیں؟

چند روز پہلے جب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور عمران خان کی رہائی کے سلسلہ میں ارکان اسمبلی کے کارواں کی قیادت کرتے ہوئے لاہور پہنچے تو حیران کن طور پر ان کا پڑاؤ سینیٹر مرزا آفریدی کا فارم ہاؤس تھا جہاں ارکان اسمبلی کے اعزاز میں پر تکلف عشائیے کا اہتمام تھا۔
اس عشائیے میں علی امین گنڈاپور کو مرزا آفریدی کے گھر آنے پر بھی تند و تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ انہوں نے ماضی میں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی کھل کر مذمت کی تھی حالانکہ وہ تحریک انصاف کا حصہ تھے۔ اس کے باوجود انہیں خیبر پختون خوا سے تحریک انصاف نے سینٹ کا ٹکٹ دیا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے اندر سے یہ آوازیں بھی بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ پچھلے تین سال سے مشکلات کا سامنا کرنے والے کارکنوں اور رہنماؤں کو نظر انداز کرکے مرزا آفریدی کو امیدوار نامزد کرنا دراصل مالی مفاد کا معاملہ ہے۔ لیکن اس تنقید کو کاؤنٹر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کم و بیش ایک ہی طرح کے الفاظ میں مرزا آفریدی کے حق میں بھی مہم چلائی جا رہی ہے جس میں تحریک انصاف کے حامی سمجھے جانے صحافی بھی شامل ہیں۔
مرزا آفریدی کے حامیوں کا موقف ہے کہ اگرچہ انھوں نے دباؤ کی وجہ سے نو مئی کے واقعات کی مذمت کی لیکن وہ تحریک انصاف کے مشکل وقت میں اس کے معاون ثابت ہوئے ہیں۔
اردو نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق زمان پارک میں پڑاؤ کے وقت مرزا آفریدی پارٹی کو وافر مالی معاونت فراہم کرتے رہے جبکہ وہ اب بھی کیسز کا سامنا کرنے والے پی ٹی آئی کارکنوں کی مالی مدد کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ڈالی جانے والی پوسٹ میں مرزا آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے ان کی خدمات کے پیش نظر سینیٹر بننا ان کا حق ہے۔ خیال رہے کہ 2024 میں شدید تنقید کے باوجود عمران خان نے مرزا آفریدی کو بطور امیدوار برقرار رکھا تھا اور اب بھی اگرچہ شدید تنقید ہو رہی ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ حتمی فیصلہ دو روز بعد عمران خان ہی کریں گے۔
پاکستان کے ایوان بالا میں آزاد حیثیت میں جیت کر آنے والے ارکان کم و بیش ہر انتخاب میں ہی سرپرائز دیتے ہیں لیکن عام خیال ہے کہ ایسے سرپرائز عموماً بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں میں نسبتاً زیادہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 2018 میں بھی ایسا ہی ہوا جب ایک آزاد سینیٹر سابق فاٹا سے منتخب ہو کر سینیٹ میں پہنچے اور حکومتی جماعت (ن) لیگ کے ساتھ بیٹھ گئے۔ 2018 سے 2021 تک ن لیگی صفوں کا حصہ رہے لیکن مارچ 2021 میں جب چیئرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے دوبارہ انتخاب کا موقع آیا تو جہاں صادق سنجرانی دوسری بار سرپرائز تھے، وہیں ڈپٹی چئیرمین کے تحریک انصاف کے امیدوار سینیٹر مرزا آفریدی بھی کسی سرپرائز سے کم نہ تھے۔
تب رانا ثنا اللہ نے انھیں ن لیگ کا رکن قرار دیا لیکن الیکشن کمیشن اور سینیٹ کی ویب سائٹ پر وہ آزاد رکن کی حیثیت سے موجود تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ 2018 میں ن لیگ کے اپنے ارکان جو پنجاب سے منتخب ہوئے تھے انھیں بھی آزاد حیثیت میں ہی انتخاب لڑنا پڑا تھا کیونکہ اس وقت سپریم کورٹ نے انہیں ن لیگ کے انتخابی نشان سے محروم کر دیا تھا۔ مرزا آفریدی بحیثیت سینیٹر اور بحیثیت ڈپٹی چئیرمین سینیٹ تو ایوان میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے لیکن 2018 سے 2024 کے درمیان ان کی مہمان نوازیوں کا چرچا عام رہا۔ وہ سیات دانوں، سرکاری افسران اور صحافیوں کی میزبانی کرتے اور ان کی خوب آو بھگت کرتے تھے۔
آئی ایم ایف کے اعتراض پر حکومت نے درآمدی چینی کا ٹینڈر واپس لے لیا
یاد رہے کہ مرزا آفریدی کا تعلق ضلع خیبر سے ہے اور ان کا خاندان طویل عرصہ قبل لاہور منتقل ہو گیا تھا جہاں وہ الیکٹرونکس اور دیگر کاروباروں سے وابستہ رہے اور ان کی تعلیم بھی لاہور سے ہی ہے۔
وہ پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کے چچا زاد بھائی ہیں۔ ان کے خاندان سے شاہ محمد آفریدی 90 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے پارلیمان کا حصہ رہ چکے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات ہوئے تو مراز محمد آفریدی ان شخصیات میں سے تھے جنھوں نے بغیر کسی گرفتاری اور رہائی کے ویڈیو بیان کے ذریعے شدید الفاظ میں مذمت کی۔ جس وجہ سے تحریک انصاف کا عام کارکن انھیں پسند نہیں کرتا۔ مذمت کرتے وقت مرزا آفریدی کا کہنا تھا کہ ‘میں 9 مئی 2023 کے حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ خاص طور پر جناح ہاؤس، جی ایچ کیو اور شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کی مذمت کرتا ہوں۔ ان واقعات میں جو بھی ملوث ہے ان کی قانونی طور پر تحقیقات کرکے کارروائی کرنی چاہیے اور ان کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔‘ ان کے اسی بیان کی وجہ سے جب 2024 میں انھیں بطور امیدوار سینیٹ نامزد کیا گیا تو تحریک انصاف کے اندر سے اس فیصلے کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں۔
تب تو مخصوص نشستوں کے تنازع کے باعث خیبر پختون خواہ کی اسمبلی میں سینیٹ کا الیکسن نہ ہو سکا، لیکن اب کی بار وہ ایک بار پھر سینٹ کا ٹکٹ ملنے یا نہ ملنے کے حوالے سے زیر بحث ہیں۔
