کوئٹہ کے ریڈ زون میں دہشت گرد حملہ: کیا ریاست سو رہی تھی؟

 

 

 

بلوچستان میں ہونے والے حالیہ مربوط عسکریت پسند حملوں نے ایک بار پھر صوبے کی سلامتی، حکومتی رٹ اور ریاستی حکمتِ عملی پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ کوئٹہ کے ریڈ زون تک عسکریت پسندوں کی رسائی نے نہ صرف سکیورٹی کے بلند و بانگ دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے بلکہ یہ حملے اس امر کا بھی واضح اشارہ ہیں کہ صوبے میں پھیلتی بدامنی محض سکیورٹی ناکامی نہیں، بلکہ ایک گہرے سیاسی، انتظامی اور پالیسی بحران کی علامت بن چکی ہے جسے برسوں سے مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔

 

ناقدین کے مطابق کوئٹہ کے ریڈ زون تک عسکریت پسندوں کی رسائی محض ایک سکیورٹی بریک ڈاؤن نہیں بلکہ حکومتی رٹ پر براہ راست سوالیہ نشان ہے۔ ہر بڑے حملے کے بعد وفاقی و صوبائی قیادت کے دورے، مذمتی بیانات اور آئندہ ایسے واقعات روکنے کے دعوے اب ایک رسمی عمل بن چکے ہیں، جن کا زمینی سطح پر کوئی دیرپا اثر دکھائی نہیں دیتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران بلوچستان میں عسکریت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں نے صوبے کو ایک بار پھر خوف، بے یقینی اور عدم استحکام کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے۔ کالعدم بی ایل اے کی جانب سے ان حملوں کو اپنے آپریشن ’’ہیروف 2‘‘ کا تسلسل قرار دینا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ عسکریت پسند تنظیمیں نہ صرف صوبے میں متحرک ہیں بلکہ اپنی کارروائیوں کو منظم اور مربوط انداز میں آگے بڑھا رہی ہیں۔ بلوچستان کی دہائیوں پر محیط بدامنی کا خاتمہ ’’ایک ایس ایچ او کی مار‘‘ قرار دینے کا ریاستی بیانیہ آج زمینی حقائق کے تناظر میں ایک غیر سنجیدہ اور حالات سے نابلد تشخیص محسوس ہوتا ہے۔ کوئٹہ جیسے حساس شہر کے ریڈ زون میں حملہ اس بیانیے کے منافی ہے کہ بلوچستان میں مسئلہ محض نچلی سطح کی پولیسنگ یا انتظامی کمزوری تک محدود ہے۔بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اور قبائلی رہنما خدابخش مری کے مطابق موجودہ صوبائی حکومت کی ناقص پالیسیاں حالات کو سنبھالنے کے بجائے مزید بگاڑ رہی ہیں۔ حکمران طبقہ بحران سے فائدہ اٹھانے کی روش پر گامزن ہے اور جنگی بیانیے کو اپنی سیاسی بقا کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ مری کے بقول، جب تک بدامنی سے فائدہ اٹھانے والے عناصر کا احتساب نہیں کیا جاتا، صوبے میں استحکام محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔

 

اسی تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور تجزیہ کار بابر خان خجک بھی صوبائی مخلوط حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق بلوچستان کے منتخب نمائندے اپنے علاقوں میں عوامی رابطے اور مسائل کے حل کے بجائے ذاتی و سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے باعث ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے خطرناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جن حلقوں میں حالیہ حملے ہوئے، وہاں کے منتخب ارکان اسمبلی اس بحران پر خاموش کیوں ہیں؟ دوسری جانب بلوچستان کے مقامی لیگی رہنما بھی صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے دکھائی دیتے ہیں۔ مرکز میں حکمران جماعت ن لیگ کے رہنما اور سابق صوبائی مشیر مرزا شمشاد سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر بلوچستان میں سکیورٹی کے لیے سالانہ 96 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تو پھر عوام کی جان و مال کیوں محفوظ نہیں؟ ان کے مطابق صوبائی دارالحکومت کوئٹہ جیسے شہر میں امن و امان کی بدترین صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ یا تو صوبے میں وسائل کا درست استعمال نہیں ہو رہا یا ریاستی پالیسی ہی غلط سمت میں جا رہی ہے۔ جس کا خمیازہ عوام کو بد امنی اور دہشتگردی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بلوچستان میں انڈین اور اسرائیلی ایجنسیوں نے پنجے گاڑ لیے

بلوچستان میں بڑھتی بدامنی بارے حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر بھارتی اور اسرائیلی حمایت سے دہشتگردانہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ ریاستی حکمتِ عملی واقعی عوام کو تحفظ اور صوبے کو استحکام دے سکتی ہے؟ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک بلوچستان کو محض سکیورٹی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کے طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا،بلوچستان میں بدامنی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ بلوچستان آج جس آگ میں جل رہا ہے، اس کی تپش صرف دہشت گردی کی وجہ سے نہیں بلکہ برسوں کی غلط پالیسیوں، بے حسی، مفاد پرستی اور عدم احتساب کا نتیجہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں جاری کثیر الجہتی جنگ کا مقابلہ صرف عسکری طاقت سے ممکن نہیں۔ دہشت گردی، پروپیگنڈا اور انفارمیشن وارفیئر کو صرف قومی اتحاد، مؤثر سفارت کاری اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔

 

Back to top button