پرویز الٰہی کو گورنر پنجاب بنانے کی افواہیں کون اڑا رہا ہے؟

گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر افواہیں گرم ہیں کہ چودھری پرویز الٰہی پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد پنجاب کے گورنر بننے جا رہے ہیں۔ تاہم معتبر ذرائع کا اس دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہنا ہے کہ موجودہ ملکی سیاسی حالات میں چودھری پرویز الٰہی کو گورنر پنجاب بنانے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ چودھری پرویز الٰہی کے اب نہ تو چودھری شجاعت حسین سے قریبی تعلقات ہیں اور نہ ہی وہ صدر آصف علی زرداری کی گڈ بک میں شامل ہیں جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی یا اسٹیبلشمنٹ سے بھی ان کا کوئی رابطہ نہیں،اس تناظر میں چودھری پرویز الٰہی کی گورنر شپ سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد اور محض قیاس آرائیاں معلوم ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق چودھری پرویز الٰہی کی سیاسی حیثیت کمزور ہو چکی ہے تاہم ان کے گورنر پنجاب لگانے بارے بے بنیاد افواہیں اس لئے اڑائی جا رہی ہیں تاکہ وہ سیاست میں ان رہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عمرانی محبت میں مقتدر حلقوں سے دوری کے بعد چودھری پرویز الٰہی کی سیاسی حیثیت زیرو ہو چکی ہے اور وہ سیاسی میدان کے ایک ایسے مردہ گھوڑے بن چکے ہیں جن پر شرط لگانا تو کجا انھیں کوئی بھی پارٹی سیاسی ریس میں دوڑانے کو بھی تیار نہیں۔
خیال رہے کہ جہان ایک طرف پیپلز پارٹی لیڈر شپ چودھری پرویز الٰہی کی بطور گورنر پنجاب تعیناتی کی خبروں کی سختی سے تردید کرتی نظر آتی ہے وہیں سابق وزیر اعلیٰ کے قریبی حلقوں کا بھی ایسی افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہنا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی کبدستور پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ ہیں اور موجودہ سیاسی دباؤ کے باوجود اپنی جماعت سے علیحدگی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما حسن مرتضیٰ کا چودھری پرویز الٰہی بارے پھیلائی جانے والی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہنا ہے کہ پارٹی لیڈر شپ گورنر پنجاب کی کارکردگی سے مطمئن ہے، اس وقت موجودہ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی جگہ کسی نئی تقرری کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں۔ کچھ شرپسند عناصر سردار سلیم حیدر کو ہٹا کر چودھری پرویز الٰہی کو گورنر لگانے کی افواہیں اڑا رہے ہیں تاکہ سیاسی فضا کو پراگندہ کرنے کے ساتھ سیاسی غیریقینی صورتحال پیدا کی جا سکے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی تمام خبرین بے بنیاد اور لغو ہیں۔
دوسری جانب چودھری پرویز الٰہی کے قریبی حلقے بھی ایسی خبروں کو مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق چودھری پرویز الٰہی اور ان کے صاحبزادے مونس الٰہی نے مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑا، لہٰذا موجودہ حالات میں اچانک سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کا تاثر حقیقت سے بعید معلوم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق مخالفین کی جانب سے ایسی افواہیں جان بوجھ کر پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ پارٹی کے اندر بداعتمادی پیدا کی جا سکے۔
یاد رہے کہ چودھری پرویز الٰہی 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے پنجاب کے وزیراعلیٰ بنے تھے، جبکہ 2023 میں عمران خان نے انہیں پارٹی کا مرکزی صدر مقرر کیا۔ اسی دوران وہ اپنی جماعت مسلم لیگ ق کے چند ارکان سمیت پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے۔ تاہم عمران خان کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد چودھری پرویز الٰہی کو مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں مالی بے ضابطگیوں، منی لانڈرنگ اور 9 مئی کے واقعات سے متعلق کیسز شامل تھے۔ طویل قانونی پیچیدگیوں اور قید کے بعد بالآخر انہیں ضمانت پر رہائی ملی، مگر رہائی کے بعد انہوں نے عملی سیاست میں نمایاں سرگرمی دکھانے کے بجائے نسبتاً خاموشی اختیار کیے رکھی۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں چودھری پرویز الٰہی کے کچھ قریبی حلقوں کی جانب سے انہیں گورنر پنجاب بنانے کی افواہیں پھیلائی گئیں تاکہ کہ انہیں دوبارہ سیاسی میدان میں ان کیا جا سکے۔ مبصرین کے مطابق حالیہ افواہیں دراصل چودھری پرویز الٰہی کو دوبارہ سیاسی میدان میں”ان” کرنے کی کی ایک ناکام کوشش تھیں، جو الٹا ان کے لیے وضاحتوں کا باعث بن گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ مختلف پلیٹ فارمز پر ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے خود کو پاکستان تحریک انصاف کا حصہ ثابت کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں۔
