ٹرمپ کے قتل کے ایرانی منصوبے میں گرفتار پاکستانی کون ہے؟

امریکی صدر ٹرمپ کے قتل کی مبینہ ایرانی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار پاکستانی شہری آصف رضا مرچنٹ کے خلاف نیویارک کی وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ عدالتی کارروائی کے دوران مرچنٹ نے اعتراف کیا کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ رابطے میں تھا اور امریکہ میں کرائے کے قاتل تلاش کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اپنے خاندان کو بچانے کے لیے دباؤ میں کر رہا تھا۔

امریکی خبر رساں اداروں کے مطابق نیویارک کے علاقے بروکلین میں واقع وفاقی عدالت میں جاری سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ آصف مرچنٹ نے امریکہ میں ایسے افراد کی تلاش کی جو رقم کے عوض امریکی سیاست دانوں کو قتل کر سکیں۔ استغاثہ کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینا تھا، جنہیں جنوری 2020 میں بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

امریکی محکمہ انصاف کے مطابق آصف مرچنٹ دہشت گردی اور رقم دے کر قتل کرانے کی سازش کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ ملزم نے امریکہ میں کرائے کے قاتل بھرتی کرنے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لیے باقاعدہ مالی ادائیگی بھی کی۔

عدالتی کارروائی کے دوران آصف مرچنٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اس منصوبے میں اپنی مرضی سے شامل نہیں ہوا تھا۔ اسکے مطابق تہران میں موجود ان کے خاندان کو مارے جانے کے خطرات لاحق تھے جس کے باعث وہ ایرانی حکام کے ساتھ تعاون کرنے پر مجبور ہوا۔ معاون امریکی اٹارنی نینا گپتا نے اس سے جرح کے دوران سوال کیا کہ آیا وہ امریکہ اس مقصد کے لیے آیا تھا کہ مافیا کے افراد کو کسی سیاست دان کے قتل کے لیے بھرتی کرے۔ اس پر مرچنٹ نے جواب دیا کہ یہ بات درست ہے، تاہم اس نے کہا کہ وہ دباؤ کے تحت ایسا کر رہا تھا۔ استغاثہ نے اس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ مرچنٹ کو زبردستی اس منصوبے میں شامل کیا گیا تھا۔

عدالتی بیان کے مطابق مرچنٹ کو کسی ایک مخصوص فرد کو قتل کرنے کا واضح حکم نہیں دیا گیا تھا، تاہم تہران میں ہونے والی بات چیت کے دوران تین امریکی سیاست دانوں کے نام سامنے آئے۔ ان میں ڈونلڈ ٹرمپ، صدر جو بائیڈن اور ریپبلکن سیاست دان شامل تھے۔ مرچنٹ کے مطابق اسے صرف ابتدائی معلومات جمع کرنے اور ایسے افراد تلاش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی جو اس منصوبے میں مدد کر سکیں۔ امریکی حکام کے مطابق جون 2024 میں مرچنٹ نے نیویارک میں ایک ایسے شخص سے ملاقات کی جسے وہ اجرتی قاتل سمجھ رہا تھا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ وہ دراصل امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف بی آئی کا خفیہ ایجنٹ تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق آصف مرچنٹ نے اس کرائے کے قاتل کو منصوبے کی تکمیل کے لیے پانچ ہزار ڈالر پیشگی ادا کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آصف مرچنٹ 12 جولائی 2024 کو امریکہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتا تھا اور اس کے لیے پرواز بھی بک کروا لی تھی، تاہم اسی روز امریکی حکام نے اسے گرفتار کر لیا اور وہ ملک چھوڑنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ 13 جولائی 2024 کو صدر ٹرمپ پر ہونے والے ایک قاتلانہ حملے سے آصف مرچنٹ کا کوئی تعلق نہیں پایا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران آصف مرچنٹ نے خود کو ایک کاروباری شخصیت قرار دیا۔ اس کے مطابق اس نے بینکاری کے شعبے سے کیریئر کا آغاز کیا جس کے بعد کیلا برآمد کرنے، گاڑیوں کی فروخت اور گلاس فائبر انسولیشن کی درآمد کا کاروبار کیا۔ بعد میں وہ اپنے چچا کے گارمنٹس کے کاروبار سے وابستہ ہو گیا۔ اس نے بتایا کہ اس کی دو بیویاں اور پانچ بچے ہیں، جن میں سے ایک بیوی پاکستانی اور دوسری ایرانی ہے جس سے اسکی ملاقات عراق کے شہر کربلا کے مذہبی سفر کے دوران ہوئی تھی۔

ایران نےاسرائیل کی جوابی تباہی کاکیامنصوبہ بنایاہے؟

آصف مرچنٹ کے مطابق اسں نے 2022 کے آخر میں اپنے کزن کے ذریعے ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار مہرداد یوسف کے لیے کام شروع کیا۔ ابتدا میں اسکا کام غیر رسمی ہنڈی نظام کے ذریعے ایران تک رقم پہنچانا تھا، تاہم بعد میں اسے زیادہ خطرناک سرگرمیوں میں شامل ہونے کا کہا گیا۔ مرچنٹ کے بیان کے مطابق مارچ 2024 میں ایران کے دارالحکومت تہران میں ہونے والی ملاقات کے دوران اسے ہدایت دی گئی کہ وہ امریکہ میں ایسے جرائم پیشہ افراد تلاش کریں جو احتجاج کا بندوبست کر سکیں، اہم ترین دستاویزات چوری کر سکیں، منی لانڈرنگ کا کام انجام دے سکیں اور ممکنہ طور پر کسی سیاست دان کے قتل کی کارروائی بھی انجام دے سکیں۔

آصف مرچنٹ نے عدالت کو بتایا کہ اسے اپنی ایرانی بیوی اور بچوں کے بارے میں شدید تشویش تھی اور اسے یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ انکار کرتا ہے تو اسکے اہل خانہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، اسی وجہ سے وہ اس منصوبے میں شامل ہو گیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ منصوبہ عملی طور پر کامیاب نہیں ہو گا اور امکان یہی ہے کہ اسے جلد یا بدیر گرفتار کر لیا جائے گا۔ دوسری جانب تہران حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ اس نے امریکی سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کسی منصوبے کی حمایت کی ہو۔ یہ مقدمہ ایسے وقت میں شروع ہوا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، اور صدر ٹرمپ کی افواج نے ایران میں ریجیم کی تبدیلی کے لیے اسرائیل کہساتھ مل کر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

Back to top button