جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کے پیچھے اصل کردار کون ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حفیظ اللہ نیازی نے کہا ہے کہ کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی جان بخشی اس لیے ناممکن ہے کہ وہ نہ صرف قوم کے مجرم ہیں بلکہ اللہ کے بھی مجرم ہیں کیونکہ انہوں نے عمران خان اور اپنی ذات کی خاطر جناح کا پاکستان برباد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج اگر فیض حمید عوام کو 2017  والا پرانا پاکستان واپس کر دیں تو میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں انکی جان بخشی کیلئے تن من دھن کی بازی لگا دوں گا، لیکن یہ طے یے کہ فیض حمید کے اصل انجام کی خبر صرف اللہ کی ذات ہی کو ہے کیونکہ وہ اللہ تعالی کے مجرم ہیں!۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ میں عسکری قیادت کو ملکی سیاست کا’’مجازی خدا‘‘ سمجھتا ہوں ۔ قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت، یہ سب عناصر ہوں تو بنتا ہے آرمی چیف۔ جنرل باجوہ نے اپنے چھ سالہ دور میں ان تمام عناصر کا بھرپور استعمال کیا۔ انہوں نے اپنے آخری دنوں میں جنرل عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تعیناتی رکوانے کیلئے بھی سب جتن کیے، اور اپنے ادارے تک کی پراوا نہ کی۔ اس کیے جنرل باجوہ کا کردار ملکی تاریخ میں مکاری، فریب اور جھوٹ سے مزین ہے۔ جیسے کسی سیاسی حکومت کی خرابی کا مکمل ذمہ دار حکومتی سربراہ ہوتا ہے ، اس سے کہیں زیادہ عسکری ادارےکے دلدل میں دھنسنے کا ذمہ دار بھی ادارے کا سربراہ ہوتا ہے۔ ادارے کا یہ موقف کہ ’’ عمران خان اور جنرل باجوہ کا نیٹ ورک جنرل باجوہ کی مدد سے  گرفت میں آیا‘‘ بالکل معصومانہ ہے ، عقل یہ ماننے سے قاصر ہے ۔ پاکستان کو عمران خان جیسے شخص کے حوالےکرنا سراسر باجوہ اور  فیض کا پلان تھا۔ جنرل فیض کو اس پراجیکٹ کا چیف ایگزیکٹو ہی سمجھا جائیگا جو ریٹائرمنٹ کے بعد تحریک انصاف کے چیف منصوبہ ساز کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے فوج کے اندر نفاق پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ لیکن جنرل فیض کا کورٹ مارشل کرتے وقت جنرل باجوہ کو فی الوقت نظرانداز کرنا بہترین حکمت عملی ہے۔

جرنیلوں کےاحتساب کے بعدججزکااحتساب بھی لازمی کیوں ہوگیا؟

حفیظ اللہ نیازی کے مطابق یہ ان کا پرانا موقف ہے کہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی اللہ تعالیٰ نے کی جس کو رکوانے کے لیے عمران نے ملکی طول و عرض میں کہرام مچایا دیا۔ حد تو یہ کہ ان پر کفر تک کے فتوے لگا دیے گے۔ بلاشبہ ! جنرل عاصم کا آرمی چیف بننا ایک معجزاتی اور انہونا واقعہ ہے کیونکہ سارے زمینی خداؤں بشمول بین الاقوامی طاقتوں نے انکی تعیناتی رکوانے کیلئے کیا کیا جتن نہیں کیے۔ عمران خان نے جنرل عاصم کو روکنے کیلئے ایک بھرپور سازش تیار کی۔ یکم نومبر 2023 کو راولپنڈی سے لانگ مارچ شروع کرنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ چ2نکہ عمران کو ناکام دھرنوں اور لانگ مارچز کا وسیع تجربہ ہے لہازا اس بار موصعف نے ناکامی سے بچنے کیلئے نیا فارمولا متعارف کرایا۔ انہوں نے درجنوں جلسوں میں شرکاء سے حلف لیا کہ انہوں نے عاصم منیر کی تعیناتی رُکوانے کیلئے جان مال اور اسباب سب قربان کرنے ہیں، انہوں نے اس عمل کو جہاد اکبر کا نام دے ڈالا۔ قبل ازیں، 23 اکتوبرکو ارشد شریف کا قتل ہوا تو عمران نے ایجنسیوں کے سربراہان کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ میرے نزدیک ارشد شریف قتل کا مقصد لانگ مارچ کو گرمانا اور کامیاب بنانا تھا جس میں فیض حمید کا ہاتھ تلاش کیا جانا چاہیے۔یکم نومبر 2023 کو عمرانی لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہمیشہ کی طرح کہیں موجود نہیں تھا ۔ وزیرآباد میں عمران پر مہارت سے حملہ ہوا اور گولیاں کنٹینر کی شیلڈ پھاڑتی ٹکڑوں کی صورت میں لگیں۔ میری حتمی رائے ہے کہ ل پر قاتلانہ حملہ ملک میں خانہ جنگی کرانے کیلئے تھا تاکہ مارشل لاء لگانا ممکن ہو سکے۔ عمران کو حملہ کی پیشگی خبر تھی اور وہ اسکا برملا اظہار کر چکے تھے۔ لہذا اس واردات کے پیچھے بھی فیض حمید کا ہاتھ تلاش کیا جانا چاہیے چونکہ عمران کی ٹھس تحریک اس حملے کے بعد چل پڑی تھی۔

حفیظ اللہ نیازی کہتے ہیں کہ نومبر 2023 تک جو بھی شخص عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری رکوانے کی کوششوں میں مصروف تھا وہ آج نشان عبرت بنا ہوا ہے۔ لیکن کوئی بتائے تو سہی کہ جنرل عاصم کا قصور کیا تھا کہ ان کا راستہ روکنے کیلئے زمانہ گردش میں تھا۔ کس کس نے کہاں کہاں، انکی تعیناتی رکوانے کی کیا کیا تدبیریں نہیں کیں؟ لیکن ذات باری تعالیٰ نے یہ تعینانی اپنے ہاتھ میں لے رکھی تھی۔ اس لیے میں عمران خان کو کہتا ہوں کہ جنرل عاصم کی تعیناتی کے پیچھے لندن پلان نہیں تھا بلکہ یہ اللہ کا پلان تھا۔ عمران خان سے مجھے صرف دو باتیں پوچھنی ہیں، پہلی یہ کہ کیا وہ اپنے چاہنے والوں کو بتانا پسند کریں گے کہ ان کے قتل کی سازش کرنے والے چار افراد کے نام کیا ہیں؟ یہ سوال پوچھنا اس لیے ضروری ہے کہ عمران خان بڑے سے بڑا الزام لگانے کے بعد 35 پنکچر کی طرح کندھے اُچک کر فرما دیں گے کہ وہ تو ایک سیاسی سٹنٹ تھا جو باجوہ اور فیض نے مجھے فیڈ کیا تھا۔

Back to top button