ام رباب کے والد، دادا اور چچا کا اصل قاتل کون؟

 

 

آٹھ سال تک عدالتوں کے دروازوں پر دستک دینے والی سندھ کے ضلع دادو کی اُم رباب کا مقدمہ صرف ایک خاندان کے المیے کی داستان نہیں بلکہ اس کیس نے ملکی نظامِ انصاف کی ساخت، کارکردگی اور ترجیحات پر سنگین سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ تین افراد کے قتل کیس میں نامزد تمام ملزمان کی بریت کا عدالتی فیصلہ نہ صرف عوامی تنقید کی زد میں ہے بلکہ سوشل میڈیا پر یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ام رباب کے دادا، والد اور چچا کے قتل میں سندھی وڈیرے ملوث نہیں تو ان کا اصل قاتل کون ہے؟کیا ریاست کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ نامزد ملزمان کے خلاف ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلہ سنائے، یا اس کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اصل مجرم تک پہنچ کر انصاف کو یقینی بنائے؟

 

خیال رہے کہ تہرے قتل کا یہ مقدمہ 17 جنوری 2018 کو ضلع دادو کے علاقے میہڑ میں پیش آنے والے ایک ہولناک واقعے سے شروع ہوا، جہاں اُم رباب کے والد مختیار چانڈیو، دادا کرم اللہ چانڈیو اور چچا قابل حسین چانڈیو کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ اگلے روز درج ہونے والی ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ حملہ سرداری نظام کی مخالفت، پرانی دشمنی اور مقامی طاقت کے تنازعات کا نتیجہ تھا، جس میں بااثر شخصیات کو بھی نامزد کیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے دن دیہاڑے آ کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں دو افراد موقع پر جاں بحق جبکہ ایک بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ تاہم تہرے قتل کا یہ مقدمہ ابتدا ہی سے سنگین سوالات کی زد میں رہا۔ ایف آئی آر واقعے کے تقریباً 16 گھنٹے بعد درج کی گئی، جسے عدالت نے مشکوک قرار دیا۔ مزید برآں 392 پیشیوں پر مشتمل طویل عدالتی کارروائی کے دوران چشم دید گواہوں کے بیانات میں نمایاں تضادات سامنے آئے، جبکہ میڈیکل شواہد بھی ان بیانات سے مطابقت نہ رکھ سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ استغاثہ کسی ایک بھی آزاد گواہ کو پیش کرنے میں ناکام رہا، حالانکہ واقعہ ایک گنجان آباد علاقے میں پیش آیا تھا۔ان تمام کمزوریوں اور شواہد کی عدم مطابقت کے پیشِ نظر عدالت نے آٹھ سال بعد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام نامزد ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ ناقدین کے مطابق ام رباب کے کیس میں عدالت نے یہ تو قرار دے دیا کہ جن افراد کو نامزد کیا گیا تھا وہ مجرم نہیں، لیکن اس کے بعد یہ سوال تشنہ رہ گیا کہ اگر وہ مجرم نہیں تو پھر اصل قاتل کون ہے؟

 

ماہرین کے مطابق پاکستان کا عدالتی نظام بنیادی طور پر حریفانہ نوعیت کا ہے، جس میں عدالت خود تحقیقاتی کردار ادا نہیں کرتی بلکہ فریقین پر انحصار کرتی ہے کہ وہ اپنے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل اور شواہد پیش کریں۔ بظاہر یہ نظام غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، مگر عملی طور پر یہ طاقتور اور کمزور کے درمیان عدم توازن کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ وسائل سے محروم افراد نہ تو بہترین وکلا کی خدمات حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ایسے شواہد اکٹھے کر سکتے ہیں جو عدالت میں ان کے مؤقف کو مضبوط بنائیں۔ نتیجتاً، انصاف ایک قانونی جنگ بن کر رہ جاتا ہے، جس میں کامیابی اکثر وسائل اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔

 

ام رباب کی جدوجہد اس نظام کی انہی خامیوں کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک کمزور مگر باہمت بیٹی، جو اپنے والد، چچا اور دادا کے قتل کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، اسے نہ صرف قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ سماجی اور سیاسی دباؤ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں گواہوں کا سامنے نہ آنا، وکلا کی مہنگی فیسوں اور جان کو لاحق خطرات جیسے عوامل انصاف کے حصول کو تقریباً ناممکن بنا دیتے ہیں۔ چنانچہ جب عدالت صرف یہ کہہ کر بری الذمہ ہو جائے کہ الزام ثابت نہیں ہو سکا، تو یہ فیصلہ قانونی طور پر درست ہونے کے باوجود اخلاقی طور پر ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ ناقدین کے مطابق پاکستانی نظامِ انصاف میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ نتائج کے بجائے طریقۂ کار پر زیادہ زور دیتا ہے۔ اگر ثبوت ناکافی ہوں تو ملزم کو بری کر دینا یقیناً ایک اصولی تقاضا ہے، لیکن اس کے بعد ریاست کی ذمہ داری ختم نہیں ہونی چاہیے بلکہ اصل مجرم کی تلاش جاری رہنا چاہیے، تاکہ انصاف کا تقاضا پورا ہو سکے۔ مبصرین کے بقول ام رباب کا مقدمہ محض ایک فرد کی کہانی نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارا نظام واقعی انصاف فراہم کرنے کے قابل ہے، یا یہ صرف قانونی تقاضے پورے کرنے تک محدود ہو چکا ہے۔ جب تک اس سوال کا دیانتداری سے جواب نہیں دیا جاتا، تب تک نہ صرف ام رباب بلکہ اس جیسے بے شمار متاثرین انصاف کی تلاش میں سرگرداں رہیں گے اور یہ سوال اٹھاتے دکھائی دیں گے کہ ہمارے پیاروں کا اصل قاتل کون ہے؟

 

Back to top button