آفریدی نے عمران سے ملاقات نہ کروانے کا مدعا مریم پر کیوں ڈال دیا ؟

 

 

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی نے عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کا ذمہ دار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو ٹھہراتے ہوئے انھیں خط لکھ دیا ہے حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کی ملاقات میں کوئی سیاسی و قانونی رکاوٹ حائل نہیں، صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کی وجہ سے ان کی عمران خان سے ملاقات ممکن نہیں ہو پارہی ہے۔

 

ناقدین کے مطابق سہیل آفریدی اپنے خط میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں کہ وہ انہیں عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور ان کی وجہ سے وہ عمران خان سے نہیں مل پا رہے حالانکہ سہیل آفریدی خوب جانتے ہیں کہ عمران خان سے ملاقات کے فیصلے دراصل فوجی اسٹیبلشمنٹ کرتی ہے۔ وہی اسٹیبلشمنٹ جسے انہوں نے وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں نہ صرف سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا بلکہ صوبے میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان کے حق میں بیانات بھی داغ دئیے تھے۔ تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو باور کروا رہی ہے کہ تمام تر کوششوں اور منت سماجت کے باوجود وہ اپنے ہی قائد سے ملاقات کرنے میں ناکام ہیں اور یہی ان کی اصل ’’اوقات‘‘ ہے۔

 

تاہم وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو لکھے گئے خط میں پولیس کے ہاتھوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو مبینہ طور پر بدسلوکی کا نشانہ بنائے جانے اور عمران خان سے ملاقات میں رکاوٹ پیدا کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مریم نواز کو اس کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیے گئے خط میں سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ مریم نواز کی توجہ عدالت کی جانب سے عمران خان سے مقرر کردہ ملاقات کے انتظام اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ حالیہ سلوک سے متعلق سنگین خدشات کی طرف مبذول کروانا چاہتے ہیں۔  عدالتی احکامات کے مطابق عمران خان کے قریبی اہل خانہ اور نامزد افراد کو مخصوص دنوں میں بانی پی ٹی آئی سے ملنے کی اجازت ہے، ان واضح عدالتی احکامات کے باوجود بار بار ایسی اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ متعلقہ حکام ان پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔

 

انہوں نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ حالیہ ملاقات کی کوشش کے دوران کیے گئے نامناسب اور سخت رویے کو خصوصی طور پر تشویشناک قرار دیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی خواتین ہیں جو صرف اپنے بھائی سے عدالت کی اجازت کے مطابق ملاقات کرنا چاہتی ہیں، حتیٰ کہ اگر سیاسی شخصیات کے لیے کوئی پابندی موجود بھی ہو، تب بھی قریبی اہل خانہ کی ملاقات میں رکاوٹ یا بدسلوکی کا کوئی قانونی یا انتظامی جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان سے بہنوں کی ملاقات میں رکاوٹ ڈالنا، انہیں روکنا یا عارضی حراست میں لینا ہرگز قابل قبول نہیں، ایسے اقدامات سے یہ واضح تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عدالتی احکامات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جیل و پولیس حکام ملاقات کے حقوق کو محفوظ یا سہولت فراہم نہیں کر رہے۔

 

خط کے متن کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور ان کے اہل خانہ کو عدالتی حکم کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی جبکہ بزرگ خواتین کو ایک کلومیٹر دور سڑک پر بٹھایا گیا جسے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے "غیر انسانی، غیر اخلاقی اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا۔

آئینی عدالت کے لیے بلڈنگ کا حصول حکومت کے لیے چیلنج کیوں؟

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت کو خط میں چار اہم مطالبات پیش کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کیا جائے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ بدسلوکی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ سہیل آفریدی نے مطالبہ کیا ہے کہ جیل و پولیس حکام کو ملاقات کی واضح ہدایات جاری کی جائیں، اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے باوقار اور قانونی نظام قائم کیا جائے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سابق وزیراعظم اور اپنی جماعت کے قائد ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کے تحت خیبر پختونخوا میں حکومت قائم ہے اس لیے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ تاہم دوسری جانب مریم نواز حکومت کی جانب سے تاحال خط بارے کوئی جواب سامنے نہیں آ یا۔

 

Back to top button