پٹرول کی قیمت میں 80 روپے کمی کس نے کروائی؟

پٹرول کی قیمت میں 137 روپے کے ہوشربا اضافے کے بعد فی لیٹر 80 روپے کمی کی وجوہات پر مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں اور ہر کوئی اس کا کریڈٹ لیتا دکھائی دے رہا ہے۔ کچھ حلقے اسے حکومتی کفایت شعاری اور مؤثر حکمتِ عملی کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ نواز شریف کی مداخلت کا اثر ہے جس کی وجہ سے ایک روز بعد ہی پٹرول کی قیمت میں واضح کمی سامنے آئی ہے۔ تاہم اس حوالے سے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی حکومتی مطالبے پر آئی ایم ایف کی اجازت سے ممکن ہوئی، ورنہ آج بھی پٹرول 458 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہا ہوتا۔
خیال رہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 80 روپے کمی کا اعلان ایسے وقت میں کیا جب حکومت نے صرف ایک روز قبل قیمت میں بڑا اضافہ کیا تھا۔ پیٹرول کی قیمت میں 137.24 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 184.49 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد 520 روپے 35 روپے کی گئی تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر سخت عوامی رد عمل سامنے آیا تھا۔ ایک روز بعد وزیراعظم شہباز شریف نے رات گئے پٹرولیم لیوی میں 80روپے کی کمی کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پٹرول کی قیمت 458روپے سے کم ہو کر 378روپے پر آ گئی تھی۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 80روپے لیٹر کی کمی کیسے ممکن ہوئی؟ مبصرین کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 80روپے لیٹر کمی دراصل پٹرولیم لیوی میں ردوبدل کے حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے بعد ممکن ہوئی۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم لیوی کے معاملے پر جزوی نرمی ملنے کے بعد ہی پٹرول کی قیمت کم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب وزارتِ خزانہ نے ہفتے کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کی۔ ابتدا میں فنڈ نے اپنے پروگرام کے تحت پٹرول اور ڈیزل دونوں پر فی لیٹر 80 روپے لیوی برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔ تاہم حکام کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کی درخواست پر اس فیصلے میں محدود نرمی دی گئی۔ جس کی وجہ سے قیمتوں میں کمی ممکن ہوئی۔
دوسری جانب لیگی سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنےآ رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے پٹرول کی قیمت میں کمی کے فیصلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ لیگی ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان تفصیلی مشاورت ہوئی جس میں عوام کو فوری ریلیف دینے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے قیمتوں میں فوری کمی اور مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی، جبکہ کفایت شعاری پروگرام پر سختی سے عملدرآمد پر بھی زور دیا گیا۔ تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں کمی لائی جا سکے، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مسلم لیگ ن کی رہنمائی میں فوری طور پر پٹرول کی قیمت کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بگڑتی ہوئی علاقائی صورتحال، بالخصوص ایران سے جڑی تناؤ کی کیفیت، عالمی تیل منڈی کو غیر یقینی کا شکار بنا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں خام تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر پٹرولیم پراڈکٹس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہورہا ہے، جہاں آئل کی درآمدی لاگت میں اضافے کے باعث مقامی سطح پر بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہو رہی ہیں۔ جس سے ملک میں مہنگائی کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
قیمتیں بڑھنے کے باوجود پاکستان میں پٹرول کی فروخت میں اضافہ کیوں؟
تاہم ناقدین کے مطابق حکومت کی جانب سے پہلے پٹرول کی قیمت میں 137 روپے کا بڑا اضافہ کرنا اور پھر 80 روپے کمی کا اعلان کرنا دراصل ایسی حکمتِ عملی ہے جس کے تحت عوام کو “موت دکھا کر بخار پر راضی” کیا جاتا ہے، تاکہ بڑی قیمت کو معمول کے طور پر قبول کروا لیا جائے اور وقتی ریلیف کو نمایاں بنا کر پیش کیا جا سکے۔ناقدین کے بقول یہ حکمتِ عملی عوامی نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی جاتی ہے، جس کے تحت پہلے قیمتوں میں شدید اضافہ کر کے عوام کو ایک بڑے صدمے سے دوچار کیا جاتا ہے، اور پھر جزوی کمی کر کے اسے ریلیف کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اس طریقۂ کار سے نہ صرف عوام کی توجہ اصل اضافے سے ہٹائی جاتی ہے بلکہ اس طریقہ واردات سے عوام کم قیمت کو بھی ایک بڑی سہولت سمجھ کر قبول کرنے لگتے ہیں، حالانکہ مجموعی طور پر قیمتیں پہلے کی نسبت اب بھی کہیں زیادہ ہوتی ہیں۔مبصرین کے مطابق اس طرح کا حکومتی طرزِ عمل وقتی طور پر تو عوامی غصے کو کم کر سکتا ہے، مگر طویل مدت میں اعتماد کے فقدان اور معاشی بے چینی میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
