صدر زرداری کو فارغ کرنے کی افواہ کس نے اور کیوں تراشی؟

وزیر اعظم شہباز شریف کے بعد اب میاں نواز شریف کے قریبی ترین ساتھی سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی صدر آصف زرداری کو عہدے سے ہٹانے کی افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں ایک منظم سازش کا حصہ قرار دے دیا ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں معروف لکھاری سینٹر عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اس افوہ کو گھڑنے کے بعد پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیا گیا۔ میں سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت سے انکاری نہیں کیونکہ میں خود اس سے استفادہ بھی کرتا ہوں۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا نے ’خبر‘ کی چادرِ عصمت تار تار کر دی ہے۔ انکا کہنا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کی رخصتی اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ایوانِ صدر کا رُخ کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر ایک معروف صحافی کے وی لاگ نے ہلچل مچا دی۔ حکومتی حلقوں سے اِس کی واضح تردید بلکہ کئی تردیدیں جاری ہو گئیں لیکن وی لاگر کا اصرار تھا کہ اس کی خبر سچ ہے۔

سب سے پہلے صدر آصف زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے قریب سمجھے جانے والے وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے اس خبر کو سازش کا حصہ قرار دیا۔ انکا کہنا تھا کہ اس جھوٹ کو پھیلانے کا مقصد صرف کنفیوژن پھیلانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سازش کون سے عناصر کر رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے سازشی عناصر کا نام نہیں لیا۔

اس کے بعد وزیراعظم شہباز شرئف نے واضح الفاظ میں کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری، جنرل عاصم منیر اور خود انکی تکون کے درمیان تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہیں اور ان کا مشترکہ ایجنڈا پاکستان اور اسکے عوام کی خوش حالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بے ان بنیاد افواہوں کا مقصد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ہے۔

حکومتی ذرائع نے بھی ان افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں ترمیم کے بغیر یہ ممکن ہی نہیں کہ فیلڈ مارشل کو صدر کے عہدے پر تعینات کیا جا سکے اور کوئی بھی ائینی ترمیم پیپلز پارٹی کی مرضی کے بغیر پارلیمنٹ سے منظور کروانا ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی ماضی پر نظر دوڑائیں تو فیلڈ مارشل اور صدر کے عہدے بیک وقت اپنے پاس رکھنے والے جنرل ایوب خان تاریخ میں ایک ولن قرار پائے تھے کیونکہ ایسا کرنے کے لیے انہوں نے ائین شکنی کی تھی۔ لہذا ایسی بے بنیاد افواہوں پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسی دوران اب مسلم لیگ نون کے سینیٹر اور میاں نواز شریف کے قریبی ساتھی نے بھی آصف زرداری کی رخصتی کی افواہوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ خبر کی تلاش اور اُسکی سچائی کا یقین اچھے رپورٹر کی پیشہ ورانہ اخلاقیات کا مرکز ومحور ہوتا ہے۔ ’خبر‘ اُس کی جان بھی ہوتی ہے، پہچان بھی اور مان بھی۔ سو وہ ’خبر‘ ہی کے حوالے سے جانا، پہچانا اور مانا جاتا ہے۔ خبر کی تلاش میں ناکامی کا دِن اُس کے لئے ’یوم سوگ‘ ہوتا ہے اور خبر کے غلط نکلنے کو وہ ماتھے کا ایسا بدنُما داغ سمجھتا ہے کہ ساتھیوں کا سامنا کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر آصف زرداری کو ہٹا کر ان کی جگہ عاصم منیر کو نیا صدر بنانے کی خبر جیو نیوز سے وابستہ سینیئر صحافی اعزاز سید نے دی تھی۔

عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں ایڈیٹر کا ادارہ اتنا مضبوط ہوتا تھا کہ کوئی غیر مصدقہ خبر اُس کی چھلنی سے نکل نہیں پاتی تھی۔ انکے مطابق اخباری صحافت سے ٹیلی ویژن کے جہانِ رنگ وبُو میں آ نکلنے والے رپورٹرز یا صحافی، آج بھی خبر کے بارے میں خاصی حساسیت رکھتے ہیں چونکہ انہیں اپنے نام اور اپنے ادارے کی ساکھ کا خیال ہوتا ہے۔ لیکن میں جس اخباری صحافت کی بات کر رہا ہوں، وہ اب عہدِ رفتہ کی کہانی لگتی ہے۔ گویا کہ آج بھی مستند اخبارات میں ایڈیٹوریل سسٹم موجود ہے اور ’رپورٹنگ‘ کا معیار بھی ٹھیک ہے۔

لیکن سوشل میڈیا پر ایسا کوئی ادارتی کنٹرول نہیں، خصوصا جب رپورٹر خود ہی وی لاگ کرتے ہوئے اپنا اپنا ایڈیٹر بھی خود بنا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ’’سوشل میڈیا‘‘ کے زلزلے نے پاکستانی صحافت میں سب کچھ تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ ’ خبر‘ کا چہرہ بُری طرح مسخ کر دیا گیا ہے۔ ہر قسم کی حدود وقیود سے بے نیازی اور سچ جھوٹ کی تمیز کی بے لحاظی اس کا منشورِ اول بھی ہے اور ہتھیار بھی۔ جس ’خبر‘ کو رپورٹر، کوہِ قاف کی شہزادی جان کر، کٹھن راستوں پر اُس کی تلاش کو نکلا کرتے تھے، وہ اب بازار کی لونڈی بنا دی گئی ہے۔

عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ خبر کی تکریم، اُس پر اعتبار اور یقین میں ہے۔ جوں ہی اُس کے چہرے پر شک، جھوٹ اور بے یقینی کی ہلکی سی گرد پڑی، وہ اپنی عصمت گنوا بیٹھی۔ سوشل میڈیا کے شہ سوار پچھلے عہد کے اُن رپورٹرز کی مشقت کو کارِ حماقت خیال کرتے ہیں جن کے لئے خبر تلاشنا جان جوکھوں کا کام تھا۔ آج کے رپورٹرز خبر تلاشنے کے مشکل کام سے بچ کر خبر تراشنے کے آسان ترین ہُنر میں طاق ہونے کو زیادہ سود مند خیال کرتے ہیں۔ خبریت سے محروم اس آمیزے میں عام قاری کی تسکین کا وافر سامان موجود ہوتا ہے۔ سو گلشن کا کاروبار کبھی مندے کا شکار نہیں ہوتا، اور ہمیشہ عروج پہ رہتا ہے۔ جھوٹ سے لذت کشید کرنے والے بازارِ حصص میں اس کی قیمت کبھی نہیں گرتی۔

 

Back to top button