بلوچستان کے سرکاری مال خانے سے چھ من منشیات کس نے چرائی؟

 

 

 

بلوچستان کے ضلع دُکی کے سرکاری مال خانے سے چھ من سے زائد افیون اور چرس کی چوری نے جہاں پورے محکمے میں ہلچل مچادی ہے وہیں کئی تشویشناک خدشات کو بھی جنم دے دیا ہے۔ اس مبینہ واردات کا سب سے دلچسپ اور ناقابلِ یقین پہلو یہ ہے کہ دُکی کے جوڈیشل کمپلیکس میں واقع اس مال خانے کی کھڑکی توڑ کر داخل ہونے والے نامعلوم چوروں نے حیران کن طور پر وہاں موجود دیگر اشیا کو ہاتھ تک نہیں لگایا،بس افیون اور چرس سمیٹی اور رفوچکر ہو گئے۔ 270 کلو افیون اور 37 کلو چرس کی اس ’منتخب‘ چوری نے نہ صرف حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دئیے ہیں بلکہ یہ خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے کہ آیا یہ واردات واقعی باہر سے ہوئی، یا کہانی کے دھاگے کہیں اندر ہی اندر الجھے ہوئے ہیں۔

 

بلوچستان میں سرکاری تحویل میں رکھی گئی منشیات کا یوں غائب ہو جانا کوئی معمولی واقعہ ہے کیونکہ یہ واردات دُکی کے اس سرکاری مال خانے میں پیش آئی جو ایڈمنسٹریٹو اینڈ جوڈیشل کمپلیکس میں واقع ہے اور بظاہر ایک محفوظ مقام سمجھا جاتا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق 27 اور 28 جنوری کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے مال خانے کی کھڑکی توڑ کر اندر داخل ہو کر وہاں موجود منشیات کے متعدد پارسل چرا لیے۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ چوری شدہ منشیات کی مجموعی مقدار چھ من سے زائد تھی، جس میں 270 کلو افیون اور 37 کلو چرس بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ منشیات سابق لیویز فورس کی جانب سے ضلع دُکی کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران برآمد کی گئی تھیں۔ چونکہ ان منشیات سے متعلق مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت تھے، اس لیے انہیں تلف کرنے کے بجائے مال خانے میں محفوظ کیا گیا تھا۔

 

اس چوری کی واردات کا دلچسپ امر یہ ہے کہ مال خانے میں دیگر اشیا بھی موجود تھیں، تاہم ایف آئی آر اور پولیس حکام کے مطابق چوروں نے صرف منشیات کو نشانہ بنایا اور باقی سامان کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ اسی پہلو نے اس واقعے کو عام چوری کے بجائے ایک غیر معمولی اور مشکوک واردات بنادیا ہے۔ اس حوالے سے دُکی پولیس کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا کہ مقدمہ درج ہونے کے بعد چوری شدہ منشیات کے 14 پارسل برآمد ہوچکے ہیں، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ ان کے مطابق تفتیش کے دوران یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ برآمد ہونے والے پارسلز میں موجود مواد وہی ہے یا نہیں جو اصل میں برآمدگی کے وقت مال خانے میں رکھا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ خدشہ بھی زیرِ غور ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ خانہ پُری کے لیے بعد میں ان پارسلز میں کوئی اور مواد ڈال کر واپس رکھ دیا گیا ہو۔

 

حکام کے مطابق بظاہر محفوظ تصور کیا جانے والا یہ مال خانہ ضلع کے ہیڈکوارٹر میں ایڈمنسٹریٹو اینڈ جوڈیشل کمپلیکس میں واقع ہے جو پہلے لیویز فورس کے کنٹرول میں تھا لیکن اب چونکہ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کر دیا گیا ہے۔ لیویز فورس کے پولیس میں انضمام کے بعد یہ مال خانہ مرحلہ وار پولیس کے حوالے کیا جا رہا تھا۔ جس دوران چوری کی یہ واردات سامنے آئی ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے ضلع دُکی کے ڈپٹی کمشنر نعیم خان نے بتایا کہ پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے جلد حقائق سامنے آ جائیں گے۔

محمود اچکزئی نے عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کا پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا

خیال رہے کہ ضلع دُکی ان علاقوں میں شامل رہا ہے جہاں گزشتہ برس بلوچستان میں پوست کی کاشت کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی تھیں۔ ایسے میں سرکاری تحویل میں موجود منشیات کی اس نوعیت کی چوری نے انسدادِ منشیات کی پالیسی، سکیورٹی انتظامات اور ادارہ جاتی نگرانی پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ یہ واقعہ صرف ایک چوری نہیں بلکہ ایک ایسا معاملہ بنتا جا رہا ہے جو ریاستی تحویل، ادارہ جاتی ذمہ داری اور شفافیت کے دعوؤں کو کڑی آزمائش میں ڈال رہا ہے۔ تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ یہ طے ہونا باقی ہے کہ آیا یہ واردات واقعی چند نامعلوم چوروں کی کارستانی تھی، یا اس ’منتخب‘ چوری کے پیچھے کوئی منظم اور اندرونی ہاتھ پوشیدہ ہے۔

 

Back to top button