نواز شریف کی جیل جا کر عمران سے ملاقات کی خواہش کس کی ہے؟

کئی کتابوں کے مصنف اور معروف لکھاری محمد حنیف نے کہا ہے کہ عمران خان کے عاشقان کی یہ تازہ ترین خواہش پوری ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اڈیالہ جیل میں جا کر بانی تحریک انصاف کے ساتھ ملاقات کریں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ عمران کے اپنے دور حکومت میں نواز شریف کئی برس جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند رہے۔ تب عمران خان عوامی اجتماعات میں یہ اعلان کیا کرتے تھے کہ میں میاں صاحب کے جیل سیل سے ٹی وی اور ایئر کنڈیشنر بھی اتروا لوں گا۔

بی بی سی اردو کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں محمد حنیف کہتے ہیں کہ عمران خان کے عاشقوں کو خواب دیکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا، اب انکا ایک نیا خواب یہ ہے کہ نواز شریف اڈیالہ جیل جائیں۔ اس کے بعد وہ عمران خان کا ہاتھ پکڑ کر جیل کے دروازے سے برآمد ہوں اور اعلان کر دیں کہ آج سے عمران ہی میرا لیڈر ہے، خان کے انصاف پسند یوتھیوں کی خواہش ہے کہ اگر ایسا نہ ہو سکے تو پھر کُچھ ایسا ہو جائے کہ نواز شریف اڈیالہ جیل کے اُسی سیل میں بند کر دیے جائیں جس میں قیدی نمبر 804 پچھلے دو برس سے بند ہے۔ اس کے بعد عمران کو جیل سے رہا کر دیا جائے اور وہ پھر سے راج کرنے لگے۔

تاہم محمد حنیف کہتے ہیں کہ خواب دیکھنے پر فی الحال مُلک میں کوئی پابندی نہیں، لیکن وہ نظام جو اپنے آپ کو ہائبرڈ کہتا ہے اُس میں اب یہ صلاحیت موجود ہے کہ ایک عوامی لیڈر کو طویل عرصے تک جیل میں بند رکھ سکے۔

اب یہ بھی ممکن ہے کہ ایک کے بعد دوسرا مقدمہ جیل میں ہی چلے، اور یہ سب کُچھ اس اُمید میں کیا جا رہا ہے کہ آہستہ آہستہ عاشقان خان اپنے معشوق کو بھولتے جائیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کے سیاسی کارکن سیاسی کم اور رومانی زیادہ ہیں۔ وہ اُن کے نظریے سے زیادہ اُن کی ذات سے پیار کرتے ہیں۔

محمد حنیف کہتے ہیں کہ یوتھیے عاشق خواب بہت زیادہ دیکھتے ہیں۔ انکا پہلا خواب یہ تھا کہ ملک میں کوئی ایسا تھانیدار ہی پیدا نہ ہو جو عمران کو گرفتار کر سکے۔ لیکن ہوا یہ کہ تھانیداروں کا بھی تھانیدار پیدا ہو گیا اور اس نے کپتان کو کان سے پکڑ کر اندر کر دیا۔ تاہم یوتھیوں کو اُمید تھی کہ جنرل فیض حمید کے طفیل فوج میں پھوٹ پر جائے گی جسکے بعد خان کے مداح جرنیل اُنہیں اقتدار میں واپس  لانے کی کوئی ترکیب کریں گے۔ لیکن ہوا اس کے برعکس اور اب عمران کے لیے چیف منصوبہ ساز کی ذمہ داریاں سر انجام دینے والے جنرل فیض حمید کو فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دور میں خود کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔

محمد حنیف کا کہنا کہ اس کے بعد عاشقان عمران خان کو خیال آیا کہ چونکہ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں، لہذا کیوں نہ ہم احتجاج کریں۔ انکا خیال تھا کہ جب سر پر کفن باندھے عاشقان کپتان اسلام آباد کا رخ کریں گے تو اڈیالہ جیل کے بند دروازے خود بخود کُھل جائیں گے۔ لیکن یہ منصوبہ بھی تب الٹا پڑ گیا جب 26 نومبر 2024 کی رات کو بشری بی بی اور علی امین گنڈاپور اپنی جوتیاں چھوڑ کر اسلام اباد سے پشاور کی جانب فرار ہو گئے۔ اسکے بعد عاشقان بھی آنسو گیس کھا کر گھروں کو واپس چلے گئے اور فی الحال دوبارہ ڈنڈے کھانے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ اس دوران اگر کسی کو عدلیہ سے کوئی اُمید تھی تو وہ واقعی معصوم ٹائپ کے عاشق تھے۔

محمد حنیف کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا عمران خان کو نہ قید کروا سکتا تھا، نہ چھڑوا سکتا ہے۔ جو نام نہاد باغی یوٹیوبرز خان کے ساتھ تھے ان میں سے زیادہ پاڈے تیتر اور بٹیر تو بیرون ملک فرار ہو گئے، جبکہ باقیوں نے توبہ کر لی۔ بیرونِ مُلک پاکستانیوں کو عمران اپنا اثاثہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے پیچھے مُڑ کر دیکھنے کی بجائے سیدھا امریکی صدر ٹرمپ کے دروازے پر دستک دی۔ لیکن ظالم ٹرمپ نے عمران کو رہا کروانے کی بجائے سب تھانیداروں کے تھانیدار کو پہلے کھانے کی دعوت دے ڈالی اور پھر یہ اعلان کر دیا کہ یہ والا جرنیل تو واقعی بڑا زبردست آدمی ہے۔

کیا فاطمہ جناح ثانی بننے کی علیمہ خان کی کوشش کامیاب ہو گی ؟

محمد حنیف کہتے ہیں کہ یہ سب ہو جانے کے بعد یوتھیوں کی ‘اب تیرے پیار میں رُسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے’ والی کیفیت تھی لیکن پھر ایک اور خواب دیکھا گیا۔ اس خواب کے مطابق نواز شریف اڈیالہ جیل میں عمران سے ملاقات کریں گے۔ یعنی جس شخص کو نااہل کروا کر، اقتدار سے نکال کر جیل میں ڈالا گیا، جس کے خلاف دھرنے دیے گے جسے ‘چور چور’ کہہ کر عمران وزیراعظم بنے، وہ اڈیالہ جیل پہنچ کر عمران سے ملاقات کرے گا؟ یہ خواب دیکھنے والے عمران کے عاشقان بھی کمال کرتے ہیں۔ نواز شریف زیادہ سے زیادہ عمران کو یہی بتا سکتے ہیں کہ آج جو تمہارے ساتھ ہو رہا ہے، میرے ساتھ بھی یہی ہوا تھا اور تم ہی نے کروایا تھا۔ عمران خان کا جواب تو عمران خان ہی جانتے ہیں لیکن اُن کے حامی پہلے سے ہی کہہ رہے ہیں کہ نہ تو ہمارے لیڈر کا کوئی بھائی ہے جسے وہ وزیر اعظم بنائے، اور  نہ اُس کی کوئی بیٹی ہے جو پنجاب پہ راج کرے۔ تاہم ایسا کہتے ہوئے وہ بھول جاتے ہیں کہ کپتان کی تیسری اہلیہ بشری بی بی اور ان کی ہمشیرہ علیمہ خان ان کے بعد ان کی سیاسی میراث سنبھالنے کے لیے بے چین ہیں۔

Back to top button