30 برس پہلے پاکستان میں پہلے خودکش حملے کے پیچھے کون تھا؟

19 نومبر 1995 کو پاکستان کی تاریخ میں پہلا خودکش حملہ تب ہوا جب اسلام آباد میں واقع مصری سفارتخانے پر ایک دو مرحلوں پر مبنی ایک منظم دہشت گردانہ کارروائی کی گئی جس کا منصوبہ ساز ڈاکٹر ایمن الظواہری تھا جو بعد میں اسامہ بن لادن کی کی موت کے بعد القاعدہ کا سربراہ بنا۔

ملکی تاریخ کا یہ پہلا خودکش حملہ نہ صرف پاکستان میں دہشت گردی کے نئے دور کی ابتدا ثابت ہوا بلکہ اس نے بین الاقوامی جہادی نیٹ ورکس کے آپریشنل رابطوں، مالیاتی ذرائع اور علاقائی مقاصد کو بھی بے نقاب کیا۔ یہ حملہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کی جانب سے عالمی سطح پر اپنی طاقت کے اظہار کی پہلی بڑی کارروائی تھا، جو بعد میں القاعدہ کی قیادت تک ان کے سفر کا پیش خیمہ بنی۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الزواہری دونوں امریکی حملوں میں مارے گئے۔ اسامہ پاکستانی شہر ایبٹ اباد میں ایک کمانڈو ایکشن کے دوران مارے گئے جبکہ ظواہری افغانستان کے حکومت کابل میں ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔

19 نومبر 1995 کو اتوار کا دن تھا، مگر چونکہ اس دور میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی تھی، اس لیے دارالحکومت اسلام آباد معمول کے مطابق سرگرم تھا۔ اس دوران صبح تقریباً ساڑھے نو بجے دو افراد سفارتخانے کے باہر پہنچے اور گولیوں اور دستی بموں کے ذریعے سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنا ڈالا۔ اس کے فوراً بعد 250 پاؤنڈ بارود سے بھرا ایک ٹرک تیزی سے سفارتخانے کے گیٹ کو توڑتا ہوا اس کے احاطے میں داخل ہو گیا۔ شدید دھماکے سے عمارت کا بڑا حصہ لرز اٹھا۔

اس دھماکے کے صرف تین منٹ بعد ایک جیپ، جس میں ٹرک سے بھی بڑا بم نصب تھا، سفارت خانے کی عمارت سے ٹکرائی اور پھٹ گئی۔ یوں مصری سفارتخانے کا ایک پورا حصہ زمین بوس ہوگیا۔ ویزا سیکشن کی جگہ دس فٹ گہرا گڑھا بن گیا جبکہ اردگرد واقع جاپانی اور انڈونیشین سفارت خانے اور قریبی بینک بھی متاثر ہوئے۔ یہ پاکستان میں ہونے والا پہلا خودکش حملہ تھا جس میں دونوں حملہ آوروں سمیت کم از کم 17 افراد ہلاک اور تقریباً 60 زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان میں مصری سفارتخانے کے سیکنڈ سیکریٹری، تین مصری سکیورٹی گارڈز، پاکستانی اہلکار، عام شہری اور چار غیر ملکی سفارتکار شامل تھے۔ مصری سفیر اتفاقاً اس روز موجود نہیں تھے جس کے باعث وہ محفوظ رہے۔

ابتدائی طور پر تین مختلف مصری عسکری تنظیموں نے حملے کی ذمہ داری قبول کی، لیکن پاکستان اور مصر دونوں کے حکام کو جلد ہی یقین ہوگیا کہ اس کارروائی کے پیچھے ڈاکٹر ایمن الظواہری کا ہاتھ ہے۔ تربیت یافتہ سرجن ڈاکٹر ایمن الظواہری اس وقت مصری اور بین الاقوامی جہادی نیٹ ورکس میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ وہ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے سربراہ بنے۔ ان کی یادداشتوں سے بھی واضح ہوا کہ اسلام آباد میں مصری سفارتخانے پر حملہ مصر کی حکومت کے خلاف انتقام کے طور پر کیا گیا تھا، جس نے بیرونِ ملک جہادیوں کے خلاف کارروائیاں بڑھا دی تھیں۔ڈاکٹر ظواہری نے اپنی تحریروں میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ اسلام آباد میں مصری سفارتخانہ عرب مجاہدین کی جاسوسی کر رہا تھا اور انہیں اپنے مخالفین کے خلاف معلومات فراہم کرتا تھا، اس لیے اسے نشانہ بنانا ضروری سمجھا گیا۔ اس خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں القاعدہ اور دیگر شدت پسند گروہوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔

تحقیقات کے دوران پتہ چلا کہ اس حملے کے شریک کاروں میں سے ایک کو چوری شدہ لبنانی پاسپورٹ مہیا کیا گیا جبکہ ایک مصری ملزم ابو دہب نے اعتراف کیا کہ حملے کی مالی معاونت امریکہ کے کیلیفورنیا بینک کے ایک خفیہ اکاؤنٹ سے کی گئی تھی۔ حملے کے بعد پاکستانی حکام کو سب سے اہم سراغ تب ملا جب ٹرک کے ملبے سے انجن سالم حالت میں برآمد ہوا۔ اس کے چیسز نمبر کے ذریعے ٹرک کے آخری رجسٹرڈ مالک تک پہنچا گیا، جس نے اعتراف کیا کہ اس نے ٹرک دو افراد کو فروخت کیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ چند ہی دنوں میں چھ مصری، دو افغان اور دو اردنی شہری گرفتار کیے گئے جبکہ فیصل آباد سے مزید دو مشتبہ سوڈانی شہری پکڑے گئے۔

معروف امریکی جریدے شکاگو ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق ایک کینیڈین شہری احمد خضر بھی حراست میں لیا گیا۔ دسمبر 1995 تک کم از کم 16 افراد گرفتار ہو چکے تھے، جبکہ بعد کے برسوں میں جنوبی افریقہ اور کویت سے بھی ملزمان کو گرفتار کرکے مصر کے حوالے کیا گیا۔ 1999 میں اس حملے میں ملوث 71 مشتبہ افراد کے کیسز مصری فوجی عدالتوں میں چلائے گے۔ خودکش حملے کے محرکات میں مصر کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن، بیرونِ ملک مصری بنیاد پرستوں کی گرفتاریوں میں اضافہ اور عرب جہادیوں کی جاسوسی شامل تھے۔

سابق پاکستانی وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے مطابق یہ حملہ تب ہوا جب پاکستانی حکام نے 10 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کے بعد مصر کے حوالے کیا تھا۔ یہ کارروائی امریکہ میں ایک ٹرک بم دھماکے میں ملوث ملزم رمزی بن یوسف کی ڈیرہ غازی خان سے گرفتاری اور حوالگی کا انتقام تھی۔ اسلام اباد میں مصری سفارت خانے پر خودکش حملے کی خبر جب افغانستان کے جہادی کیمپوں تک پہنچی تو وہاں جشن منایا گیا اور شدید ہوائی فائرنگ کی گئی۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں اسامہ بن لادن امریکہ سے جلا وطن ہونے کے بعد افغانستان میں قیام پذیر تھے اور جہادی کیمپ چلایا کرتے تھے۔

Back to top button