لندن میں خواجہ آصف کو دھمکی دینے والا شخص کون تھا؟

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ لندن میں انہیں دھمکی دینےوالے شخص نے غلط زبان استعمال کی، وہ شخص دس منٹ تک دھمکیاں دیتا رہا، خیال ہے دھمکیاں دینےوالا پی ٹی آئی کا ورکر تھا۔
لندن میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ میں اور میرا تایا زاد بھائی بونڈ اسٹریٹ سے ریڈنگ جارہے تھے،دھمکی دین والے شخص کے ساتھ خواتین بھی تھیں،ایک اور بھی بندہ تھا، انہوں نے غلط زبان استعمال کی۔
خواجہ آصف نے کہاکہ لندن میں چھری ماری جا سکتی ہے،مجھے کوئی خوف نہیں آیا، میں بالکل نارمل تھا،میں نےکوئی ردعمل نہیں دیا،لوگ آواز کستے ہیں، یہ نارمل ہے، سیاست میں اس طرح ہوتا ہے لیکن اس طرح کی تشدد کی دھمکی کا پہلے کبھی اتفاق نہیں ہوا۔
رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نے بتایاکہ واقعہ کی ویڈیو پوری نہیں ہے، وہ دس منٹ تک دھمکیاں دیتا رہا،ویڈیو چند سیکنڈز کی ہے،
میرا خیال ہےیہ پی ٹی آئی کا ورکر تھا،پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے،وہ اس قسم کی وڈیوز اپ لوڈ کرتےہیں ۔
انہوں نے کہا کہ حملہ آور نے 2 دفعہ کہاکہ ایک دن چاقو لگ جائے گا، یا چاقو لگ بھی سکتا ہے،ویڈیو میں نظر آنےوالی شکلوں کو پاکستان سے بھی ٹریک کیا جاسکتا ہے۔
سینئر رہنما مسلم لیگ ن خواجہ آصف نےکہاکہ کل پولیس سے ہائی کمیشن میں ملاقات ہوئی تھی،پولیس نےمیرا بیان ریکارڈ کیا ہے،پولیس نے ٹرین میں سوار ہونےاور اترنے کی ٹائمنگ بھی پوچھی،پولیس کا اچھا رسپانس تھا۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف نےکہا کہ پاکستان میں میرے ساتھ کوئی گارڈز نہیں ہوتے،انٹر سٹی دورےپر ہوتا ہوں تو کبھی کبھار سکیورٹی ساتھ ہوتی ہے۔
خواجہ آصف کو قتل کی دھمکی دینے والے عمرانڈوکا انجام قریب
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو گالیوں اور چاقو حملےکی دھمکیوں کی ویڈیو منظر عام پر آئی تھی۔
لندن گراؤنڈ اسٹیشن پر نا معلوم شخص نے خواجہ آصف کا تعاقب کرتےہوئے انہیں چاقو حملے کی دھمکی دی۔
دوسری جانب حکومت پاکستان نے وزیر دفاع خواجہ آصف کےساتھ لندن میں پیش آئے واقعےکا نوٹس لیا۔
بعدا زاں خواجہ آصف نے لندن میں قتل کی دھمکی اور ہراساں کرنے کےواقعے کی رپورٹ پولیس کو درج کرائی تھی۔
