خامنہ ای کی موت کے بعد ان کا ممکنہ جانشین کون ہو گا؟

 

 

 

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت اور انکے 37 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ان کی جانشینی کا عمل شروع تو ہو گیا ہے، لیکن بظاہر اقتدار کی منتقلی اتنی آسان نہیں ہوگی جتنی بیرونی دنیا سمجھ رہی ہے۔

 

یاد رہے کہ سپریم لیڈر ایران کے پیچیدہ مذہبی و سیاسی نظام میں مرکزیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہ ملک کی تمام ریاستی امور پر حتمی فیصلے کرتا ہے اور افواج اور پاسدارانِ انقلاب کا کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب وہ نیم فوجی فورس ہے جسے امریکہ نے سنہ 2019 میں دہشت گرد تنظیم قرار دیا، اور یہ فورس مشرق وسطیٰ میں ’مزاحمتی بلاک‘ کی قیادت کرتی ہے، ساتھ ہی ایران کے معاشی وسائل اور اہم اثاثوں پر بھی گہرا اثر و رسوخ رکھتی ہے۔

 

آئین کے تحت ایران میں عارضی قیادت کے فرائض سنبھالنے کے لیے ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کونسل موجودہ صدر، عدلیہ کے سربراہ اور ’گارڈین کونسل‘ کے ایک رکن پر مشتمل ہے، جسے مصلحت کونسل منتخب کرتی ہے۔ یہ کونسل سپریم لیڈر کو مشورے دینے اور پارلیمنٹ کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازعات کو حل کرنے کے لیے ذمہ دار ہے۔

 

اصلاح پسند صدر مسعود پزیشکیان اور سخت گیر عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایژه‌ای اس عارضی قیادت کونسل کے ارکان ہیں اور اب عبوری طور پر سپریم لیڈر کے تمام فرائض سنبھالیں گے۔ اس کونسل کے قیام سے یقینی بنایا جائے گا کہ حکومت کا نظام بلا تعطل چلتا رہے، تاہم مستقل قیادت کے لیے ایران کو آئینی طریقہ کار کے مطابق ’اسمبلی آف ایکسپرٹس‘نیا خبرگانِ رہبری کی کارروائی ضروری ہے۔ یہ 88 رکنی پینل مکمل طور پر شیعہ علماء پر مشتمل ہوتا ہے، جنہیں ہر آٹھ برس بعد عوامی ووٹوں سے منتخب کیا جاتا ہے۔ تاہم، ان کی امیدواروں کی منظوری ’گارڈین کونسل‘ دیتی ہے، جو امیدواروں کو نااہل قرار دینے کے حوالے سے مشہور ہے۔ مثال کے طور پر سابق صدر حسن روحانی مارچ 2024 میں اس اسمبلی کے انتخاب لڑنے سے روک دیے گئے تھے، جو اس ادارے کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

 

خامنہ ای کے جانشینی کے حوالے سے علماء کی اندرونی مشاورت اور جوڑ توڑ عوامی نظروں سے اوجھل رہتی ہے، اس لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اگلا سپریم لیڈر کون ہوگا۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ خامنہ ای کے تربیت یافتہ سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی اس منصب کو سنبھالیں گے، لیکن وہ مئی 2024 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

اب خامنہ ای کے 56 سالہ بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای ایک ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں، حالانکہ انہوں نے کبھی بھی کسی سرکاری عہدے پر کام نہیں کیا۔ اگرچہ وہ خاندان کی میراث کو آگے بڑھا سکتے ہیں، لیکن اس طرح کی منتقلی ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد ایک ’مذہبی بادشاہت‘ کے قیام کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے، جس پر عوام اور نظام کے سخت حامی بھی شدید غصے کا اظہار کر سکتے ہیں۔

 

مزید ممکنہ امیدواروں میں سخت گیر علما اور سابق سرکاری عہدے دار شامل ہیں، جو خامنہ ای کے نیٹ ورک اور سخت گیر طاقت کے مراکز سے قریب ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اہم احمد جنتی ہیں، جو گارڈین کونسل کے طویل المیعاد رکن اور خبرگانِ رہبری میں اثر و رسوخ رکھنے والے مذہبی عالم ہیں۔ ان کے علاوہ حسین نوری همدانی، جو قم میں مقیم سینئر عالم دین ہیں اور مذہبی حلقوں میں اعلیٰ احترام رکھتے ہیں، بھی ممکنہ امیدوار کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ابراہیم رئیسی کے وفادار ساتھی، جو رئیسی کے شاگرد یا نزدیک رہنے والے سخت گیر سیاستدان ہیں، بھی جانشینی کے لیے زیر غور ہو سکتے ہیں۔

کیا ایران کے خلاف جنگ پورے مڈل ایسٹ میں پھیل جائے گی ؟

عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے سپریم لیڈر کا انتخاب خامنہ ای کے سخت گیر نیٹ ورک، پاسدارانِ انقلاب اور اعلیٰ علما کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر یہ توازن برقرار نہ رہا تو ایران میں سیاسی خلا پیدا ہو سکتا ہے، جس سے داخلی کشیدگی اور عوامی احتجاج کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت، ایران میں کوئی واضح یا تجربہ کار متبادل موجود نہیں ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جانشینی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ دنیا کی نظریں اب خبرگانِ رہبری پر ہیں کہ وہ کس طرح ایک نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں اور ایران کے مذہبی و سیاسی نظام میں استحکام برقرار رکھتے ہیں۔

 

فی االحال مجلس خبرگان رہبری نے علی رضا اعرافی کو ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کا سربراہ نامزد کر دیا ہے۔ یہ کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی۔ اس تین رکنی کونسل میں ایرانی صدر پزشکیان اور ایران کے چیف جسٹس شامل ہیں۔ ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ مجلس خبرگان رہبری کی جانب سے نیا سپریم لیڈر منتخب کیے جانے تک یہ کونسل رہبر کے فرائض انجام دے گی۔

 

Back to top button