جسٹس یحییٰ آفریدی کے انکار پر چیف جسٹس آف پاکستان کون ہونگے؟

26ویں آئینی ترمیم کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے حوالے سے گہما گہمی جا ری ہے جہاں ایک طرف تحریک انصاف نے کھل کر جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس مقرر کرنے کی کمپین شروع کر رکھی ہے اور جسٹس منصور علی شاہ کو چیف جسٹس تعینات نہ کرنے پر وفاق پر دوبارہ حملے کی دھمکیاں دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب سینئر صحافی انصار عباسی کا دعویٰ ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس تعیناتی کا امکان ختم ہو چکا ہے۔چیف جسٹس کے عہدے کےلیے جسٹس یحییٰ آفریدی حکومت کی پہلی پسند ہیں جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کے انکار کی صورت میں جسٹس امین الدین خان چیف جسٹس کیلئے حکومت کے پاس دوسرا آپشن ہوں گے۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس کی تقرری کے لیے خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ آج رات 12 بجے تک تین سینئر ججز کے نام دینے کے پابند ہیں جن میں سے نئے چیف جسٹس کا انتخاب کیا جائے گا۔
تاہم مبصرین کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے اپنے فیصلوں اور ریمارکس میں عمرانداری کی واضح ثبوت دینے کے بعد ان کے چیف جسٹس تعینات کئے جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ مخصوص نشستوں بارے جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے 8 رکنی عمرانڈو بینچ کے فیصلے اور اس پر آنے والی پے در پے وضاحتوں سے نہ صرف حکومت بلکہ مقتدر حلقے بھی سخت نالاں ہیں ان کا کہنا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اس فیصلے اور اس پر دی جانے والی وضاحتوں سے خود کو پی ٹی آئی کے ساتھ نتھی کر لیا ہے۔ کیونکہ جسٹس منصور علی شاہ کے اس فیصلے نے ن لیگ ، پی پی اور دیگر پارٹیوں کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 78 سیٹوں سے محروم کر دیا ہے۔
اس حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف نے خصوصی نشستوں کے معاملے میں 12؍ جولائی کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے 8؍ ججز پر شدید تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ سپریم کورٹ کے عمراندار ججز پارلیمنٹ کیخلاف گینگ اپ ہوئے تھے اور کسی بی صورت عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے خواہاں تھے۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے 8 ججزسارے جمہوری سسٹم کو یرغمال بنانا چاہتے تھے تاکہ ہم عمراندار چیف جسٹس کے تابع ہو جائیں اور وہ چیف جسٹس پورے سسٹم کو ملیا میٹ کر دے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا الیکشن کمیشن ادارہ نہیں؟ کیا پارلیمنٹ ادارہ نہیں؟ کیا یہی ایک ادارہ رہ گیا ہے جس میں 17-18 آدمی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اداروں کی عزت اُن میں بیٹھے ہوئے اشخاص سے بنتی ہے۔ اگر آج عدلیہ کو دھویا جا رہا ہے، اسے ڈرائی کلین کیا جا رہا ہے تو اُس کی وجہ ہے۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا ہے کہ ان عمراندار ججز کے عزیز و رشتہ دار کہتے ہیں اکتوبر وچ ساڈا لیڈر آیا اے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسی لئے میں نے کہا تھا کہ ملک میں خدانخواستہ کانسٹی ٹیوشنل میلٹ ڈاؤن نہ ہو جائے۔ خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ میں کوئی سنی سنائی بات نہیں کر رہا،مخصوص نشستوں بارے فیصلے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا جا رہا تھا کہ اکتوبر میں ہم اپنے بندے یعنی عمران خان کو لے کر آ رہے ہیں تاہم ہم نے عمراندار ججز کے تمام پلان فیل کر دئیے ہیں اب اس اکتوبر کیا اگلے اکتوبر بھی موجودہ حکومت ہی برسر اقتدار ہو گی اور یہ ججز اپنے دائرے تک محدود دکھائی دینگے
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگلے چیف جسٹس کی نامزدگی میں کمیٹی میں موجود پیپلز پارٹی کے ارکان کی رائے اہم ہوگی کیونکہ بلاول بھٹو زرداری ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ جسٹس منصور علی شاہ اگلے چیف جسٹس ہوں گے، تاہم وکلا کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی میں طاقتور حلقوں کا کردار بھی اہم ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق جسٹس منصور ایک عمراندار آزاد خیال جج ہیں اور وی طاقتور حلقوں میں کبھی پسند نہیں کیے گئے، مبصرین کے مطابق چیف جسٹس کی تعیناتی میں آئینی ابہام اس وقت پیدا ہوگا اگر نامزد کیا گیا جج چیف جسٹس بننے سے انکار کردیتا ہے، ایسی صورتحال میں بعض قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ تینوں سینئر ترین ججز میں سے اگر کسی ایک نے چیف جسٹس بننے سے انکار کردیا تو باقی دو کے درمیان میں سے چیف جسٹس کی نامزدگی کی جائے گی۔ تاہم سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق جسٹس یحییٰ آفریدی حکومت کی پہلی چوائس ہیں تاہم ان کے انکار کی صورت میں دیگر دو سینئر ترین ججز یعنی جسٹس منصور علی شاہ یا جسٹس منیب اخت کی بجائے جسٹس امین الدین خان کو چیف جسٹس تعینات کر دیا جائے گا۔
انصار عباسی کے مطابق 26ویں آئینی ترمیم کے مطابق 12 رکنی کمیٹی چیف جسٹس پاکستان کے تقرر کیلئے سپریم کورٹ کے 3؍ سینئر ترین ججز میں سے ایک نام وزیراعظم کو تجویز کرے گی اور وزیراعظم یہ نام منظوری کیلئے صدر مملکت کو ارسال کریں گے۔انصار عباسی کے مطابق نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نئے چیف جسٹس کا فیصلہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کرے گی۔وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ وہ، صدر آصف علی زرداری اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر ملک کے سیاسی اور معاشی استحکام کے معاملات پر ایک پیج پر ہیں۔ آئین میں کی گئی تازہ ترین ترامیم سیاسی استحکام کو یقینی بنائیں گی کیونکہ سیاسی استحکام ملک کے معاشی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔
