27ویں ترمیم کسے طاقتور بنائے گی اور کسے کمزور کرے گی؟

 

 

 

آئین میں 27 ویں ترمیم سے جہاں فوج اور آرمی چیف کی طاقت بڑھ جائے گی اور عدلیہ کے اختیارات کم ہو جائیں گے وہیں پارلیمنٹ کے اندر حکومت تگڑی اور اپوزیشن کمزور ہو جائے گی۔

آئینی ماہرین کے مطابق عدالتی تبادلوں کے نئے اختیارات سے عدلیہ کی خودمختاری متاثر ہو گی اور عمراندار ججز کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔ جبکہ فوج کے حوالے سے ترامیم کے نتیجے میں عسکری قیادت نہ صرف مزید مضبوط ہو جائے گی بلکہ اسکے ایکشنز کو آئین کے تحت تحفظ بھی حاصل ہو جائے گا۔

 

یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے 27ویں ترمیم کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ  اسکے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گی ۔ ادھر حکومت کا یہ موقف ہے کہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا جمہوری حق ہے جیسے کہ ماضی میں تحریک انصاف کی حکومت بھی استعمال کرتی رہی ہے۔ یاد رہے کہ سینیٹ نے پہلے مرحلے میں 27 ویں ترمیم کو منظور کر لیا ہے جس کے بعد قومی اسمبلی سے بھی اسکی منظوری حاصل ہونے کا روشن امکان ہے۔ اس ترمیم سے ملک کے عدالتی اور عسکری ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔

 

27 ویں ترمیم کا مرکزی نکتہ وفاقی آئینی عدالت کا قیام ہے، جو آئین کی تشریح، بین الصوبائی تنازعات، بنیادی حقوق کے نفاذ اور آئینی اپیلوں کی واحد اتھارٹی بن جائے گی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کی حیثیت محدود ہو کر صرف دیوانی اور فوجداری مقدمات تک رہ جائے گی۔ یوں ملک کے عدالتی نظام میں طاقت کا مرکز سپریم کورٹ سے ہٹ کر نئی آئینی عدالت کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ ترمیم کے مطابق سپریم کورٹ کا سوموٹو اختیار ختم اور آئینی نوعیت کے اختیارات آئینی عدالت کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تعیناتی صدر وزیراعظم کی ایڈوائس پر کریں گے، جبکہ ان کی ریٹائرمنٹ کی عمر 68 سال مقرر کی گئی ہے جو سپریم کورٹ کے ججوں سے تین سال زیادہ ہے۔

 

تاہم اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے قانونی حلقوں نے عدالتی ترامیم پر سوال اٹھایا ہے۔ سب سے متنازع پہلو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں کے تبادلے اور ریٹائرمنٹ سے متعلق قرار دیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ نئی ترمیم کے بعد اگر کوئی جج کسی دوسرے صوبے میں اپنا تبادلہ قبول کرنے سے انکار کرے گا تو اسے ریٹائر تصور کیا جائے گا۔ ماہرین قانون کے مطابق یہ شق عدلیہ کی آزادی پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور حکومت کو ناپسندیدہ ججوں کے خلاف من مانی کارروائی کا اختیار دے سکتی ہے۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ 27ویں ترمیم سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ صرف علامتی بن کر رہ جائے گا اور سارے اختیارات آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے پاس چلے جائیں گے۔ ادھر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ عدالتی ترامیم کا بنیادی مقصد پاکستانی عدلیہ کو غیر سیاسی کرنا ہے چونکہ عمراندار ججز نے اپنے سیاسی فیصلوں کے ذریعے پوری عدلیہ کو گدلا کر دیا تھا۔

27 ویں ترمیم کے بعد 26ویں ترمیم کا کیس ٹھپ ہونے کا امکان

27ویں ترمیم کے عسکری پہلو میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا ہے، جو کہ موجودہ آرمی چیف کے پاس ہو گا۔ اس کے علاوہ جنرل عاصم منیر کو عطا کردہ فیلڈ مارشل کے رینک اور مراعات کو تاحیات آئینی استحقاق حاصل ہوگا۔ بوتا عمر فیلڈ مارشل کے عہدے پر برقرار رہیں گے اور انہیں آئینی استثنی بھی حاصل ہو گا۔ 27 ویں ترمیم کے بعد آئین میں ترمیم کیے بغیر یہ عہدہ ختم نہیں کیا جا سکے گا۔

 

اس کے علاوہ نئی ترمیم کے تحت آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے مابین کوارڈینیشن بہتر بنانے کے لیے نیشنل کمانڈ اینڈ سٹریٹیجک کنٹرول نامی ادارہ بھی قائم کیا جا رہا ہے جس کے سربراہ بھی آرمی چیف ہی ہوں گے۔ یوں جنرل سید عاصم منیر پاکستانی سیاسی تاریخ کے وہ پہلے جنرل بن جائیں گے جن کے پاس ایک نہیں بلکہ چار عسکری عہدے ہوں گے۔ وہ آرمی چیف ہونے کے علاوہ فیلڈ مارشل بھی ہوں گے، کمانڈر آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے اور نیشنل کمانڈ اینڈ سٹریٹیجک کنٹرول اتھارٹی کے سربراہ بھی ہوں گے۔

 

یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کی مخالفت کی وجہ سے 27ویں ترمیم کے مسودے میں سے نیشنل فنانس کمیشن ایوارڈ میں تبدیلی، ایگزیکٹیو مجسٹریسی کی بحالی، اور چیف الیکشن کمشنر کے حوالے سے اصلاحاتی ترامیم نکال دی گئی تھیں۔ پیپلز پارٹی کی مخالفت کے باعث صوبوں کے مالی حصے میں کمی کی تجویز بھی مجوزہ آئینی ترمیمی ڈرافٹ سے خارج کر دی گئی تھی۔ پیپلز پارٹی کا موقف تھا کہ وہ 18 ویں ترمیم کی کسی بھی آئینی شق کو ریورس نہیں کرنے دے گی اور صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

Back to top button